تازہ ترینعلاقائی

سنجھورور:ایری گیشن محکمے کی جانب سے پانی کی مصنوعی قلت کاشتکارپریشان

سنجھورو ر﴿نامہ نگار﴾سنجھورو تعلقہ میں ایری گیشن محکمے کی جانب سے مصنوعی قلت کاشتکار پریشان عوام پینے کے پانی کے لئے ترس گئے۔ تفصیلات کے مطابق تحصیل سنجھورو میں ایری گیشن کی جانب سے نہریں اور شاخیں بند ہونے کی وجہ سے ان دنو ں پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کی وجہ محکمہ آب پاشی کی جانب سے شاخوںکی وارہ بندی بتائی جاتی ہے۔ گزشتہ 15روز سے شاہو شاخ، رند مائینر، بٹور شاخ اور سنجھورو شاخ سمیت دیگر برانچیں بند پڑی ہیں۔ کاشتکاروں کے مطابق حقیقت میں پانی کی کوئی قلت نہیں ہے محکمہ آبپاشی کے افسران آباد گاروں سے پیسے بٹورنے کے لئے پانی کی مصنوئی قلت پیدا کر رہے ہیں۔ واضع رہے کہ ضلع سانگھڑ سندھ کے سب سے ذیادہ کپاس کی پیداوار دینے والا ضلع ہے اگر وقت پر پانی مہیا نہیں کیاگیا تو موجودہ کپاس کی فصل کوشدید نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ دوسری جانے زیرِ زمین پانی کڑوا اور ناقابل استعمال ہونے کی وجہ سے شہری علاقوں میں پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔عوام پینے کے پانی کی بوند کو ترس گئے ہیں۔واٹر سپلائی کی تالابیں سوکھ گئی ہیں۔جس کی وجہ سے پینے کا پانی مہیا نہیں کیا جا رہا۔ زیرِزمین پانی کڑوا اور زہریلا ہونے کی وجہ سے عوام پینے کا پانی دور درا علاقوں سے پر مجبور ہیں۔دریں اثنائ تعلقہ میونسپل بھی غیر زمدارانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہے۔ کیونکہ پینے کے پانی کا اسٹاک کرنے نظام نقص ہونے کی وجہ سے پانی اسٹاک کرنے کی گنجائش دن بدن کم ہوتی جارہی ہے۔ جبکہ با اثر کاشتکار پانی آنے کے بعد نہروں میں پانی روک کر اپنی فصلوں کو پانی دینا شروع ہوجاتے ہیں۔ شہریوں کی بڑی تعداد نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ آبپاشی اور میونسپل انتظامیہ اور با اثر کاشتکاروں کے خلاف کاروائی کی جائے تاکہ پینے کا پانی شہری علاقوں تک پہنچ سکے۔آبادگاروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وقت پر پانی نہیں فراہم کیا گیا تو احتجاج کا سلسلہ وسیع کیا جائے گا

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : اوکاڑہ ضلع میں ڈکیتی اور چوری کی مختلف وارداتیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker