تازہ ترینشیر محمد اعوانکالم

سراپا سوال

shairہم معموں میں گھرے لوگوں کا ہجوم ہیں۔ ہمارے الیکشن معمہ ہیں، دھاندلی بھی معمہ ، احتجاج کا طریقہ اور جائے احتجاج معمہ ہے۔ حکومت کی نا اہلی ، سستی اور فیصلوں کو کمزور کرتی گہری سوچ معمہ ہے۔ پارلیمنٹ پر چڑھائی معمہ ہے۔ مگر ساتھ پولیس کا کردار بھی معمہ ہے، میڈیا پر تشدد معمہ ہے اور میڈیا کا اپنا کردار بھی معمہ ہے لیکن فی الحال ان معموں پر قلم آزمائی کی بجائے دھرنا سکرپٹ کے خاص کرداروں سے چند سوال کرنے ضروری ہیں ۔ اس کے بعد ان تمام معموں کے اسباب اور ان کا حل وقتاً فوقتاً تحریر کیا جائے گا۔ حالات صبح سے شام تک سورج کی طرح ٹھنڈے گرم ہو رہے ہیں۔ بگڑی صورتحال شیطان کی آنت کی طرح طویل ہوتی جا رہی ہے۔ ہو سکتا ہے جب آپ پڑھیں تب تک حالات کسی اور نہج پر ہوں اس لئے اس پر کوئی بات لکھنا مشکل ہے۔اگرچہ میرے استاد نے کہا ہے کہ سچ لکھنا اس لئے مشکل ہے کہ یا تو مدیر کاٹ لیتا ہے یا پھر فیس بک پر کاٹنے والے متحرک ہو جاتے ہیں۔ عوام صرف وہ پڑھنا اور سننا چاہتی ہے جو اسے پسند ہے۔ اس کے علاوہ تمام دلائل بھی غلط، جھوٹ اوردلائل دینے والا بکاؤ مال کہلاتا ہے۔ اس کے باوجود میں پیشہ ورانہ فرائض کی وجہ سے ایسی عینک بیچنے پہ مصر ہوں جو اپنی پسند کا منظر دکھانے کی بجائے حقیقت دکھائیں۔
میں ایک محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے چند سوالات کی جسارت کر رہا ہوں لیکن اس سے پہلے ان لوگوں کو جنہوں نے کالم پڑھ کر مجھ پر فلسفوں، مہذب الفاظ کی بوچھاڑ اور کسی خاص پارٹی کے ساتھ انسیت کی مہر لگانی ہے ان پر واضح کر دوں کہ میں وہ پہلا پاکستانی ہوں جس نے2009 ؁ء میں اپنی کتاب عمران خان کے نام منسوب کی اور یہ خان صاحب کے نام پہلی اور شاید واحد کتاب تھی کیونکہ اس وقت کپتان کے عزائم اور وعدے پاکستان کیلئے تھے لیکن بعد میں انہوں نے باقی لوگوں کی طرح سیاست کی کالی چادر اوڑھ لی۔ میں وہ پینٹنگ ہوں جو صرف پاکستان کے فریم میں بند ہوں، میری پہچان نواز، خان یا قادری نہیں پاکستان ہے۔ سوالات اتنے ہیں کہ شاید پورے اخبار پر جگہ نہ ملے اس لئے فی الحال حالیہ باتوں پر اکتفا کرنا بہتر ہے۔ کیا یہ بہتر نہ تھاکہ آپ آتے ہی دھاندلی کے وہ ثبوت فراہم کردیتے جن کا راگ آپ پچھلے کئی ماہ سے الاپ رہے تھے۔ اس کے بعد کوئی قدم اٹھاتے لیکن آپ نے کوئی ایک بھی ثبوت پیش نہ کیا اور آتے ہی سول نافرمانی کا اعلان کردیا ۔ ۔۔کیوں؟ کیا اس وقت آپ کو پاکستان کا ذرا خیال نہ آیا ؟ کیا یہ بہتر نہ تھا کہ پہلے ثبوت فراہم کرتے ، پھر مارچ اور پھر کچھ اور۔ دوسری بات یہ کہ آپ نے لکھ کر دیا کہ ریڈ لائن پار نہیں کریں گے تو پھر کیوں اپنے الفاظ سے پھرے۔ آپ میں اور دوسرے لوگوں میں کیا قدر مختلف رہی؟ اگر آپ بھی دوسروں کی طرح وعدہ خلافی کریں گے تو کیا آئندہ وعدوں پر یقین کرنا چاہئے۔ آپ بادشاہت کے خلاف آئے تو کیا آپ نے بادشاہت کا مظاہرہ نہیں کیا؟ قریشی صاحب ایک ٹی وی شو میں آپ کی پیش قدمی سے انکار کررہے تھے۔ جاوید ہاشمی صاحب اور بقول ان کے باقی سب بھی مخالفت کر رہے تھے تو آگے کیوں بڑھے؟ کیا یہ بادشاہت نہیں کہ آپ اپنی پارٹی کے صدر کو صرف اس بات پر کہ وہ آپ کو غلط اقدام سے روک رہا ہے آپ کہتے ہیں کہ لیڈر میں ہوں، آپ جا سکتے ہیں۔ کیا پر امن لوگ ساتھ پتھر لے کر جاتے ہیں۔ اب یہ نہ کہیں کہ سڑک پر پتھر تھے۔ پورے ملک میں صرف وہ سڑکیں، پتھروں اور کوڑا کرکٹ سے پاک ہیں۔ آپ ڈنڈوں، غلیلوں، کلہاڑیوں، وائر کٹر، گیس ماسک سے لیس کارکنوں کو دھاوا بولنے کا کہا اور ساتھ اپنے بڑے ہجوم سے پر امن رہنے کی امید کیوں رکھی؟ کیا آپ کو یہ نہ پتہ تھا کہ ایسا نہیں ہوتا؟ کیا آپ کو احساس تھا کہ لوگوں کی جانیں قیمتی ہیں؟ ان کے نقصان کا ذمہ دار خود کو کیوں نہیں سمجھتے؟ اگر آپ نے ریاستی اداروں پر دھاوا بولنا تھا تو نونہالوں کو گھر وں میں کیوں نہ چھوڑا، قادری صاحب کو کمبل کیوں بنا لیا؟ یہ بھی بتا دیں کہ پرائم منسٹر ہاؤس میں جب پرائم منسٹر تھا ہی نہیں تو اندر گھس کر کیا دکھانا تھا؟ کیا یہی تبدیلی ہے؟
یہاں بڑے ادب سے مولانا صاحب سے بھی ایک سوال ہے کہ آپ اپنے ڈنڈا بردار فورس کو بار بار پرامن کا لقب عطا فرما کر اپنی عاقبت کیوں خراب کرنا چاہتے ہیں؟ آپ اس ملک کا سرمایہ ہیں۔ ہم آپ کے عقیدت مند ہیں لیکن جب آپ کے قریب ہوتے ہیںآپ کا دوہرا معیار اور متضاد بیانات ہمیں دور کر دیتے ہیں۔ آپ کی بات ٹھیک ہے ’’انقلاب پلیٹ میں نہیں ملتا‘‘ ، لیکن کیا یہ بات بھی سچ نہیں ہے کہ چند ماہ کے نونہالوں سے بھی انقلاب نہیں آتا۔ پھر انہیں ساتھ کیوں لے کر گئے؟ آپ کو نظر نہیں آ رہا تھا کہ جن لوگوں کو آپ یہودی کہتے اور سمجھتے ہیں وہ کسی بھی حد تک جا ئیں گے تو پھر ان شیر خوار بچوں جن کے زخمی ہونے کا آپ نے میڈیا کو بتایا ان کے قصورورا حکومت کے ساتھ ساتھ آپ بھی ہیں۔ محترم آپ جیسے قانون دان اور ذہین شخص نے ان کو آگے جانے کا کیوں کہا؟ آپ نے ایسا داغ اپنے دامن پر کیوں لگایا جن کو دھوتے دھوتے کئی دھائیاں گزر جائیں گی۔ آپ کو لوگ شیخ الاسلام کہتے ہیں اور آپ نے مسلمانوں کو یہودی کہہ دیا، وہ جیسے بھی تھے بہرحال کلمہ گو تھے۔کیا جذبات میں آپ بھول گئے کہ اسلام کافر کو بھی کافر کہنے سے منع کرتا ہے؟ اس کے ساتھ ساتھ مجھے آپ کے کفن اور مرنے سے پیشتر قبر کھودنے کی سمجھ نہیں آئی۔ سرکاری عمارتوں پر لشکر کشی کر کے آپ کس امن مارچ کا نعرہ لگا رہے ہیں؟ ایک طرف آپ سرکاری عمارات پر قبضہ کرنے کی مبارکباد دیتے ہیں تو دوسری طرف آپ پی ٹی وی کی عمارت میں آنے والے انقلاب سے انکاری کیوں ہیں؟ کیا اشتعال انگیز تقاریر کے بعد کارکنوں سے پرامن رہنے کی توقع کی جا سکتی ہے؟
آخر میں آپ دونوں معتبر اشخاص سے یہ سوال ہے کہ کیا الیکشن میں یہ چند ہزار لوگ حصہ لیں گے؟ الیکشن جتنے بھی شفاف ہوں لوگ کولہو کے بیل کی طرح جڑے رہیں گے، کیا سب سے پہلے ان کی تربیت اور سوچ کی تبدیلی ضروری نہیں تھی؟ کیا آپ کو نہیں پتا کہ لاکھوں لوگ بھٹو، الطاف، نواز، عمران اور قادری کے نام پر مہریں لگاتے ہیں چاہے امیدوار ایک بت ہی کیوں نہ ہو؟ اگر ریفارمز کے مطلقہ مطالبات مان لئے گئے ہیں تو پھر مہم جوئی کیوں کر رہے ہیں؟ کیا وزیر اعظم کے جانے سے ان کی سوچ تبدیل ہو جائے گی؟ اس کے بعد وجود میں آنے والی حکومت جس کے بنیادی کردار خٹک، شیخ رشید، ترین، قریشی اور چوہدری ہوں گے تو کیا تبدیلی لائیں گے؟
تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی کوئی انقلاب آیا تو اس کے لئے ایک تحریک یا فکر کو ایک عرصہ تک پروان چڑھایا جاتا رہا اور جب یہ فکر لوگوں کے دل واذہان میں پنپ چکی تو اس نے خود بخود ایک نئے معاشرے کی بنیاد رکھی جس کی سب سے بڑی مثال اسلام ہے جسے آقائے دوجہاںﷺ نے آہستہ آہستہ لیکن تسلسل کیساتھ لوگوں کی روح میں اتارا اور اس معاشرتی نظام نے لوگوں کی سوچ، تہذیب وتمدن اور اوصاف کو ایسا نکھارا کہ یہ دنیا کے سب سے اعلیٰ معاشرے کی حیثیت سے اپنی مثال آپ تھا۔ لیکن جہاں معاشرے کوایک دم سے تبدیل کیا جانا مقصود ہو تو ایسی سوچ پروان چڑھتے ہی مر جاتی ہے یا پھر شورش، فساد اور خانہ جنگی کا باعث بنتی ہے۔ ایسی تہذیب جلد تباہ ہوتی ہے یا پھر تنزلی اور پستیوں کی انتہائی دلدل میں چلی جاتی ہے۔ تو ہمیں انتخاب کرنا ہے کہ ہمیں کس طرز کا معاشرہ چاہئے۔

note

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button