تازہ ترینحافظ جاوید الرحمنکالم

یاد ماضی عذاب ہے یا رب

قوم16دسمبر کو وطن عزیز کے دو لخت ہو نے کا سوگ منا رہی ہے بلا شبہ اس دن کا سورج ہمیں شر مندگی اور پچھتاوے کا احساس دلاتے ہوئے نمودار ہوتا ہے اور ہمیںآئندہ کے لئے بھی اپنے مکا ر دشمن ہندوستان کی ایسی ساز شوں سے ہوشیار رہنے اور ان سازشوں کا بر وقت توڑ کرتے رہنے کی تلقین کر تا بھی نظر آتا ہے جو 16دسمبر 1971کو پاکستان کے ایک بڑے حصے کو ہم سے جدا ہونے کا با عث بنی تھیں اور اس وقت کی بھارتی زنانی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو یہ بڑ مارنے کا موقع ملاکہ آج ہم نے مسلمانوں سے اپنی ہزار سالہ غلامی کا بد لہ لے لیا ہے ۔ یاد ماضی عذاب ہے یا رب چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
دنیا کے
زیا دہ تر ممالک کی تاریخ جنگوں کے واقعات اور شکستوں کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے اگرچہ ہر قوم اپنی فتوحات پر فخر محسو س کرتی ہے شکست ان کے ذہنوں پر نا قابل فراموش نہایت تکلیف دہ اثرات چھوڑ تی ہے اور اس قوم پر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ذلت کا داغ لگ جاتا ہے بد قسمتی سے ہماری ملکی تاریخ میں کوئی بھی قابل ذکر اور قابل فخر فتح نہیں ہے 16دسمبر 1971کی ذلت امیز شکست اور ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں ہتھیار ڈالنے کا واقع ہماری المناک شکست کا بد ترین واقع ہے ۔تاریخ یہی بتاتی ہے اس تاریخ پر ذیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ ملک توڑنے میں ذیادہ حصہ پاکستانیوں کا تھا بعض سیاست دانوں کی ناپاک ملی بھگت نے41 برس قبل یہ ملک توڑدیا بر صغیر کے مسلمانوں کو ایک ایسی ٹھس لگی کہ جس کی کسک ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی ہندوستان کے مسلمانوں نے اعلان کیا کہ اب ہمارا محافظ کو ئی نہیں رہا ۔ہمیں اب خود اپنی طاقت پر جینا اور زندہ رہنا ہے لیکن پاکستان کے مسلمانوں نے اس شکست سے کو ئی سبق نہیں سیکھا ۔بد قسمتی سے پاکستان کو اللہ نے ایسے حکمران عطا کیے جن کو صرف اور صرف اقتدار کی فکر ہوتی ہے وہ اس فکر میں رہتے ہیں کرسی بچی رہے ملک کا چاہے خانہ خراب ہو جائے سیاستدانوں اقتدار کی خاطر اس ملک کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے یہ بات درست ہے کہ بھارت اور دوسرے ممالک نے پاکستان تو ڑنے میں اہم کردار ادا کیا لیکن جب اندر انتشار ہو گا تو دوسروں کو تو موقع ملے گا ہی میں نے ایم اے ہسٹری کی کتابوں میں پڑھا مجیب الرحمن نے اکثریت حاصل کی تھی اگر بھٹو اقتدار کے اس قدر دیوانے نہ ہوتے مجیب الرحمن کو حکو مت بنانے کی دعوت دے دی جاتی تو ملک بچ سکتا تھا ۔ملک توڑنے میں بھٹو کی ہٹ دھر می نے اہم رول ادا کیا اور اس نے مینارپاکستان پر جلسے میں کہا جو منتخب نمائند ہ مشرقی پاکستان جائے گا میں اس کی ٹانگیں توڑ دوں گا ۔ بنگالی غدار نہیں تھے ۔ بھٹو خو د اپنی کتاب ’’عظیم المیہ‘‘میں لکھتے ہیں کہ ہم 21مارچ 1971 کی سہ پہر چار بجے ڈھاکہ پہنچ گئے تھے ہمارے طیارے کو ایمر جنسی لینڈنگ کرنا پڑی کیونکہ پرواز کے دوران اس کے چار انجنوں میں سے دو خراب ہو گئے تھے مشرقی پاکستان کے اوپر پرواز کرتے ہوئے ڈھاکہ کے سبزے سے لہلہاتے میدانوں کودیکھ کہ مجھ پر ایک ناقابل یقین کیفت طاری ہوگئی مجھے یہ یقین نہیںآ رہا تھا کہ یہ ہماری سرزمین اور یہ ہمارے عوام جنہوں نے قیام پاکستان میں بڑھ چڑھ کہ حصہ لیا تھا الگ ہوجانے کیلئے تیار کھڑے ہیں میں یہ تصور نہیں کر سکتاتھا کہ ہمارے سات کروڑ بیس لاکھ ہم وطنوں کو پاکستان سے کاٹ کر الگ کیا جا ر ہا ہے آگے لکھتے ہیں مجیب الرحمن مجھ سے تنہائی میں ملے اور کہا کہ ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا چاہیے اور محبت وآہنگی کو فروغ دینا چاہئے بھٹو نے خود اعتراف کیا کہ وہ غدار نہیں تھے بلکہ ملک بچانا چاہتے تھے بد قسمتی سے سب سے پہلے بنگلہ دیش کو پاکستان نے ہی تسلیم کیا اور بھٹو نے آدھے پاکستان کا وزیر اعظم بننے پر اکتفاء کیا اب بھی اسی جماعت کی حکومت ہے جس نے ملک دولخت کیا اب بھی ان کو کوئی فکر نہیں بلوچستان اور گلگت ،بلتستان ، میں کیا ہورہا ہے انکو اگر فکر ہے تو اقتدارکی توڑ پھوڑکی کرپشن کی اور غریبوں کو ختم کرنے کی آج وطن عزیز جن حالات سے گزر رہا ہے ’’خدا نہ کرے ‘‘ یہ سقوط ڈھاکہ جسے بلکہ اس بدتر حالا ت نظر آتے ہیں اب ہماری سرزمین پر بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ نے ہی اپنی سازشوں کے جال نہیں بچھائے بلکہ امریکی فوجی اور بلیک واٹرکے ارکان بھی یہاں دندناتے اور دہشت گردی کی گھناونی کاروائیوں میں ملوث نظر آتے ہیں جگہ جگہ انھوں نے اپنے ا ڈے قا ئم کررکھے ہیں ۔اب بھی موقعہ ہے ہمیں جتنی جلدی ہو سکتاہے امریکہ کی جنگ سے باہر نکلنا چاہئے اور وہ ہمارے تجزیہ نگا ر جو پہلے مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان پر بوجھ سمجھتے تھے کہ وہ
ہمار ی معیشت پر بوجھ ہیں اب ان عقل کے اندھوں کو دیکھانا چاہئے کہ دیکھوں اب پاکستان کی ساری انڈسٹریز کہاں منتقل ہورہی ہے پاور لومز کہاں جارہی ہیں سرمایہ دار پاکستان میں سرمایہ لگارہے ہیں یا بنگلہ دیش میں کاش سیاست دان اقتدار کے نشے میں اندھے نہ ہو تے اور میرے قائد محمد علی جناح ؒ کاپاکستان دولخت نہ کرتے تو ہم دونوں بازو ملکر ترقی کی نئی نئی منزلیں طے کرتے اور دنیا میں اپنا الگ مقام رکھتے ۔

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : ممبر امن کمیٹی /ناظم جامعہ محمدیہ مولانا ظفر اللہ قمر لکھوی کی اہلیہ گذشتہ روز قضائے الہی سے انتقال کر گئیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker