تازہ ترینعلاقائی

ضلع سانگھڑ کے سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا برا حال تاریخی خاتون فاطمہ ہائی اسکول کچرا کنڈی میں تبدیل

سانگھڑ(بیورو رپورٹ) ضلع سانگھڑ کے سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا برا حال تاریخی خاتون فاطمہ ہائی اسکول بچوں کی تعلیم کی بجائے کچرا کنڈی میں تبدیل تفصیلات کے مطابق ضلع سانگھڑ میں سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا برا حال سندھ حکومت کی جانب سے اربوں روپے کی لاگت سے ضلع سانگھڑ کے سرکاری اسکولوں کی تعلیم کو بہتر کرنے کے پروجیکٹ کے تحت جدید ترین بائیو میٹرک سسٹم کو متعارف کرایا گیا تو ضلع بھر کے2900سرکاری ٹیچرز کو اس سسٹم کے تحت غیر حاضر پائے گئے سرکاری اسکولوں سے اور گزشتہ پندرہ سالوں سے ضلع سانگھڑ محکمہ تعلیم میں بھرتی کئے گئے ہزاروں ٹیچرز کا ریکارڈ سرکاری دفاتر سے غائب ہے جبکہ ضلع بھر کے سرکاری اسکولوں میں تعلیم کا نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے ضلعی ہیڈ کوارٹر سانگھڑ کا سب سے بڑا خاتون فاطمہ ہائی اسکول جوکہ ماضی کی شاندار تعلیمی روایات رکھتا ہے لیکن آج یہ تاریخی ہائی اسکول اپنا تعلیمی تشخص کھو بیٹھا ہے ماضی میں ڈبل شفٹ میں بچوں کو تعلیم دینے والا یہ ادارہ اب علاقے کی سب سے بڑی کچراکنڈی میں تبدیل ہوگیا ہے جبکہ پہلے اس اسکول میں بچوں کی تفریح کے لئے کھیل کے میدان اور پارک ہوتے تھے لیکن آج یہ اسکول ٹائم کے بعد نشے کے عادی افراد کی محفوظ پناہ گاہ بن چکی ہے جبکہ اسکول کی چار دیواری بھی مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے جبکہ اسکول کی 60سالہ تاریخی بلڈنگ بھی مرمت نہ ہونے کی وجہ سے خستہ حالی کا شکار ہے اور کسی بھی وقت اس اسکول کی خستہ حال بلڈنگ گرنے کا خطرہ ہے لیکن محکمہ تعلیم سانگھڑ اس خطرناک بلڈنگ میں بچوں کو تعلیم مہیا کررہا ہے جوکہ اس اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کے والدین کے لئے کسی بھی وقت کوئی بری خبر بن سکتی ہے اس تاریخی اسکول میں صفائی کرنے کے لئے کوئی بھی سرکاری بھنگی نہیں ہے ٹیچرز کلاس روم کی صفائی اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں سے کراتے ہیں جبکہ اس تاریخی اسکول میں بچوں کی حفاظت کے لئے سرکاری سطح پر کوئی گارڈ اور چوکیدار تعینات نہیں ہے جبکہ اسکول میں شام سے ہی نشے کے عادی افراد پہنچ جاتے ہیں اور صبح فجر تک بیٹھ کر مختلف اقسام کا ممنوعہ نشہ کرنے کے علاوہ اسکول میں موجود سرکاری سامان چوری کرکے لے جاتے ہیں جبکہ 2000زیر تعلیم بچوں کے لئے اسکول میں پینے کا پانی موجود نہیں ہے جس بچے کو پیاس لگتی ہے وہ قریبی محلے میں جاکر گھروں سے مانگ کر پانی پیتے ہیں جبکہ اس اسکول کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اسکول کی موجودہ صورت حال کے بارے میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کو کئی بار تحریری طور پر اگاہ کرچکے ہیں لیکن آج تک اس تاریخی اسکول کے بارے میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران نے ابھی تک کوئی توجہ نہیں دی ہے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker