تازہ ترینعلاقائی

ضلع سانگھڑ سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں مون سون کی پہلی بارش ہوئی

سنجھورو﴿سٹی رپورٹر﴾گذشتہ دنوں ضلع سانگھڑ سمیت سندھ کے مختلف علاقوں میں مون سون کی پہلی بارش ہوئی تھی جس نے مختلف محکموں کی کارکردگی کا پول کھول دیا ہے۔مون سون کی پہلی بارش اتنی زیادہ شدید نہیں تھی لیکن اس کے باوجود ہمیں مختلف شہروں سے انتظامیہ کی ناقص کارکرگی کی اطلاعات مل رہی تھیں۔مون سون کی بارش سے ایک روز قبل ڈپٹی کمشنر سانگھڑ نے ضلع سانگھڑ کے ایک چھوٹے سے شہر سنجھورو میں کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے متوقع بارشوں اور سیلاب کے حوالے سے انتظامیہ کی طرف سے کئے گئے اقدامات کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کئے گئے تھے۔لیکن اگلے ہی دن صرف ایک سے دو گھنٹے برسنے والی بارش نے ڈپٹی کمشنر سانگھڑ ، TMOs اور دیگر انتظامی افسران کی کارکردگی کا پول کھول دیا۔ ضلع سانگھڑ کے تقریبا تمام ہی علاقوں میں برسات کے پانی کی نکاسی کے انتظامات نہ ہونے کے برابر تھے۔گندے نالے کچرے سے بھرے ہوئے ہیں جبکہ گذشتہ سال ہونے والے ترقیاتی کام بغیر کسی منصوبہ بندی کے کئے گئے ہیں۔ان کاموں میں مٹیریل بھی انتہائی ناقص استعمال کیا گیا اور ٹھیکے سیاسی بنیادوں پر اور کمیشن کے عوض جاری کئے گئے۔جن کی خبروں سے ہر روز اخبارات بھرے ہوتے تھے۔ ضلع سانگھڑ میں ترقیاتی کاموں کے ٹینڈرز میرٹ کی بجائے سو فیصد سیاسی بنیادوں پر جاری کئے گئے۔
اس برسات نے جس کے بارے میں کہا جارہا ہے کے یہ متوقع سیلاب اور برساتوں کا ٹریلر تھا اور بھی کئی محکموں کی کارکردگی قلعی کھول دی ہے۔ محکمہ آب پاشی بھی اس دوران خواب خرگوش میں رہا۔تیز برساتوں میں جب کہ کاشتکار اپنی زمینوں میں آبیاری﴿ پانی دینا﴾ بند کر دیتے ہیں تو نہریں اوور ٹاپ ہوجاتی ہیں اور ہر طرف شگاف پڑنے کا خطرہ ہوتا ہے۔پرسات کے دنوں میں محکمہ آبپاشی میں ایمر جنسی نافذ ہوتی ہے اور اس محکمہ کو موسم کے مطابق نہروں میں پانی کا چھوڑ کم کر نا ہوتا ہے لیکن اس بارش کے دوران نہریں مسلسل اور ٹاپ چلتی رہیں جس کے باعث سنجھورو کے قریب سانگھڑ شاخ میں شگاف پڑ گیا۔ اسی طرح ضلع ٹنڈو محمد خان میں نئیں گوٹی شاخ میں بھی شگاف پڑا جس کے باعث سینکڑوں ایکڑ کھڑی فصلیں اور دیہات زیر آب آگئے۔
حکومت نے زیریں سندھ میں گذشتہ سال کی تباہ کن برساتوں کے بعد سیم نالوں کی بھل صفائی کا کام کرایا ہے اس سلسلے میں تقریبا اکثر مین سیم نالوں کی بھل صفائی کا کام مکمل ہوچکا ہے لیکن اس سلسلے میں بھی مختلف علاقوں سے اطلاعات ہیں کہ وہاں پر بھل صفائی کا کام صحیح طریقے سے نہیں کیا گیا جبکہ دوسری طرف ٹیوب ویلوں سے سیم نالوں تک جانے والی اسی فیصد چھوٹی نالیاں بند پڑی ہیں ۔ زیریں سندھ میں LBOD پراجیکٹ کے تحت اربوں روپئے خرچ کر کے ہزاروں کی تعداد میں ٹیوب ویل نصب کئے کئے تھے جو نوے فیصد ناکارہ پڑے ہوئے ہیں اور ان کو چلانے کے لئے حکومت یا انتظامیہ کی کوئی دلچسپی نظر نہیں آتی۔ان ٹیوب ویلوں کی تنصیب کا مقصد زیر زمین پانی کی سطح کو نیچے لانا اور زمینوں کو سیم اور تھور سے بچانا تھا۔متعلقہ انتظامیہ کی نا اہلی کی وجہ سے ان ٹیوب ویلوں کے ناکارہ ہوجانے کی وجہ سے ان ٹیوب ویلوں سے مین سیم نالوں میں جانے والی اکثر نالیاں بھی بند ہوگئی ہیں جس کے باعث اکثر دیہات سے پانی کی نکاسی کا کوئی بھی ذریعہ نہیں ہے۔
ناقص کار کردگی کے حوالے سے حیسکو بھی کسی ادارے سے کم نہیں رہا ہے۔ ایک دو گھنٹے کی بارش سے سو فیصد بجلی کی سپلائی معطل ہو گئی تھی اور ضلع سانگھڑ کے تمام ہی چھوٹے بڑے علاقے بارہ سے چوبیس گھنٹے تک بجلی سے محروم رہے۔ضلع سانگھڑ گذشتہ سال کی تباہ کن بارشوں میں جو بجلی کے پول گر گئے تھے ان میں سے بہت سی جگہوں پر وہ پول پورا سال گذرجانے کے باوجود جوں کے توں گرے ہوئے ہیں اور اس وقت حیسکو نے ان علاقوں میںجو عارضی طور پر بجلی کی سپلائی کے انتظامات کئے تھے پورا سال گذر جانے کے باوجود بھی ان علاقوں میں ان ہی عارضی انظامات کے تحت بجلی سپلائی ہورہی ہے۔
برسات کے اگلے ہی دن مختلف علاقوں میں ٹیلیفون لائینیں بھی خراب ہوگئیں جس کے باعث ان علاقوں میں انٹر نیٹ اور فیکس کی سروس بھی کئی گھنٹوں تک بند رہی۔
میر پور خاص میں کمشنر میر پور خاص ڈویزن غلام حسین میمن کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا جس میں میر پور خاص ڈویزن کے چاروں اضلاع میر پور خاص ،سانگھڑ ،عمر کوٹ اور مٹھی کے افسران نے شرکت کی۔ اسی طرح اضلاع کی سطح پر بھی متوقع برساتوں کے حوالے سے اجلاس پر اجلاس ہو رہے ہیں۔گذشتہ سال جب زیریں سندھ میں طوفانی برساتیں ہوئیں تھیں تو ان برساتوں کے بعد پیدا ہو نے والی صورتحال سے نمٹنے کے حوالے سے صبح شام اجلاس ہوتے تھے لیکن بد قسمتی ایک سال گذر جانے کے باوجود متاثرین برسات کی بحالی نہیں ہو سکی اور امداد میں بے پناہ کرپشن کی خبریں آئے دن اخبارات کی زینت بنتی رہیں ۔ڈپٹی کمشنر سانگھڑ نے تو برسات متاثرین کے زخموں پر نمک پاشی کی حد ہی کر دی جب برساتوں میں خدمات انجام دینے ولوں کو ایوارڈ دینے کے نام پر ناچ گانوں کی محفل پر کروڑوں روپئے خرچ کئے گئے اور پٹواریوں سے لیکر کرپٹ روینیو افسران تک کو ایوارڈز دئیے گئے۔اس تقریب میں کسی بھی برسات متاثر کو دعوت نہیں دی گئی بلکہ ضلع بھر کے بیورو کریٹ اور سیاسی شخصیات اور وڈیروں کو دعوت دی گئی۔
اب جب کہ مون سون شروع ہوچکا ہے اور اس سال بھی محکمہ موسمیات نے زیریں سندھ میں غیر معمولی برساتوں کی پیشین گوئی کی ہے لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ وہ متعلقہ اداروں کے افسران کی کارکردی کو مانیٹر کرے اور غفلت کے مرتکب افسران اور کرپشن کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کرے۔

یہ بھی پڑھیں  ’’محفل مزاح اور تقریب حلف برداری‘‘

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker