تازہ ترینعلاقائی

سنھورو:تعلقہ اسپتال میں مریضوں کے لئے سہولیات کا فقدان پایا جاتا ہے

سنجھورو ﴿نامہ نگار﴾ تعلقہ اسپتال سنجھورو 25بستروں پر مشتمل اسپتال ہے اور OPD روزانہ 250سے 300 مریض ہوتے ہیں ۔اسپتال میں مریض دور دراز علاقوں سے علاج کے لئے آتے ہیں مگر یہاں پر مریضوں کے لئے سہولیات کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ڈاکٹروں کی تعداد انتہائی کم ہے۔اورجو ہیں وہ دن رات ڈیوٹی دے رہے ہیں جس کی وجہ سے مریضوں کا علاج کرنے میں مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔اسپتال میں صرف ایک لیڈی ڈاکٹر ہے جو تمام شعبوں میں اکیلی کام کر رہی ہے۔گائینولوجسٹ ،ہارٹ اسپیشلٹ، جنرل سرجن اور الٹراساؤنڈ اسپیشلسٹ کی پوسٹیں عرصہ دراز سے خالی پڑی ہوئی ہیں اور ان پوسٹوں پر کوئی بھی ڈاکٹر کام کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اگر حکومت کی طرف سے ان پوسٹوں پر کوئی ڈاکٹر تعینات کیا جاتا ہے تو وہ اپنا تبادلہ کر وا کر واپس چلاجاتا ہے۔اسپتال میں دو ایکسرے مشین ہیں جن میں سے ایک عرصہ سے خراب پڑی ہے۔اس مشین کو بنوانے کے ابھی تک ھکومت کی جانب سے کوئی انتظام نہیں کیا گیا ہے۔اسپتال کا جرنیٹر خراب ہو چکا ہے جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کے دوران مریضوں کے ساتھ ساتھ ڈاکٹروں کا بھی برا حال ہوجاتا ہے۔تعلقہ اسپتال سنجھورو میں آنکھوں ایک ڈاکٹر ہے مگر ہیاں پر آپریشن کی سہولت میسر نہیں ہے۔ جس کی وجہ سے مریضوں کو آپریشن کے لئے دوسرے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔گذشتہ سال کی طوفانی برساتوں نے اسپتال کی عمارت کو بری طرح سے متاثر کیا ہے اور پوری بلنڈنگ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، آپریشن تھیٹرتو ہے مگر یہاں آپریشن کرنے والا کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ہے اور اس کی چھت بلکل ناکارہ ہو چکی ہے اور گرنے کے قریب ہے۔چھوٹے سے چھوٹا آپریشن کرانے کے لئے بھی مریضوں کو دوسرے شہروں میں جا ناپڑتا ہے۔میل اور فی میل وارڈز کی چھتیں گر کر مریضوں کا زخمی ہونا روز کا معمول بن چکا ہے اورآئے دن کوئی نہ کوئی مریض زخمی ہو جاتا ہے۔خوف کا یہ عالم ہے کہ ڈاکٹر بھی اب وارڈ میں جانے سے کتراتے ہیں اور مریض ہر وقت خوف میں مبتلا رہتے ہیں۔نیشنل پریس کلب کے وفد سے باتیں کرتے ہوئے ایم۔ایس جناب نور محمد منگریو نے بتا یا کہ ہم نے حکام بالا سے کئی بار اسپتال کی حالتِ زار کے بارے میں لکھ چکے ہیں مگر ابھی تک اسپتال کی مرت اور اس کے اسٹاف کی کمی کے مسائل کو حل نہیں کی جا رہا ،نور محمد منگریو نے مزید بتایاکہ اسپتال میں زکوٰت فنڈ کی شدید کمی ہے جس کی وجہ سے ہم غریب اور مستحق افراد کا علاج صحیح طریقے سے نہیں کر پا رہے۔اسپتال میں دوائوں کی کمی ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہم نے حکومت کی توجہ بار بار ان مسائل کی طرف دلوانے کی کوشش کی ہے مگر ابھی تک کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں۔اسپتال کے اسٹاف کورٹر میں پینے کا پانی موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے اسپتال کا عملہ پینے کا پانی دوسرے علاقوں سے لا کر استعمال کرتے ہیں۔سنجھورو کے شہریوں نے وزیر صحت داکٹر صغیر احمد اور دیگر حکومتی عہدیداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ تعلقہ اسپتال سنجھورو کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کر کے ڈاکٹروں کی کمی کو پورا کیا جائے تاکہ 5لاکھ کی آبادی کا تعلقہ اس بنیادی سہولت سے فائدہ حاصل کر سکے۔اور غریب اور مقامی لوگ اپنا علاج اس اسپتال سے کرا سکیں ۔

یہ بھی پڑھیں  سزا یافتہ گیلانی ایوان صدرمنتقل،بیٹے کو ملتان سے ٹکٹ دینے کا فیصلہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker