شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / سربراہ مملکت؟

سربراہ مملکت؟

waqar butیہ سوال سب کی زبان پر ہے کے آخر آیندہ صدر مملکت کون ہوگا؟ زرداری صاحب نے تو نو ستمبر کو ہر صورت اس منصب کو خیرآباد کہہ دینا ہے۔ الیکشن کمیشن پاکستان بھی اپنے فرائض سرانجام دینے کے لیئے تیار ہے اور اس نے الیکشن شیڈیول بھی جاری کردیا ہے اور چھے اگست ۲۰۱۳کو صدارتی انتخابات کی ڈیٹ بھی صادر کر دی ۔ان الیکشنز کے ریٹرننگ آفیسر خود چیف الیکشن کمشنر فخروجی ابراہیم ہونگے۔صدارتی انتخابات جس پر وفاق کی جانب سے کچھ اور مہلت مانگ لی گئی ہے ۔خیر انتخابات اس تاریخ کو ہوں یا اس کے کچھ دیربعد یہ بات طے ہے کے کسی سوالین نے پہلی بار اپنا دور اقتدار پورا کیاوہ خوش قسمتی سے آصف علی زرداری ہیں ۔صدرپاکستان جو کہ سربراہ ریاست ہوتا ہے کیوں نہ وہ کوئی ایسا آئے جس سے سب راضی ہوجائیں امکان ہے کہ مجموعی اکثریت کے باعث مسلم لیگ نواز کے امیدوار فاتح رہیں ۔ن لیگ نے ابھی تکختمی فیصلہ نہیں کیا البتہ چار نام زیر غور ہیں سرتاج عزیز،سید غوث علی شاہ ،مہتاب عباسی اور سعید الزمان صدیقی ۔پیپلزپارٹی نے سینٹر رضاربانی ،پی ٹی آئی نے جسٹس وجیہہ ادین احمداور ق لیگ نے سینیٹر سعید مندوخیل کے نام فائینل کر دئیے ہیں۔یہ عہدہ ہمیشہ متنازعہ رہا ہے اور کبھی اپنے اقبال کو حاصل نہیں کر سکا انتہائی اہمیت کے حامل عہدے پر اکثروبیشتر جرنیلوں نے راج کیا مگر اب ہر سو جمہوریت کی بہاریں ہیں۔جو سول صدر بھی بنے ان میں بھی متعدد صدوراس عہدے کے لئیے اہل ہی نہیں تھے بس قسمت جب چاہے کسی کو عروج دے ۔نئے صدر کے آتے ہی ملک کو بین الاقوامی وقار نصیب ہوگا اور وہ آئینی استحکام نصیب ہوگا جس سے یہ وطن عزیزہمیشہ سے محروم رہا ہے۔ذاتی طور پر رضاربانی اچھے شخص ہیں اور ماضی میں قابل تحسین سرگرمیاں سر انجام دے چکے ہیں پی پی پی نے دانشمندی سے کام لیتے ہوئے امیدوار چنا ہے مگر فائدہ کیا اب بازی ان کے ہاتھ میں ہی نہیں ۔پی ٹی آئی نے جسٹس وجیہہ ادین احمدکو نامزد کیا جو ماضی میں بھی صدارتی انتخاب میں دلچسپی رکھتے تھے جناب سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے کام کر چکے ہیں دیکھا جائے تو آپ بھی موقول امیدوار ہیں۔ رہی ق لیگ کی بات تو پی پی پی نے شجاعت حسین صاحب سے اپنی حمایت کرنے کی درخواست کردی ہے اور ایسا ممکن نہیں کے ق لیگ انکار کر سکے۔وزیراعظم تو پارلیمنٹ کا قائد ہوتا ہے ہر کام کرنے سے پہلے اسے صدر کے اجازت نامے کی ضرورت ہوتی ہے اعداد اکژیت کے سبب ن لیگ کا ہی صدر ہوگا لحاظہ پارٹی کو جانچ پرتال کہ بعد آخری فیصلہ سنانا چاہیے یہ افواہیں بھی موجود ہیں کہ میاں شہباز شریف صاحب کو صدر بنا یا جائے مگر میاں نواز شریف اتنے چھو ٹے دل کے مالک نہیں کہ اپنے جانثاروں کو رد کریں اور ان پر عدم اعتمادی کا ثبوت دیں۔ ویسے تو جمہوری نظام میں صدر کا کوئی عمل دخل نہیں ہے مگر ان کے پاس اہم سوابدیدی اختیارات ہیں جن کا استمعال ضرورت پڑنے پر کیا جا تا ہے۔قوم بجا طور پر یہ توقع رکھتی ہے کہ جن صاحب کے کندھوں پرنئے سربراہ مملکت کا ہما بیٹھے گاوہ اس منصب کی نزاکتوں اور ذمہ داریوں سے بخوبی واقف ہونگے اور عالہ سفات کے کا پیکر ہونگے۔آمرڈکٹیٹرمشرف کی کالی ترمیم کے مطابق کوئی صاحب بھی صدر ہوسکتے ہیں چاہے ان کا ذہنی توازن تک درست نہیں ہو۔سرتاج عزیز جو وزیراعظم کے مشیر برائے داخلی امور ہیں ان کا نام صدارتی امیدواروں میں سہرفہرست ہیں۔سید غوث علی شاہ جن کا تعلق سندھ سے ہے وہ بھی نواز لیگ کی سینیئرقیادت کا حصہ ہیں اس لیئے ان کا نام فایئنل ہونے کے کافی ذیادہ چانس ہیں جو کہ خوش آیئند ہے ۔میرانہیں خیال کے کوئی ایسا شخص ہو جوانکے اس عہدے پر فائض ہونے پر اعتراض کرے ۔باقی ممالک میں یہ ایک غیرمعمولی نوعیت کی با ت ہے کہ کوئی اپنا عہدہ دور اقتدار پوراکرنے کے بعد کسی دوسرے کومنتقل کر دے پر ہمارے وطن میں ایسا پہلی بار ہونے جا رہا ہے۔دونوں پارلیمانی ایوان اور چاروں صوبوں کی اسمبلیاں ملکرانتخابی ادارے کو تشکیل دیتے ہیں جو کہ طے شدہ آئینی فارمولیکے مطابق صدر کا چناو کرتے ہیں۔اب جب دو ہفتے بعد فیصلہ سامنے آئے گا تاریکی جھٹ جائے گی پھر معلوم ہوگا کہ یہ ہے آفتاب سحر۔..لوجی نئے صدر کے بھیرنگ دیکھتے ہیں کتنے بھاری ہیں اسکے سنگ دیکھتے ہیں..۔

یہ بھی پڑھیں  رحیم یارخان: اجتماعی زیادتی کےملزمان گرفتارنہ ہوسکے