تازہ ترینکالم

سانحہ واہگہ بارڈراور امریکی الزامات

qasimدہشتگردوں نے ایک بار پھر پاکستان کو خون میں نہلا دیا اور محرم الحرام کے مقدس مہینے میں واہگہ بارڈر کے قریب پرچم اتارنے کی تقریب کے فوراََ بعد جب لوگ باہر نکل رہے تھے تو خود کش حملہ آور نے خودکو اپنے جسم کے ساتھ بندھے پانچ کلو گرام بارود سمیت ایک دھماکے کے ساتھ اڑادیا جس کے بعد وہاں قیامت برپا ہوگئی ایک لمحے میں 62جیتے جاگتے افرادجن میں عورتیں،بچے اور تین سیکیورٹی اہلکار بھی شامل تھے موت کے منہ میں چلے گئے جبکہ زخمیوں کی تعداد 200سے زیادہ تھی اس افسوس ناک حادثے میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد بھی شامل تھے۔اس حملے کی ذمہ داری احرارلہند،پاکستان تحریک طالبان اور جنداللہ نے قبول کی ہے ۔حکومت نے اگرچہ مرنے والوں کے لواحقین کیلئے پانچ پانچ لاکھ اور زخمیوں کیلئے 75,75ہزارکی امدادی رقم کا اعلان کیا ہے مگر اس قدر حساس اور محفوظ علاقے میں ہونے والے دہشتگردی کے اس بڑے واقعے نے سیکیورٹی اداروں خصوصاََ پولیس کی کارکردگی پر کئی سوالات کو جنم دیا ہے جن کا جواب شائد کسی کے پاس نہیں ہے ۔شمالی وزیرستان میں دہشتگردوں کے خلاف پاک فوج کے کامیاب آپریشن ضرب عضب نے تخریب کاروں کو بہت نقصان پہنچایا ہے بلکہ کچھ دنوں سے حکومت اور فوج کی جانب سے اس طرح کے اشارے بھی دئے جارہے تھے کہ ہم نے 90%علاقہ دہشتگردوں سے کلیئر کروالیا ہے اور بہت جلد یہ آپریشن مکمل کامیابی کے بعد ختم کردیا جائے گا۔لیکن ان بیانات کے بعد دہشتگردوں کی جانب سے ایسی زوردار کاروائی دہشتگردوں کی جانب سے یہ پیغام ہوسکتی ہے کہ ہمیں کمزور نہ سمجھو ابھی ہم میں اتنا دم خم باقی ہے کہ ہم کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ کاروائی کرسکتے ہیں ۔اس کیساتھ ساتھ اس میں بیرونی ہاتھ کے ملوث ہونے کو بھی نظرانداز نہیں کیاجاسکتا خصوصاََ بھارت کی جانب سے گزشتہ کئی سالوں سے یہ دباؤڈالنے کی کوشش کی جارہی تھی کہ اس تقریب کو ختم کردیا جائے مگر پاکستان اس پر آمادہ نہیں ہے اس لئے اس حادثے کو بھارت کی جانب سے ایک بھونڈی سازش کہا جاسکتا ہے اور اس خیال کو اس وقت مزید تقویت ملتی ہے جبکہ 28اکتوبر پاکستان کے معاصر اخبارات نے اس حوالے سے رپورٹ بھی شائع کی تھی جس میں بھارت کی جانب سے واہگہ بارڈر کو نشانہ بنانے کیلئے بمبار کے لاہور میں داخلے کی اطلاعات دی گئی تھیں اس روپورٹ کے تناظر میں جہاں ایک طرف پاکستانی اداروں کی بروقت اقدامات نہ ہونے کے باعث ان کی نااہلی کا ثبوت ملتا ہے وہیں اس اندوہناک ھادثے کے باوجود اگلے ہی روز پاکستانیوں کی اسی تقریب میں بڑی تعداد میں شرکت نے بھی دنیا کو ششدر کرکے رکھ دیا کہ یہ لوگ اس جگہ پر جوش و خروش سے جمع تھے جہاں ایک روز قبل ہی اس قوم نے 60لاشیں اٹھائی تھیں جبکہ بھارت کی جانب موت کی سی خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔ اگرچہ بڑے بڑے ممالک میں بھی ایسے حادثات ہوتے رہتے ہیں مگر وہاں کی حکومتیں ان واقعات کے بعد اس کے ذمہ داران کا تعین کرتے ہیں ان کو سزائیں دیتے ہیں اور پھر ایسے ٹھوس اقدامات کرتے ہیں کہ دوبارہ وہاں ایسے واقعات بمشکل ہی ہوتے ہیں امریکہ کی مثال ہمارے سامنے ہے جس نے 9/11کے بعد اپنی سیکیورٹی خامیوں کو اس طرح کور کیا کہ وہاںآج تک دہشتگردی کی کوئی دوسری بڑی واردات نہیں ہوسکی۔مگر پاکستان میں یہ افسوسناک روٹین رہی ہے کہ ہر واقعے کے بعد چندرسمی بیانات کے بعد خاموشی چھاجاتی ہے اور زیادہ سے زیادہ یہ کیاجاتاہے کہ اس کی تحقیقات کیلئے ایک انکوائری کمیٹی بنادی جاتی ہے اور بس ختم۔اب بھی یہی ہورہاہے کہ حکومتی حکام اس واقعے کو آپریشن ضرب عضب کا ردعمل قراردے رہے ہیں جو کہ خاصی حد تک درست بھی ہے مگر سوال یہ ہے کہ بھاری مراعات اور تنخواہیں لینے والی پولیس صرف وزارائے کرام کی حفاظت کیلئے ہی رہ گئی ہے ؟حکومت کو اس پر ضرور غور کرتے ہوئے ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے جن میں پولیس کی دہشتگردوں کے خلاف ایکشن کی خصوصی تربیت سب سے اہم ترجیح ہونی چاہئے تاکہ مستقبل میں ایسے وقعات اور قیمتی جانوں کے ضیاع سے بچا جاسکے۔ ایک اور اہم بات جو اس واقعے کے بعد سامنے آئی وہ یہ تھی کہ عالم کفر واقعی ایک ہوچکا ہے کیوں کہ اس حادثے کے بعد جہاں امریکہ کو اپنے پرانے اتحادی پاکستان سے دلی ہمدردی کا اظہار کرنا چاہیے تھا جس نے اس بے وفاملک کے جھوٹے پیار میں نہ صرف 70ارب ڈالر کا خسارہ برداشت کیا ہے بلکہ اصل میں یہ آگ بھی اسی پرائی جنگ میں کودنے کی پاداش میں ہمارے ملک میں لگی ہوئی ہے جو امریکہ نے اپنے مفادات کیلئے شروع کی تھی مگر محض تین روز بعد ہی پینٹا گون کی جانب سے الٹاپاکستان پرہی یہ الزام دھر دیا گیا کہ وہ بھارت اور افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے۔امریکہ کی جانب سے اگرچہ اپنے حلیف ممالک کے ساتھ ایسا پہلی بار نہیں کیا گیا مگرموجودہ صورتحال میں جب کہ چین جیسے بہترین اورآزمودہ دوست ملک سے تعلقات بڑھاتے ہوئے امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے اس الزام کے بعد پاکستان کو بھی اپنے مفادات کے پیش نظرامریکہ سے تعلقات مزید دیر تک قائم رکھنے بارے سوچ بچار کرنا ہوگی جو مشکل وقت میں استعمال تو پاکستان کو کرتا ہے مگر مطلب نکل جانے کے بعد اسے ٹشو پیپر سے بھی زیادہ حیثیت نہیں دیتا۔

یہ بھی پڑھیں  جمبر: 24گھنٹے گزرنے کے باوجود ملتان روڈ پر ٹریفک جام، گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker