تازہ ترینکالم

امن عالم دہشت گردی کا خاتمہ اورکشمیر وفلسطین کا حل ناگزیر

خصوصی تجزیہ: سردار محمد طاہر تبسّم (صدر انسٹی ٹیوٹ آف پیس انیڈ ڈیویلپمنٹ)

دنیا میں بڑھتے ہوئے تنازعات اور دہشت گردی کے سانحات نے امن عالم کو تہہ وبالا کر کے رکھ دیا ہے نائن الیون اور سیون سیون کے دل خراش واقعات نے تما م عالمی انداز و اطوار اور اصولوں و قوانین کو بدل کر رکھا دیا ہے ۔ان واقعات نے من حیث المجموعی نقصان صرف اسلا م اور مسلمانوں کو پہنچایا ہے اب اس کا دائرہ کار بتدریخ پھیلتا جارہا ہے ۔
دہشت گردی کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی نام نہاد ’’مقدس جنگ‘‘ کا آغاز روس کے خلاف افغانستان سے ہوا۔جس کا پھیلاؤ وقت کے ساتھ ساتھ شام ،مصر،لیبیا،سوڈان،یمن ،عراق،اردن اور ایران تک پھیل گیا ۔جبکہ کئی سالوں سے پہلی اسلامی اٹیمی قوت پاکستان تک آن پہنچی ہے ۔جس کا محرک لندن ،فرانس ،سپین میں ہونے والے فسادات ڈنمارک میں شان رسالت مآب ﷺ کے خلاف مبینہ خاکوں کی اشا عت پادری ٹیری جونزکی بکواس اور اب امریکہ میں نبی آخرالزماںﷺکی شان کے خلاف انٹر نیٹ فلم کا منظر عام پر آنا ہے ۔ڈنمارک کے اس اخبار کے خاکے گزشتہ سالوں سے دنیا کے 50سے زائداخبارات اور جرائد نے کئی بار شائع کیئے جس سے مسلمانوں کے جذبات کا استعمارایک فطری بات ہے ۔بلکہ حالیہ انٹر نیٹ فلم کے بعد بھی دنیا بھر میں مسلمانوں نے شدید ردعمل اختیار کرتے ہوئے ہر ملک اور ہر جگہ پر مظاہرے جاری ہیں اور بن غاز ی لیبیامیں امریکی سفیر سمیت درجنوں افراد ہلا ک ہو گئے جو قابل مذمت بات ہے تاہم یہ بات مسلمہ ہے کہ مسلمان عقائدو ایمان میں کمزور ہو جائیں لیکن رسول پاک ﷺ کی ذات بابر کات کے خلاف ایک لفظ کبھی برداشت نہیں کر سکتے ۔دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں پاکستان نے فرنٹ مین کا کلیدی کردارادا کیا بلکہ یہ کہنا بے جا نہیں ہو گا کہ ہمارے ملک کی سا لمیت بھی داؤ پر لگ چکی ہے کیونکہ بھارت کی طرف سے عالمی مواعیدتسلیم نہ کرنے اور اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیئے عدم تعاون کی پالیسی پیچھے امریکہ اور یہودونصاریٰ کا ہاتھ ہے ۔اس جنگ میں امریکہ نے چین کا راستہ روکنے کے لیئے بھارت کو تو اپنا تھانیدار اور سٹرٹیجک پارٹنربنا لیا ہے لیکن پاکستان بتدریخ اقتصادی انحطات کا شکا رہے ۔باجوڑ،پارہ چنار،سوات، فاٹا اور جنوبی وزیر ستان اور سلالہ میں امریکی ڈراؤن حملوں نیٹو کے زریعے فائرنگ کا شکار ہوا اور قرضوں کے بوجھ تلے دب رہا ہے بلکہ ہمارا ملک اسی دہشت گردی کی جنگ میں حصہ لینے کی وجہ سے خود دہشت گردی کا شکار ہو چکا ہے اور ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں کراچی خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے حالات بہت خراب ہیں اور ان کی خرابی درست کرنے میں ڈائیلاگ کے بجائے طاقت کا استعمال کیا جارہے ۔ہماری معیشت اور ملک دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچا ہے ملک کو بے شمار اندرونی و بیرونی سازشوں اور خطرات کا سامنا ہے ۔اس کا مداوا کرنے کے لیئے عوام کی امیدیں صرف مسلم افواج سے وابستہ ہیں جو دنیا بھر کے خطرات اور سازشوں کا مقابلہ کرتے ہوئے قیام امن ،ملک کی سلامتی ودفاع اور انسانیت کی بھلائی کے لیے ہمہ تن مصروف عمل رہتی ہے ۔فلسطین وکشمیر اور بر ما میں بے گناہ اور معصوم مسلمانوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹ پھینکا جاتا ہے ۔غزہ کی پٹی میں اور برما میں قیامت صغریٰ برپا ہوئی کشمیر میں ہزاروں معصوم بچوں ،خواتین اور نوجوانوں کوتہہ تیغ کر دیاگیا ۔مزارات ومساجد کو شہید کیا جارہا ہے ۔عراق شام اور یمن میں نت نئے مظالم ڈھائے جار ہے ہیں ۔ایران پر پاپندیوں کے پھندے تیار کیئے جارہے ہیں ۔پہلے صدام حسین اور اسامہ بن لادن کے نام پر مسلمانوں کو مارا گیا اور اب القاعدہ اور طالبان کی آڑ میں مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے ۔جس کی آڑ میں پوری امت مسلمہ کو خوفزدہ کمزور اور بالا آخر ختم کرنے کے لیئے حربے آزمائے جار ہے ہیں ۔اگر امریکہ اپنا زنگ آلود اسلحہ بیچنا ہی چاہتا ہے تو اسے مشرق وسطیٰ اور خلیجی ریاستوں کے امیر اورشاہ خرچ بادشاہوں کو بلا کر اسے خرید نے کا حکم دینا چاہیے جو اپنے غیر جمہوری بادشاہوں کو بچانے کے لیئے وہ خرید لیں گے ۔لیکن مسلمانوں کا بلاجواز قتل عام فوری بند کیا جانا چاہیے ۔دنیا میں امن اور انصاف کے بڑے دعوے داراورچمپین ہیں لیکن کسی میں اتنی جرات نہیں کہ وہ امریکہ اور اس کے حواریوں سے باز پرس کر سکے کہ امریکہ دنیا بھر میں آگ اور خون کی پالیسی پر عمل پیرا ہو کرکیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے ۔فتح و شکست اس کشمکش میں دنیا امن سے ہٹ کر تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ایک عرب 60کروڑمسلمانوں کو ختم کرنا ممکن نہیں ہے ۔ایسا راستہ اختیار کرنے کا وقت آگیا ہے کے ایسے اقدامات کیے جائیں جس سے دہشت گردی تباہی نفرت اور دوریاں ختم ہو سکیں۔دہشت گردی کا عنصر پوری دنیا میں موجود ہے اس میں اضافہ کا رجحان بھی دیکھا جار ہا ہے ۔دہشت گردی کی تعریف بھی کرنے کی ضرورت ہے اور اس کو ہو ادینے والے ممالک اور اداروں کی نشاندہی ہونی چاہیے نیز اس میں ملوث ممالک اداروں اور افراد کے خلاف کون ساقانون حرکت میں ہے ۔دہشت گرد کا نہ کوئی مذہب ہے نہ مسکن !بلکہ میں یہ عمل سمجھتا ہوں کہ انتقام جنون اور ردعمل کا نام ہے ۔دنیا میں دہشت گردی کے فروغ اور اسے انتہاتک پہنچانے میں رو س نے کردار ادا کیا ۔جس کے نتیجے میں کئی اسلامی ممالک وجود میں آئے امریکہ نے روس کو ٹکڑے کرنے میں حصہ لیا ۔اسرئیل نصف صدی سے زائد عرصہ میں فلسطین او ر بھارت کی افواج کشمیر میں قتل عام اور ظلم و جبر کے پہاڑ توڑ رہی ہیں ۔آخر کوئی قانون تو ہو جوایسے ظالموں کو لگا م دے۔جو انسانیت کے قاتل اور امن کے دشمن ہیں ۔اقوام متحدہ اور آئی سی اور یورپی و افریقی بلاک بڑی اور امید کی کرن ہیں لیکن ان اداروں نے بھی دہشت گردی کو فروغ اور تقویت دینے والے مہروں کے خلاف ا ب تک کوئی عالمی قانون نہیں بنایا نہ عملی کردار ادا کیا ہے ۔ظلم ناانصافی اور مذہبی تعصب جہاں ہو گا وہاں دہشت گردی ایک فطری ردعمل ہوسکتا ہے اور بدنامی ان مذاہب اور ممالک کی ہوتی ہے جن میں ایسے افسوس ناک واقعات رونما ہوتے ہیں ۔دہشت گرد مذہب کا نام استعمال کرتے ہیں اس کے پیروکا
ر نہیں ہوتے اگر وہ حقیقی پیروکارہوں تو معصوم قیمتی جانوں کا بلا جواز خون کبھی نہ بہائیں ۔تاریخ گواہ ہے کہ کوئی مذہب پیغمبر اور دین میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کی تعلیم و تربیت نہیں دیتا۔دہشت گرد سے نفرت کی جانی چاہیے مگر مذاہب سے نہیں کیونکہ تمام مذاہب امن وسلامتی بھائی چارہ رواداری برداشت اور حسن اخلاق وسلوک کا درس دیتے ہیں ۔مذاہب ثقافتوں اور تہذیبوں سے نفرت دراصل انسانیت سے نفرت کے مترادف ہے ۔مسلمان دہشتگرد ہیں نہ غیر مسلم ہر مذہب کے ماننے والوں میں کچھ لوگ بہرحال موجود ہوتے ہیں جو کالی بھیڑوں کا کردار ادا کرتے ہیں ۔مذاہب قطعًا برے نہیں بلکہ اس کے پیروں کاروں میں خرابیاں ہو سکتی ہیں ۔الہامی کتب صحفیے اور ادیان کی تعلیمات سچائی اور حق پر مبنی ہیں ان کی صداقت میں کوئی فرق نہیں ہے تاہم ان کے پیرو کاروں کی کسی مفاداتی یا نفرادی غلطی اور خرابی کو ان کے مذہب پر نہیں تھونپا جاسکتا ابرہیمی مذاہب وادیان امن انصا ف درگزر محبت و اتحاد و تعاون اور سلامتی کا درس دیتے ہیں ان پر غلط تہمتیں لگانا سراسر گناہ ہے بدھ مت،ہندو،سکھ جین اور باقی مذاہب بھی تخریب کاری یا دہشت گردی کی تعلیم نہیں دیتے ۔امریکہ ،برطانیہ،یورپ،افریقہ ،ایشیاء اور مشرق وسطٰی ہر جگہ پر دہشت گرد اور انتہا پسند موجود ہیں ۔امریکہ میں وائٹ پاور اور کئی قدامت پسند اور انتہا پسند ادارے تنظیمیں اور گروپس موجود ہیں جو صدیوں سے دہشت گردی کے فروغ اور اس کے کئی واقعات میں پوری طرح ملوث ہیں برطانیہ اور یورپی ممالک میں بھی کئی مرتبہ مذہب ،نسل،زبان اور رنگ کے نام پر بڑے بڑے فسادات اور حادثات رونما ہو چکے ہیں۔آئر لینڈ،چین،پولینڈ،برطانیہ اور ہندوستان میں درجنوں ایسی دہشت گرد اور انتہا پسند گروپس اورتنظیمیں موجود ہیں جو گزشتہ کئی صدیوں سے انتہا پسندی دہشت گردی مذہبی و قبائلی اور انسانی فرقہ واریت میں ملوث ہیں اور لاکھوں افراد ان کے مظالم کی وجہ سے لقمہ اجل بن رہے ہیں ۔اور درجنوں خوفناک اور دل خراش سانحات بھی رونما ہو چکے ہیں ۔اس وقت تمام طاقتور ممالک اور اداروں کو مل کر انتہا پسندی دہشت گردی اور ناانصافیوں کے خاتمہ کے لیے کوئی مستقل عالمی ادارہ بنانا چاہیے جوایسی قانون سازی کرے اور عوامی رائے عامہ کو ان خوفناک حوادث سے بچنے کی ترغیب تربیت دے اور ملوث افراد کو عبرت ناک سزائیں دے۔
موجودہ وقت میں عام رواج یہ ہے کہ دنیا بھر میں رونما ہونے والے دہشت گردی اور خود کش حملوں کے نام پر ہونے کے واقعات کو مسلمانوں کے سر تھونپ دیا جاتا ہے ۔حالانکہ چند ہفتے پہلے امریکہ میں ایک جنونی شخص نے ردعمل کے طور پر کئی افراد کو واصل جنہم کر دیا تھا۔یوں بھی ویت نام ،کیوبا،ایران ،عراق اور افغانستان میں امریکی فوج اور اس کے اتحادیوں کی افواج نے اس صدی کی بدترین مسلح دہشت گردی کی ہے جو اب تک جاری ہے تو امریکہ کو دہشت گرد ملک کیوں قرار نہیں دیا گیا اس کا جواب کون دے گا؟امریکہ کے ایماء پر اسرائیل فلسطین میں اور بھارت کشمیر میں قتل عام جاری رکھے ہوئے ہیں ۔نہ انہوں نے کبھی اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں اور معائدوں کی پرواہ کی ہے اور نہ ان کو عمل درآمد پر پابند کیا جاتا ہے۔خود بھارت میں سنیکڑوں انتہا پسنداور دہشت گردہندوگروپس اور تنظیمیں کئی صدیوں سے سرگرم عمل ہے ۔آر ایس ایس دشوا ہندوپر یشد،بجرنگردل،شیو سنہا،ہندو مہاسبھا،جن سنگھ،ہندو توا اور بی جے پی دہشت گرداور انتہا پسند گروپس ہیں تاریخ بابری مسجد کا انہدام امر تسر میں سکھوں کے مقدس مقام گولڈن ٹمپل پر مسلح حملہ الہٰ آباد احمد آباد اور گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام پانچ ہزار سکھ یاتریوں اور خالصتان تحریک کے پچاس ہزار سکھوں اور نوجوانوں کا قتل عام اور پانچ لاکھ سے زائد معصوم کشمیریوں کی شہادت کے مکروہ اور افسوس ناک سانحات سے پوری دنیا واقف ہے ۔نیپال،تبت،چیچنیاکو سوو،تایؤان ،سری لنکا ،فلپائن ،بر مااور بھو ٹان وبنگلہ دیش میں دہشت گردی کے واقعات اور لبنان کے ہر دلعزیز وزیر اعظم رفیق ہریری سعودی عرب کے شاہ فیصل اور پاکستان کی مقبول سیاست دان متحرمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے واقعات بھی عالمی دہشت گردی کی کڑی ہیں۔امریکہ نے انتقام کی آگ میں ایک لاکھ تیس ہزار بے گناہ عراقیوں کا خاتمہ کیا ،لیبیا اور مصر میں انقلاب بر پا کر دیا شام اور ایران کے خلاف مذموم سازشیں اب بھی جاری ہیں اسلامی ممالک میں مقدس مزارات اور مقامات کو منہدم کر کے اُن کی بے حرمتی کی گئی اور یہ مظالم ابھی تک جاری ہے ۔
دنیا بھر میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور توسیع پسند انہ پالیسی کے اقدامات سے روکنے والا کوئی نہیں ہے امریکہ جب چاہیے جہاں چاہیے اور جو چاہیے کر تا پھر تا ہے اقوم متحدہ کا ادارہ امریکہ کا طفیلی اور اس کا سیکر ٹری جنرل اس کا ہیڈ کلرک بن کر رہ گیا ہے ۔اقوام متحدہ کی 65سالہ کارکردگی مایوس کن ہے یہ ادارہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں بری طرح ناکام اور نامراد رہا ہے ۔کسی دہرینہ اور بڑے تنازعہ کے حل میں اس کا کوئی قابل مثال کردار نہیں ہے ۔کشمیر اور فلسطین کے خوفنا ک حل طلب تنازعات ہنوذ زیرالتواء اور دنیا کی توجہ کے مستحق ہیں ۔ایسے محسو س ہو رہا ہے کہ اقوام متحدہ دنیا بھر میں امریکی مفادات کی نگہبانی اور حکمرانی کے لیئے بطور سیڑھی استعمال ہو رہا ہے ۔جس کی وجہ سے اس اہم عالمی ادراے کی شناخت اور تشخص مجروح مشکوک مسخ ہو تا جا رہا ہے ۔اس دنیا بھر میں تنازعات اور جھگڑوں کو حل کر کے امن ترقی کا بڑا چرچا ہے پہلے یہ تنازعات کاروباری اداروں اور افراد کے زریعے حل کیئے جانے کی کوشش کی گئی اور اب ڈائیلاگ کو رواج دیا ہے دنیا میں اکثریتی طبقات اور ممالک غربت اور وافلاس ناانصافی اور ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں ۔افریقہ ،ایشیا،اور شمالی امریکہ میں غربت اور افلاس کا زہر تیزی سے پھیلا رہا ہے ہر ملک اور معاشرے کے سینکڑوں مسائل ہیں مذہبی انتہا پسندی ہر جگہ سر چڑھ کر بول رہی ہے ۔دہشت گردی موزی مرض کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔جس کی وجہ سے ہر مذہب تہذیب اور معاشرہ متاثر ہے افسو س کا مقام یہ ہے کہ اُس وقت دنیا کے تما م وسائل انسانیت کو بچانے اس کی خوشحالی اور ترقی کے بجائے انسانیت کے خاتمے کے لیئے صر ف کیئے جار ہے ہیں جوہری ہتھیاریوں کی دوڑنے دنیا میں امن کے تمام منصوبوں کو مخدوش کر کے رکھ دیاہے ۔مذہبی بقائے باہمی ہم آہنگی اور رواداری کی آفاقی تعلیمات کو بھلادیا ہے مذہبی منافرت کو پھلا کر انسانیت اور آزادی کی روح کو بھلا دیا ہے مذہبی منافرت کو پھیلا کر انسانیت اور آذادی کی روح کو گھونٹ دیا گیا ہے ۔اس وقت ایسے ورلڈ سو شل آرڈر کی فوری ضرورت ہے کہ جس پر عمل پیرا ہو کر دہشت گرد ممالک اور دہشت گردی کے اہم اسباب کا مداوازیادہ اہم ہے ۔ناانصافیاں ظلم اور تو سیع پسندی وانتہا پسندی کے جنون کو ختم کرنا ہے ۔اسی سے دہشت گردی ختم کرنے سے مدد ملے گی۔عالمی میڈیا این جی اوزدانشور و فنکار طبقات ایسی کتابیں لکھیں افسانے و ناول لکھیں مضامین لکھیں ،ڈرامے اور فلمیں بنائیں جن پر مذاہب کے خلاف بڑھتی ہوئی دوری اور تخریب ختم ہو اور ایک دوسرے کو قبول کرنے، برداشت کرنے،مل کر اتحاد و یگانگت ،بھائی چارہ اور محبت کو فروغ ملے ۔قتل عام ظلم تشدد انسانی حقوق کی خلافی ورزیاں بندہوں کیونکہ سچ یہ ہے کہ جنگ اور امن ایک ساتھ اکٹھے نہیں چل سکتے آگ بجھانے والے اگر دوسری طرف آگ لگانے کا عمل جاری رکھیں گے تو پھر آگ مزید پھیلے گی ختم نہیں ہو سکتی ۔امریکہ اسرائیل اور بھارت مکھن ملائی والی گفتگو تو کرتے ہیں لیکن ان کا عمل و کردار مذہبی پالیسی اس طرح جاری رہی تو امریکہ جان لے کہ اس کا اپنا مستقبل بہت جلد سوالیہ نشان بن سکتا ہے۔مذہبی انتہا پسندی ایک ایسا زہر ہے جو ایٹم بم سے بھی زیادہ مہلک ہے ۔اس کے تدارک اور خاتمے کے لیئے تما م عالمی اداروں ،دانشوروں ،میڈیااور این جی اوزکو ملک کر اپنی صلاحتیں بروئے کار لانی ہوں گی۔کیونکہ حالات تیزی سے مسلسل ابتری کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔جس کا کچھ عرصہ بعد شاید علاج بھی ممکن نہ ہو گا انسانیت کے دشمن ہر جگہ دندناتے پھر رہے ہیں ۔امن کے سلوگن نے مذہب کی صورت اختیا ر کر لی ہے۔ہر فرد اور معاشرہ امن کا خواہش مند ہے ۔امن کو رواج دینے کے لیئے حقیقی عملی اقدامات اٹھانے کی فوری ضرورت ہے ۔عالمی امن کا خواب کشمیر فلسطین کے دیرینہ اور نیوکلیئر تنازعات کے پر امن اور فوری حل کے بغیر کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتے ۔ہر تہذہب ،ہر ملک اور ہر فر دکو انفرادی اور اجتماعی سطح پر قیام امن کے لیے عملی اقدام کرنے ہوں گے ۔اسی میں ہم سب کی کامیا بی دنیا بھر کی سلامتی اور ترقی کا راز مضمر ہے ۔ ورنہ تہذیبوں کے ٹکراؤ اور تیسری عالمی نیوکلیئرجنگ کو روکنا قطع ممکن نہیں ہے جو مذہب اور تہذیبوں میں افتراق نفر ت اور انتشار کی وجہ سے ہوگی۔رسول اکر م ﷺ کی ذات بابرکات کے خلاف نائن الیون کے بعد سے وقفہ وقفہ میں غیر مسلم طاقتوں اور میڈیا کی طرف سے گستاخانہ اقدامات مسلسل جاری ہیں ۔ہر ماہ دو ماہ میں مسلمانوں کے جذبات و احساسات کا متحان لیا جاتا ہے ایسے روح فر سا واقعات کو اب روک دیا جانا ضروری ہے ۔مسلمان عمل و کردار میں بہر حال کمزور ہو رہے ہیں لیکن پیغمبر اسلام ﷺ کے ساتھ ان کی عقیدت و محبت میں کوششوں کے باوجود کمی نہیں آسکی ۔چند دنوں میں یہود و نصاری اور مسلم دشمن قوتوں نے دیکھ لیا ہے کہ مسلمان رسالت مآب محمدﷺکی عزت و ناموس کی خاطر جان ومال اور ہر چیز قربان کرنے کو بے تاب ہیں اور یہی بات مسلمانوں کے لیئے باعث فخرہے ۔

یہ بھی پڑھیں  راولپنڈی:جلد لینڈ مافیا کو پبلک چنار پارک سے نکال باہر کیا جائے گا، ضیا اللہ شاہ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker