تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

سرائیکی صوبہ، ایم کیو ایم اور پی پی پی

مجھے پرانے اخبار کا ایک تراشا ملا ہے جس میں ایم کیو ایم کے بھائی الطاف بھائی کی طرف سے سرائیکی صوبے کی حمائت کے سلسلہ میں کراچی ڈسٹرکٹ ہال میں لندن سے بذریعہ ٹیلی فونک خطاب کی خبر چھپی ہے۔انہوں نے سرائیکی صوبہ کے قیام کی حمائت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے بڑے صوبہ کی تقسیم سے سرائیکی خطہ کے عوام کو ان کے جائز حقوق مل جائیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری اس حمائت پر پنجاب کی وکالت کرنے والے وزیر اعلیٰ(جو اب نہ ہیں) ہمارے صحیح اوردرست موقف کو بھی ملک توڑنے کی سازش قرار دے کر ہمیں غداری کے لقب سے نوازیں گے ۔اس کی ہمیں ہر گز پرواہ نہیں اور ہم سرائیکی قوم کے موقف کی بھر پور تائید و حمایت کرتے ہوئے تمام سرائیکی پارٹیوں کو بھی مشورہ دیں گے کہ وہ سب ایک پلیٹ فارم پر ایک جھنڈے تلے متحد ہو کر سرائیکستان کی تحریک کو آگے بڑھائیں ۔ہم سرائیکیوں کا کھل کر ساتھ دیں گے ۔ اگر وہ منقسم رہے اور متحد نہ ہوئے تو پھر وہ اپنا جمہوری حق حاصل کرنے میں قطعی ناکامی سے دوچار رہیں گے ۔الطاف بھائی نے کہا کہ سرائیکی خطہ کی غربت اور پسماندگی کے ذمہ دار اس خطہ کے بڑے جاگیردار اور وڈیرے ہیں جواسٹبلشمنٹ کے ایجنٹ ہیں۔ایم کیو ایم نے جاگیرداروں کے گڑھ مظفر گڑھ سے فیوڈل ازم کے خلاف تحریک کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے ۔ سرائیکی خطہ کے نوجوان اور دوسرے دانشور پوری قوم ایم کیو ایم کا ساتھ دیں۔ انشاء اللہ ہم بہت جلد جاگیرداروں کی بالادستی کا خاتمہ کر دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تقسیم ہند کے فوراً بعد بھارت نے اپنی آزادی کو مستحکم کرنے کے لیے جاگیرداری نظام کا خاتمہ کر دیا تھا جس کی وجہ سے بھارت میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوتی چلی گئی ہیں۔ اور آج بھارت دنیا کا عظیم جمہوری ملک تصور ہوتا ہے مگر بد قسمتی سے ہمارے ملک مین قائد اعظم اور لیاقت علی کے بعد آہستہ آہستہ جاگیرداروں کی گرفت مضبوط ہوتی گئی ۔ الطاف بھائی کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ ملک پر جاگیرداروں کا راج ہے۔ایم کیو ایم نے ہمیشہ مظلوم ،پسماندہ اور سیاسی و معاشی محرومیوں کے شکار طبقات کی عملی طور پر حمائت کی ہے ۔الطاف بھائی نے نہ صرف سرائیکیوں بلکہ ہزارہ ، فاٹا صوبہ اور بہاولپور کے صوبے کی بحالی پر بھی زور دیا ہے اور انہیں مکمل حمایت کے لیے جانے کی یقین دھانی کرائی ہے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے سرائیکی صوبہ بنانے کی جو رٹ لگا ئی تھی وہ پنجاب اسمبلی کی قرارداد کے بعد دم توڑ گئی ہے اور ان کی طرف سے سرائیکیوں کی حمایت میں اب کوئی نعرہ سننے کو نہیں مل رہا۔پی پی پی نے (ن) لیگ پر سرائیکی صوبہ کا جو سیاسی مزائل فائر کیا تھا اسے ن لیگ کے جمہوری اینٹی بلاسٹک مزائل نے تباہ کر دیا ہے۔مزائلل ٹھس ہونے پر پی پی پی کی صوبہ سیاست بھی ٹھس ہو گئی ہے۔
پی پی پی کی ناقص سیاسی منصوبہ بندی سے اس کی صفوں میں جنم لینے والے سیاسی انتشار و افتراق پی پی پی پر کرپشن اور بدعنوانی کے آئے روز کے لگنے والے ڈھیروں الزامات اور سپریم کورٹ کی طرف سے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی پر توہین عدالت کے فیصلے کے بعد پی پی پی نفسیاتی طور پر زیر بار ہو چکی ہے ۔ اس کے اتحادی حلیفوں کی طرف سے بھی کوئی خاص تعاون نہیں مل رہا ۔ ملک کی اقتصادی صورتحال بھی گھمبیر ہو تی چلی جا رہی ہے ۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف بھائی کے پاس سوائے اس کے کوئی اور کام نہیں کہ وہ شب و روز اپنی پارٹی کو منظم کر کے متحد رکھے اور انکی فلاح و بہبود کے لیے حکومتی وسائل کابھر پور استعمال کرے ۔ اس کی مدبرانہ سیاسی کوششوں سے کراچی میں پی پی پی کی سیاسی ساکھ کا بھرکس نکل رہا ہے۔ لیاری جو کبھی پی پی پی کا سیاسی قلعہ تھا آج کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ایم کیو ایم مزید مضبوط ہوتی چلی جائے گی اور مہاجر صوبے کی تشکیل کا بم آخر پھٹ کر رہے گا۔سرائیکی صوبے کی تشکیل سے پہلے ہی مہاجر صوبے کا نعرہ اپنی سیاسی و جمہوری حیثیت منوا چکے گا۔
ایم کیو ایم کے قائد الطاف بھائی نے دانشمندی سے اپنی پارٹی کو سیاسی حریفوں سے بچا لیا ہے ۔جن توپوں کا منہ کبھی ایم کیو ایم کی طرف ہوا کرتا تھا آج وہ پی پی پی کے سیاسی قلعہ کی طرف موڑ دیا گیا ہے ۔ بڑی دانائی کے ساتھ پی پی پی کی جڑیں کاٹی جا رہی ہیں اور یہ کہنا قطعی بجا ہو گا کہ اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے۔ اپنوں نے بھی شعلے اگلے ہیں۔اک برق پہ ہی الزام نہیں ۔ آصف علی زرداری بھی مات کھا گئے ہیں۔ لگتا ہے کہ ایم کیو ایم کے جادو نے اس کی سوچوں پر تالے لگا دیے ہیں انہیں اب کوئی عامل منجم اور پیر و مرشد نہیں مل پا رہا۔ جو انہیں اس دلدل سے نکالنے کی راہ بتائے۔ اب انہیں حضرت جواجہ معین الدین چشتی ؒ کے دربار پر حاضری کے لیے بھی کوئی نہیں بلائے گا۔ان کی سوچوں پر پڑے قفل پی پی پی کوّئندہ انتخابات میں تاریخی شکست سے دوچار کریں گیان کی سیاسی دانش پر مقالے لکھنے والے بھی دنگ رہ گئے ہیں کہ آن ہی آن میں پی پی پی کو کس شیر نے آن دبوچا ہے۔ یہ ن لیگ کا شیر نہیں لگتا ۔ ایم کیو ایم کا وہ ٹائیگر ہے جس نے مہاجر صوبے کی مزائل ایسے وقت میں داغی ہے جب پی پی پی کی عقل پر وہ جادو جو سر چڑھ کر بولتا ہے مسلط ہو چکا ہے۔
ہم تو صرف دعا ہی کر سکتے ہیں آصف علی زرداری کے لیے جو شکاگو سے بھی کشکول خالی لے آئے ہیں جبکہ وزیر اعظم کے لیے کوئی دعا نہیں کریں گے کیونکہ وہ مجرم بن کر ہمراہ نوے سیاسی حواریوں کے ہنی مون منانے برطانیہ چلے گئے تھے ۔ ایسے وقت میں جب کراچی جل رہا ہے اور بلوچستان سسک رہا ہے اور پی پی پی کی ناؤ ہچکولے کھا رہی ہے وزیر داخلہ رحمٰن ملک کی طفل تسلیوں سے بھی یہ ناؤ ساحل سے نہ ٹکرا سکے گی ۔ پی پی پی کے سیاسی ورکر بے نظیر سکیم کے چھتے سے اس قدر چمٹ گئے ہیں کہ انہیں اور کوئی کام نہیں رہا وہ کہتے ہیں بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لو ذرا ذرا سا ۔شائد کہ پھر یہ موقع کبھی ہاتھ نہ لگے ۔
مقصود انجم کمبوہ
03454541751

یہ بھی پڑھیں  انوشکا اور ویرات کوہلی کی شادی کی تقریبات کا آغاز

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker