اطہر مسعودوانیتازہ ترینکالم

ریاست جموں و کشمیر کی تاریخی عہد ساز شخصیت سردار محمد عبدالقیوم خان

atharآزاد کشمیر کے سابق صدر ووزیر اعظم بزرگ سیاستدان سردار محمد عبدالقیوم خان طویل علالت کے بعد جمعہ کے روز (10جولائی)  راولپنڈی کے ایک پرائیویٹ قائد اعظم ہسپتال میں  وفات پا گئے۔انا اللہ و انا علیہ راجعون۔ان کی عمر تقریبا91سال تھی۔ ان کے انتقال کی خبر تیزی سے پھیل گئی اور ان کی وفات پر وسیع پیمانے پر اظہار افسوس کیا جا رہا ہے۔اس کی پہلی نماز جنازہ کاکا جی ہائوس میں ادا کی گئی،دوسری نماز جنازہ شکر پڑیاں اسلام آباد کے پریڈ گرائونڈ میں ادا  کی گئی جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے جن میں وفاقی شخصیات ،فوجی افسران،آزاد کشمیر حکومت کے عہدیداران،تقریبا تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما،اعلی سرکاری افسران،ججز اور آزاد کشمیر و پاکستان کے مختلف شہروں سے آئے افراد بھی شامل تھے۔اس کے بعد ان کے جسد خاکی کو ان کے آبائی گھر غازی آباد لیجایا گیا جہاں ان کی تیسری نماز جنازہ ہفتہ کو دن کے وقت ادا کی گئی اوراس میں بھی ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ اسلام آبا د میں ہونے والی نماز جنازہ کے موقع پر پریڈ گرائونڈ کو فوج نے اپنے گھیرے میں لیا ہوا تھا اور اس موقع پرتمام انتظامات فوج کے ہی حوالے تھے ۔غازی آباد میں بھی فوج کے جوانوں نے ان کی تدفین کی ۔جمعہ کو ہی سرینگر میں بھی ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی جس میں بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ان کی وفات پر آزاد کشمیر میں تین دن کے سوگ کا سرکاری اعلان کیا گیا ۔سر دار محمد عبدالقیوم خان کی وفات سے ریاست جموں و کشمیراپنے ایک اہم بزرگ رہنما سے محروم ہو گئی ہے۔وہ ریاست جموں و کشمیر کے سینئر ترین رہنما تھے۔انہوں نے تحریک آزادی کشمیر،آزاد کشمیر اور پاکستان کے حوالے سے نہایت اہم اور جاندار کردار ادا کیا۔مسلم کانفرنس کے صدر ،سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان ان کے فرزند ہیں ۔سردار محمد عبدالقیوم خان کے دو بیٹے سردار خلیق اور سردار اسرارپہلے ہی انتقال کر چکے ہیں ۔بلاشبہ سردار محمد عبدالقیوم خان ایک بڑی شخصیت تھے اور وسیع پیمانے پر لوگ ان سے قریبی تعلق اور انسیت رکھتے تھے۔ان کی وفات سے تحریک آزادی کشمیر کا ایک اہم باب ختم ہو گیا ہے۔
پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا پہ کشمیر کے اس سینئر ترین رہنما کی وفات کے واقعہ کو کوریج نہ ملنے پر وسیع پیمانے پر افسوس او ر اظہار مذمت کیا گیا۔میری رائے میںیہ پاکستان کے میڈیا اور صحافیوں کی کشمیر سے لاعلمی اور عدم دلچسپی کی ایک نئی مثال ہے۔ریاست جموں و کشمیر کے بزرگ سیاستدان ،تاریخی شخصیت سردار محمد عبداالقیوم خان کی وفات پر بعض افراد نے ان کی نماز جنازہ میں پاکستان کی اہم شخصیات کی شرکت نہ کرنے پر اظہار افسوس کیا ہے۔ اسلام آباد اور غازی آباد میں پاکستان کی کئی اہم شخصیات نے شرکت تو کی تاہم بعض افراد کی طرف سے اس بات پہ افسوس کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے سربراہان ان کی نماز جنازہ میں شریک نہیں ہوئے۔اظہار افسوس بجا لیکن ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ مادر ملت فاطمہ جناح کی تدفین پر ناجائز سرکاری پابندیوں کی وجہ سے صورتحال خون خرابے کی طرف بڑھ رہی تھی لیکن پھر آمر حکمران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہونا پڑا۔قائد کشمیر چودھری غلام عباس کی وفات پر بھی اسی آمر حکمران نے تدفین کے لئے رکاوٹیں ڈالیں جس سے ان کے جسد خاکی کو آزاد کشمیر لے جانے کی بات بھی ہوئی،آخر انجمن فیض الاسلام کی طرف سے دی گئی ساڑھے چار کنال کی جگہ میں ان کی تدفین کی گئی۔کشمیریوں اور پاکستان کے درمیان گہرے تعلق میں قائد اعظم محمد علی جناح کی ذات کو کلیدی کردار حاصل ہے۔تاہم قائد کی وفات کے بعد ان گہرے تعلقات کی قابل تحسین پاسداری نہ ہو سکی بلکہ پاکستان میں مضبوط ہوتے طبقاتی نظام کے تناظر میں آزاد کشمیر کے ساتھ اس طرح کی اخوت و ہم اآہنگی پر توجہ نہ دی گئی جو کشمیر اور پاکستان کے درمیان گہرے تعلقات کا تقاضہ تھا۔گزشتہ کئی سالوں سے تو یہ واضح محسوس ہو رہا ہے کہ آزاد کشمیر کو محض چند ہی لاکھ لوگوں کا ایک پہاڑی علاقہ سمجھا جا رہا ہے۔تاہم اس کی وجوہات میں آزاد کشمیر کے اندر انحطاط پذیری کا بھی اہم کردار ہے۔آج کے نوجوانوں کی طرف سے اظہار افسوس پر حیرت ہوتی ہے اور اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ نوجوان 1947-48ء اور اس کے بعد کی تاریخ،حالات و واقعات سے یکسر لاعلم ہیں۔سیاسی فیصلوں کے نتائج کس قدر دور رس، مضبوط ، سخت اور بے رحم ہوتے ہیں،ہمارے نوجوانوں کو شاید یہ سمجھنے میں ابھی وقت لگے گا۔
مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان کے ساتھ میرا گہرا تعلق رہا ہے جس میں جماعتی،خاندانی اور ذاتی تعلق بھی شامل ہے۔ہر جاندار نے موت کا ذائقہ چھکنا ہے، اپنے اپنے  وقت پرموت اٹل ہے۔سردار محمدعبدالقیوم خان نے ایک ایسی بھرپور اور شاندار زندگی بسر کی جس کی کئی افرا د تمنا  ہی کر سکتے ہیں۔ان کی زندگی کو مختلف ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ برٹش فوج میں عرصہ ملازمت،برٹش آرمی سے علیحدگی کے بعد واپس آ کر اپنے علاقے میں ڈوگرہ راج کے خلاف مزاحمت کا دور، مسلم کانفرنس میں شمولیت سے مسلم کانفرنس کا صدر بننے تک کا دور،مسلم کانفرنس کا صدر بننے سے لیکر پاکستان میں1977ء کا مارشل لاء لگنے تک کا دور،اس کے بعد سے 2004-05ء تک اور اس کے بعد 2010ء تک اور اس کے بعد اپنی وفات10جولائی2015ء تک ۔جیسا کہ میں نے کہا کہ میرا ان کے ساتھ جماعتی اورخاندانی تعلق کے علاوہ ایک گہرا ذاتی تعلق بھی تھا۔میں تقریبا پانچ سال صدر مسلم کانفرنس سردار عتیق ااحمد خان کے ساتھ مسلم کانفرنس کا مرکزی سیکرٹری اطلاعات رہا لیکن میرا زیادہ گہرا تعلق سردار صاحب کے ساتھ ہی رہا۔یوں کہنا مناسب ہو گا کہ سردار عتیق صاحب کی نسبت سردار صاحب سے میری ” فریکوئنسی” زیادہ ملتی تھی۔ میں ان سے ہر قسم کی باتیں بلا جھجک کر لیتا تھا جن میں کئی تلخ باتیں بھی شامل ہوتی تھیں،شاید اسی لئے وہ میرے خاندانی حوالے کے علاوہ میرے مختلف اہم جماعتی ،سیاسی اور تحریکی موضوعات اور  اخلاص پر مبنی میرے اس طرز عمل کو دیکھتے ہوئے مجھ پہ خصوصی شفقت کرتے تھے اور میری باتوں کو بہت اہمیت دیتے تھے۔ان کی ذات سے میرے اس گہرے تعلق کے علاوہ وہ ریاستی مسلمانوں کی ترجمان مسلم کانفرنس کے سربراہ بھی تھے،آزاد کشمیر کے صدر اور وزیر اعظم بھی رہے،ان تمام امور کا احاطہ کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان کے بارے میں الگ سے تحریر کیا جائے۔یہ تحریر ان کی وفات کے حوالے سے ہے،ان کی وفات کے بعد کئی سیاسی محرکات بھی کار فرما ہیں ،لہذا میری کوشش ہو گئی کہ کچھ وقفے کے بعد مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان صاحب پر اپنا مضمون تحریر کرسکوں
note
یہ بھی پڑھیں  نوازشریف کیخلاف عمران خان پھرسپریم کورٹ پہنچ گئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker