شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / سانگھڑ، گذشتہ سال 352افراد نے خودکشی کی :محکمہ صحت ضلع سانگھڑ

سانگھڑ، گذشتہ سال 352افراد نے خودکشی کی :محکمہ صحت ضلع سانگھڑ

سانگھڑ(بیورو رپورٹ) صوبہ سندھ میں خودکشی کابڑا مرکز ضلع سانگھڑ ۔ گذشتہ ایک سال میں 352افراد نے خودکشی کی ہے :محکمہ صحت ضلع سانگھڑ
تفصیلات کے مطابق ضلع سانگھڑ جوکہ صوبہ سندھ کا ایک پسماندہ ضلع ہے جہاں پر نوجوانوں کو روزگار کے مواقع انتہائی کم ملتے ہیں گذشتہ ایک سال میں ضلع سانگھڑ میں 352افراد نے محکمہ صحت ضلع سانگھڑ کے سرکاری ریکارڈکے مطابق خودکشیاں کی ہیں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان خودکشیوں کا سب سے بڑے ا سباب بیروزگاری ،منشیات اور گھریلو ناچاقیاں ہیں جبکہ خودکشی کرنے والوں میں 68%مرد اور 32%خواتین خودکشی کرنے والوں کی زیادہ تر عمریں 20سے 40سال کے درمیان ہیں جبکہ خودکشی کرنے والے افراد خودکشی کرنے کے لئے زہریلی زرعی ادویات،مٹی کا تیل ،کالا پتھر ،تیزاب اور میڈیکل اسٹورز پر ملنے والی نشہ آور زہریلی ادویات استعمال کرتے ہیں جو سانگھڑ میں باآسانی دستیاب ہیں ۔ خودکشی کی بڑھتی ہوئی شرع کے بارے میں ڈی ایس پی سانگھڑ آصف علی آرائیں سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ سانگھڑ میں خودکشی کی بڑی وجہ معاشی پریشانی تعلیم کی کمی نوجوانوں کے لئے روزکار کے مواقع نہ ہونا اور گھریلو ناچاکیاں ہیں۔خود کشی کے بارے میں سانگھڑ کے ممتاز عالم دین مولانا عبدالشکور صاحب کا کہنا تھا کہ خودکشی ایک حرام عمل ہے جس کی بخشش روز آخرت میں ناممکن ہے اوراس کی بڑی وجہ دین سے دوری ہے اور نوجوانوں کو روزگار اور تعلیم کے مواقع نہ ملنا ہے جس کی تمام تر ذمے داری ریاست پر عائد ہوتی ہے۔ انسانی حقوق کے وکیل محمد قذافی کا کہنا تھا کہ جب کسی بھی فرد کو ریاست یا معاشرہ اس کو بنیادی حقوق مہیا نہیں کرے گا تو وہ فرد خودکشی کی جانب راغب ہوگا ۔ضلع سانگھڑ میں خودکشی کے بڑھتے ہوئی عوامی تناسب کے بارے میں حکومت وقت کو سوچنا ہوگا اور خودکشی کرنے والے افراد پر تحقیق کرکے خودکشی جیسے ناپسندیدہ عمل کو روکنا ہوگا۔

error: Content is Protected!!