علاقائی

سنجھورو:پولیس کاچادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے خواتین ،مرد اور بچوں پر تشدد

سنجھورو ر﴿نامہ نگار+سٹی رپورٹر﴾ سنجھورو کے نزدیک نواحی گاؤں جعفر خان لغاری  کے نزدیک مٹھا خان لغاری میں ٹنڈو محمد خان پولیس کااغوا ہونے والی پریمیکاکی بازیابی کے لئے پولیس کاچادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے خواتین ،مرد اور بچوں پر تشدد ،دیہاتیوں نے سادہ ملبوس 13 پولیس اہلکار پکڑ کر سنجھورو پولیس کے حوالے کردیا۔اور پولیس گردی کے خلاف احتجاج کیا۔تفصیلات کے مطابق ٹنڈومحمد خان کی پولیس نے ایس ایچ او سید جیندل شاہ کی نگرانی میں آج صبح سویرے جعفر خان لغاری کے گاؤں مٹھا خان لغاری میں دل شیر لغاری کے گھر پر چڑھائی کر کے غلام اکبر لغاری اور اس کی بیوی نجمہ لغاری اور معصوم بچوں پر تشدد کر کے انھیں زخمی کر دیا ۔پولیس گردی پر دیہاتیوں نے احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہاایس ایچ او جیندل شاہ نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے ٹنڈو محمد خان سے اغوا ئ ہونے والی نظیراں دختر مور خان لاڑی کے اغوائ میں ہمیں زبردستی ملوث کرنا چاہتی ہے جبکہ نظیراں کے اغوائ سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔لیکن ٹنڈو محمد خان کی پولیس ہمیں زبردستی بلا وجہ تنگ کر رہی ہے جبکہ زخمی نجمہ غلام اکبر نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہم اپنے گھر میں سوئے ہوئے تھے کہ پولیس نے جیندل شاہ کی قیادت میں گھروں میں داخل ہو کر تشدد کیا ٹنڈومحمد خان پولیس کی اس پولیس گردی کے خلاف احتجاج کیا۔جبکہ دوسری جانب گاؤں والوں نے سادہ کپڑوں میں ملبوس 13افراد کو کپڑ کر سنجھورو پولیس کے حوالے کر دیا۔بوکھلاہت کا شکار ٹنڈومحمد خان پولیس کا اہلکار جو کہ کبھی اپنے آپ کو ڈی ایس پی امتیاز شاہ کہتا رہا تو کبھی ایس ایچ او سید جیندل شاہ کہتا رہا۔ میڈیا کو موقف دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان لوگوں کے خلاف اغوا کی ایف ائی آر درج ہے۔ہم نے اغوائ ہونے والی نظیران دختر مور خان لاڑی کی موجودگی کی اطلاع پر یہ کاروائی کی ہے جو کہ غلط اور جھوٹی ثابت ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker