بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

سانوں وی توں ’’ چارناں‘‘ اے

bashir ahmad mirآج مجھے غیر متوقع بے شمار کالز سننے کو ملیں جن میں گذشتہ روز شائع ہونے والا کالم ’’وزراء سیکینڈل اور خطرے کا آلارم ‘‘کا ملا جلا ردعمل تھا۔جن قارئین نے ذاتی تعلق پر حکومتی وزراء کی حمایت میں دلائل دئیے وہ بھی نذر کرتا ہوں اور جن احباب نے مثبت سوچ و فکر کا ذکر کیا انہیں بھی تمہید میں شامل کر کے کسی بہتر نتیجہ تک پہنچنے کی سعی کروں گا۔ایک صاحب نے کال کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب جھوٹ اور من گھڑت سکینڈل بنایا گیا ہے ،ایک اور صاحب نے تو ایک گھنٹہ تک موبائل پر خوب سمع خراشی کی کہ بتاؤ کس بنیاد پر کالم لکھا ہے ،کیا ثبوت ہیں ؟ کئی اور کالرز نے بھی سیکینڈل کو مخالفت کی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ الزام لگانے والوں کے خلاف کارروائی ہونا چاہئے ،جبکہ بے شمار کالرز نے حیرت اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس واقعہ کی غیر جانبدار انہ تحقیقات پر زور دیا۔
ایک طرف اس پر اسرار واقعہ کے خلاف آذادکشمیر بھر سے شدید ردعمل آ رہا ہے اور عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹانے کی تیاری کی جارہی ہے جبکہ دوسری طرف اب ’’متاثرہ طالبہ‘‘ کا بیان بھی سامنے آیا ہے کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا یقیناًقارئین نے متاثرہ طالبہ کا بیان ملاحظہ کیا ہو گا۔اب آتے ہیں کہ آخر آذادکشمیر کے باخبر حلقوں اور ممتاز سیاسی شخصیات نے جو ردعمل دیا ہے اس کے پس منظر میں کتنی سچائی ہے۔کہتے ہیں کہ جب سانپ کو موت آتی ہے تو وہ سر راہ از خود آ جاتا ہے کچھ ایسی صورت حال اس پر اسرار سکینڈل کی بن چکی ہے۔
مہذب معاشرہ میں ایسا واقعہ ہو ا ہو تو 24گھنٹے کے اندر سب لوگ کٹہرے میں آجاتے ہیں مگر ہماری دنیا ہی کچھ اور ہے ،بطور مجموعی ہم اس قدر ڈھیٹ اور بے شرم ہیں کہ ہم نااہل ہونے کے باوجود اہلیت کا راستہ ڈھونڈنے میں عار محسوس نہیں کرتے ۔بے شک ہم 302کے مجرم ہوں مگر ہم بحیثیت مجموعی حد درجہ خائن ،جھوٹے ،مکار اوربے غیرتی کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں کہ شیطان بھی ہم سے پناہ مانگتا ہو گا۔مانا کہ یہ واقعہ بے بنیاد سہی مگر اب صورت حال ایسی بن چکی ہے کہ ’’ ایک شخص لالچ میں آ کر نہر میں اس دھوکے میں چھلانگ لگا بیٹھا کہ اسے بظاہر پانی میں کمبل نظر آیا اور جب اسے پکڑا تو وہ ریچھ تھا جس نے لالچی کو رنگے ہاتھوں دبوچ لیا ،باہر کھڑے لوگوں نے کہا کہ باہر نکلو کیا کرتے ہوں تو اس نے کہا کہ’’ کمبل کو میں چھوڑتا ہوں مگر یہ ۔۔۔۔۔مجھے نہیں چھوڑ رہا‘‘ ۔کچھ ایسا منظر اس سکینڈل میں نظر آ رہا ہے ۔شاعر نے اس پر اسرار حالات کی ایسے منظر کشائی کی ہے کہ
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے
کہتے ہیں کہ جہاں برتن ٹکرانے کی آواز آتی ہے وہاں کچھ حرکت ضرور ہوتی ہے ۔لاکھ تاویلیں دی جائیں مگر منظر پہ آئی ہوئی بات کو اجل کرنا مشکل ہوتا ہے ۔یہ جو بھاگ دوڑ لگی ہوئی ہے آخر اس میں کچھ کالا کالا ضرور ہے جسے ہمارے پیٹی بھائی بھی چند سکوں کے عوض سورج کے آگے انگلی رکھ کر یہ ظاہر کروا رہے ہیں کہ روشنی نظر نہیں آ رہی ہے۔ان کے بارے پنجابی شاعر کہتا ہے کہ
چن دیا ٹوٹیا وے دلاں دیا کھوٹیا
سانوں وی توں ’’ چارناں‘‘ اے
وکلاء ،سول سوسائیٹی ،طلباء ،قوم پرست تنظیمیں ،سیاسی ،مذہبی اور سماجی شخصیات نے بے خبری میں سڑکوں پر آنے کا فیصلہ نہیں کیا بلکہ انہیں کچھ ’’سن گھن ‘‘ لگی ہو گی تب ہی پھانسی تک چڑھانے کا مطالبہ کیا گیا ۔جماعت اسلامی کے امیر عبد الرشید ترابی کا نا صرف آذادکشمیر بلکہ ملک بھر میں میں بڑا نام ہے، ان کے منہ سے نکلی ہوئی بات کبھی بھی جھوٹی نہیں ہو سکتی،بیرسٹر افتخار گیلانی قانون دان ہیں ان کا دماغ کام کرتا ہے وہ بے تکی اور قانون شکن بات نہیں کر سکتے ،سابق سپیکر شاہ غلام قادر پائے کے معلوماتی شخصیت ہیں ان کی زبان سے بے بنیاد بات نکلنا محال ہے ۔قوم پرست تنظیموں کے سربراہ مد ہوش نہیں کہ وہ خلاف واقعہ بات کو اچھالیں ۔طلباء تنظیموں کے ذمہ دار بھی لا تعلق نہیں کہ انہیں سارے واقعہ کا پتا نہیں لگ سکا۔ایک پی پی کے جیالے نے مجھے کال کر کے بتایا جس کا لب لباب یہ ہے کہ ’’ہم شر مندہ ہیں‘‘ یہ جملہ قلم کی حرمت کے پیش نظر لکھا ،جبکہ موصوف نے تو جو۔۔۔۔۔ فرمایا اس کا کالم میں ذکر کرنا مناسب نہیں۔
بات صاف اور کھری یہ ہے کہ اب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی سامنے آنا چاہئے ۔بعض ذرائع بتاتے ہیں کہ متاثرہ طالبہ کو خوشگوار مستقبل کا ایک بار پھر جھانسہ دیکر واقعہ سے لا تعلقی کا بیان ’’ایک مخصوص اخبار‘‘ کے ذریعے ریکارڈ کروایا گیا ہے ۔اب سچ کیا ہے اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے ۔ایمانداری کا تقاضا ،عوام دوستی کا بھرم اور سیاسی جراتمندی کا محور و مرکز یہ ہے کہ مذکورہ متاثرہ طالبہ بھی اب برابر کی شریک جرم بن چکی ہے ۔ذرائع بتاتے ہیں کہ فوٹیج میں اس لڑکی کی شہادت مل پا رہی ہے اور اب یہ بھی ضروری ہو چکا ہے کہ متعلقہ ڈاکٹر جو اس لڑکی کی تشخص و علاج کر رہی تھی اسے بھی شامل تفتیش کیا جائے۔پرانی کہاوت ہے کہ’’ پڑھے عیسیٰ اور سنے موسیٰ ‘‘ جہاں ملزم اور مدعی ایک ہی ہوں تو ترابی صاحب !!! کون پھانسی چڑھے گا۔۔؟؟؟
ہم مسلمان ہیں اور پردہ داری ہمارا فرض ہونا چاہئے تاکہ برائی پھیلنے سے معاشرہ محفوظ رہے مگر جب کوئی برائی طشت از بام جائے تو اسے چند سکوں کے عوض دبانا کھلی ایمان فروشی کا ارتکاب اور اللہ سے جنگ کرنے کے مترادف ہے جس کا عذاب خوفناک اور تباہ کن نکلنے کا اندیشہ ہے۔ذاتی عداوت ،تعصب ،سیاسی مخاصمت اور گروہی تفرفہ کو چھوڑ کر ہمیں بحیثیت قوم سوچنا ہو گا کہ اگر با اثر لوگ جرم و سزا سے بچ نکلتے ہیں تو پھر معاشرتی اقدار تباہ ہو جاتی ہیں ۔ہمیں مبینہ ملوث شخصیات سے کسی دشمنی کا بدلا نہیں لینا اور نہ ہی کسی بے گناہ کی تذلیل کرنا مقصود ہے بلکہ منظر پر موجود جو نظر آ رہا ہے اس کی شفاف چھان بین کی جانالازم ہے ،اگر یہ واقعی الزام تراشی ہے تو ایسے عناصر جنہوں نے اس سیکنڈل کو سامنے لایا ان کو بھی گرفتار کیا جائے ،ان سے پوچھا جائے کہ انہوں نے کس شہادت پر اس بارے سڑکوں پر آنے کی ٹھانی ہے۔۔۔؟؟
عوام اپنے نمائندوں کو اس لئے اسمبلی میں بھیجتے ہیں کہ وہ ان کی جان ،مال ،عزت اور حقوق کی پاسبانی کرینگے ۔اچھی شہرت کے حامل شخصیات ہی عوام کے ہمدرد اور ان کے دلوں میں عزت رکھتے ہیں،جو لوگ فطرتاً غلاظت اور بہروپ پن کا شکار ہوں چاہئے ان کا جیسا بھی دنیاوی مقام و مرتبہ ہو ان کی قدر نہیں ہوتی ۔جن وزراء گرامی کے خلاف الزام ہے انہیں سامنے آکر اپنی صفائی پیش کرنی چاہئے،جس طرح انہوں نے’’ رینگنا ‘‘شروع کر رکھا ہے اس کا نتیجہ ان کے گلے پڑ سکتا ہے ،بپھری ہوئی عوام کو روکنا انتہائی مشکل ہوتا ہے جس کا رسک لینا ان ’’سب‘‘ کے خلاف ہو گا۔جن شخصیات نے اس واقعہ کی صحت بارے ردعمل کا اظہار کیا ہے انہیں بھی کھل کر حقائق پر مبنی قانون کا سہارا لینا چاہئے ۔ہمارا خطہ پر امن ،با غیرت اور با شعور اوصاف کا حامل ہے ،سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم آذادی کے بیس کیمپ کے شہری ہیں ،بیس کیمپ کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم بھارتی مقبوضہ کشمیر سے اپنی مظلوم ،محکوم اور بر بر یت کے شکار عوام کو آذادی دلانے کے لئے مقدس مشن کے پاسبان ہیں ،ہماری معاشرتی اور معاشی سطح جب تک جاذب نظر ،امتیازی اور منفرد کردار کے حامل نہیں ہو گی تب تک ہم کبھی بھی جیت نہیں سکتے ،خاص کر مہاجرین مقبوضہ کشمیر پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسی کردار سازی کریں جس سے کشمیر کے اس پار دلکش اثرات مرتب ہوں ۔عوام کو صبر تحمل سے کام لینا چاہئے ، معززممبران اسمبلی کو بھی اس خباثت بارے ٹھوس موقف اختیار کرنا ہو گا ۔اگر اس معاملہ کو سطحی لیا گیا تو اس کے بھیانک نتائج نکل سکتے ہیں ۔ایک فلسفی کا قول ہے کہ ’’انسان کی سب سے بڑی ذلت یہ ہے کہ وہ باطل کو طاقت ور دیکھ کر اسکی غلامی پر آمادہ ہو جائے‘‘۔لہذا ہمیں ذلت کے بجائے عزت کے لئے اس حساس سکینڈل کی کھلے عام تحقیقات پر زور دینا چاہئے،تاکہ آئندہ کوئی ایسا جرم کرنے سے پہلے اس کے عبرتناک انجام سے باخبر رہے اور الزام تراشی کی بھی سزا ہونی چاہئے تاکہ کوئی شرفاء کی پگڑی نہ اچھال سکے۔note

یہ بھی پڑھیں  ڈیرہ غازیخان:میڈیکل کالج کو غازی یونیورسٹی میں شامل کرنے کے خلاف میڈیکل کالج کے سٹوڈینٹس کا کالج کے اندر احتجاجی مظاہرہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker