تازہ ترینکالم

سانحہ پشاور ہربشر لرزا اٹھا

waqarامن و امان کی صورتحال تسلی بخش ہو چکی تھی ہر فرد پُر اطمینان تھا،رجائیت پسندی پر عمل پیرا تھا کہ ضربِ عضب کی کامیابی سے جاری ہے درندوں کا صفایا ہو رہا ہے لیکن کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان اور اس کے سفاک حیوانوں نے اس ارضِ وطن کے امن کو بدامنی میں بدل دیا ۔پھولوں کے شہر پشاور کے آرمی پبلک سکول میں دہشت گردی کی ایک ایسی کاروائی جس نے بشریت سے آشنا ہر فرد کو اشکبار کردیا ملال کی وہ نہج جس سے نکلنے میں شاید بہت سا وقت لگے۔132پھول و کلیاں جامِ شہادت نوش کر گئے جبکہ سٹاف کے 9ممبران شہادت سے جا ملے ایسی انسانیت سوز کاروائی جس نے تمام دلوں کو دہلا دیا،بچہ چاہے کسی دشمن کا ہی کیوں نہ ہو لخت جگر لگتا ہے، ہر دل خون کے آنسو رو رہا ہے ۔کیا کوئی انسان ایسا کر سکتا ہے؟ کہ معصوم بچوں کو نشانہ بنائے اپنی ہولناک صفات کا ان سے ان کے سپنے چھین لے، والدین سے ان جگر گوشوں کو روز حشر تک جدا کردے ۔انتہا کی درندگی شہداء کے گھر وں میں صفِ ماتم بچھ گیا ۔کہرام مچ گیا سسکیاں اور آہیں سب کچھ مفلوج ہوگیا بربریت کا اندوہناک واقع جس نے فضا کو سوگوار کردیا۔یہ سانحہ کر کے طالبان نے یہ بتا دیا کہ وہ کسی رحم کے مستحق نہیں ہیں انہوں نے وحشت کی وہ روش اپنائی ہے جو ناقابلِ معافی ہے۔ شہید پھولوں کی ماوُں نے جب اپنے جگر گوشوں کو سکول بھیجا تو انہیں معلوم نہ تھا کہ ان کا بچہ آج اپنے پیروں پر چل کے واپس نہ آئے گا بلکہ اس کی نعش آئے گی۔بااثرحلقوں نے حکومت پر پریشر ڈال کر جیلوں میں قید ان دہشتگردوں کے ساتھیوں کے لیئے سزائے موت پر عملدرامد کھلوا لیا ہے اور انہیں واصلِ جہنم کیا جانا بہت نزدیک ہے۔ان موذی جانوروں نے سب سے مقدس جگہ کو لہو لہان کر دیا ،اس جگہ کومعصوموں کے خون سے نہلادیا جہاں لال رنگ صرف اساتذہ کے قلم سے کاغذوں پرلکھا جاتا اس مقام کو انسانوں کے خون سے لت پت کر دیا گیا۔تاریخ گواہ ہے کہ ایسا واقع اس سے پہلے کبھی پیش نہیں آیا چنگیز خان نے متعدد عورتوں بچوں کو قتل کیا ہے جبکہ ہلاکو خان بھی بچوں کے قتل کا مرتکب ہوا اب تک ان دونوں پر دنیا لعنت کرتی ہے اور انہیں ظلم کی علامت سمجھا جاتا ہے لیکن یہ درندے تو ایسے ہیں جو انسانیت کے جذبات سے رتی برابر آشنا نہیں ہیں،یہ تو بشریت کے تمام جذبات سے عاری ہیں ان کا کلیجہ نہیں پھٹا انہوں نے انتہا کا ظلم ڈھایا سفاکانہ اور بے رحمانہ یہ نجس لوگ کسی بھی قسم کی رعایت کے حقدار نہیں ہیں انہوں نے ننھے بچوں کے گلے کاٹے ان پر تشدد کیا ہر بچے سے انفرد ی طور پر پوچھا کے کون کسی فوجی کا فرزند ہے جیسا ہی کوئی پھول کہتا کہ اس کے والد فوج میں ہیں اسے سب سے پہلے گولیوں کا نشانہ بنایا جاتا ،یہ مجرمان جدید اسلحہ سے لیس تھے ان میں سے کچھ نے خودکش جیکٹس بھی پہن رکھی تھیں ۔سکول پرنسپل جب ان کے آڑے آئیں اور شجاعت دکھائی تو ظالمان نے انہیں زندہ آگ لگا دی۔مقتولین کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تقریبا ہر جگہ شمعیں روشن کی گئیں اور ملال کا اظہار کیا۔دراصل دہشتگردی کا کوئی مذہب ہے ہی نہیں یہ بے سلیقہ ،بے تہذیب اور بے عقل ہیں جن کے ذہنوں پر ناسور بھاری ہے ان کا اعلاج ممکن نہیں ہیں لحاظہ ہر اس موذی چیز کو سرے سے مٹا دینا چاہیے جس کا معالجہ ممکن نہ ہو۔وہ تمام سیاسی پیشوا جو آپریشن سے گریزاں تھے اور نہیں چاہتے تھے کاروائی ہو ،جو مذاکرت کرنے پر زور ڈال رہے تھے اور تمام وہ مذہبی رہنما جو اغیار کے ہاتھوں استعمال ہونے والے ان خوارج کو جہادی کہتے تھے ان کا احتساب ہونا چاہیے وہ ہی ذمہ دار ہیں ان انسانیت کے دشمنوں کی مذموم کاروائیوں کے ۔کیسی ڈھٹائی ہے کہ مطمئن ہوتے ہیں یہ عقل سے خالی لوگ کہ انہیں جنت میسرآجائے گی۔ان کا مذہب سے کیا تعلق یہ وہ ہیں جو مرتد ہیں اسلامی تعلیمات کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں دنیا کو تباہی پہنچاتے ہیں۔راحیل شریف نے ملا فضل اللا کے خلاف کاروائی کے لیے اشرف غنی سے بات کی افغان صدر نے بھرپور کاروائی کرنے کا اعلان کردیا اب افغانستان بھی بدل چکا ہے وہ اپنے ہمسایہ ملک کی امن کی کوششوں کا پاس رکھتے ہوئے خود بھی اعانت کرنے میں پیش پیش ہے۔گزشتہ چار روز سے ملک میں سوگ کا سماں رہاہے ہر کوئی زخمی دلوں کے ساتھ ہے، بہرکیف سوگ دل میں ہونا چاہئے اسے ظاہر کر کے ہم نے بچھڑوں کو واپس نہیں لے آنا ہمیں سخت فیصلے لینے کی ضرورت ہے اس سانحے کے بعد ہمیں متحد ہوجانا چاہئے ایک ہوجانا چاہیے تعصبات کی عینک اتار پھینکنی چاہیے،جیسے سیاسی رہنماوُں نے کیا ہے انا کے بت کو توڑ دینا چاہیے سوگ نہیں ایسے اقدامات اٹھانے ہونگے جو ظالمان کے لیے روگ بن جائیں ہمیں انہیں عبرت کا نشان بنانا ہوگا۔انسدادِ دہشتگردی کمیٹی جو قائم کی گئی ہے اس میں تمام ایکسپرٹ بھی موجو د ہیں تاہم فرنٹ لائن پر سیاسی لیڈران دکھائی دیتے ہیں جو ان تمام معاملات کو دیکھیں گے۔آرمی کا آپریشن ضرب عضب اورخیبر ون اب مزید بڑے پیمانے پر شروع ہونے کے امکانات ہیں بلوچستان میں موجود راء کے دانت کھٹے کرنے کے لیے بھی فوج تیار ہے۔سانحہ پشاور کے محرکات یہ بتاتے ہیں کے راء کااس حملے سے گہرا تعلق ہے۔دہشگردی کے تانے بانے راء سے جا کر استور ہوتے ہیں، انڈین ایجنسی راء ان ظالمان کو ان کے مقاصد سہل بنانے میں مدد کرتی ہے۔ ’’پھول دیکھتے تھے جنازوں پر کچھ روزقبل پھولوں کے جنازے اٹھتے دیکھے‘‘

یہ بھی پڑھیں  14فروری،ماں،محبوبہ اور پھول

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker