تازہ ترینکالم

سردار یا ر محمد رند کی گرفتاری پر شور کیوں ؟

بلوچستان اسمبلی کے اپوزیش لیڈر اور سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کو سپریم، کورٹ سے درخواست ضمانت مسترد ہونے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔۔۔ جس پر ہر طرف سے آہ و بقاء کا شور بپا ہو گیا ہے۔مسلم لیگ نواز کے صدر میاں نے نواز شریف نے اس گرفتاری کو ’’ انتقامی کارروائی‘‘ کے نام سے تعبیر کیا ہے ۔اس سے قبل میاں نواز شریف سندھ کے سابق وزیر اعلی میر ممتاز علی بھٹو کے فرزند ارجمند جناب امیر بخش بھٹو کی گرفتار ی کو بھی تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں اور اسے بھی انتقامی کارروائی اور سندھ میں مسلم لیگ نواز کی مقبولیت سے حکومتی بوکھلاہٹ قرار دے چکے ہیں۔۔۔اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چودہری نثار علی خان کا فرمانا ہے کہ’’ سردار یار محمد رند کی سیاسی وابستگی اپنی جگہ لیکن وہ بلوچ قوم کے ایک بڑے سردار ہیں۔اور پاکستانیت پر یقین رکھنے والے ایک انتہائی قابل احترام شخصیت ہیں۔چودہری کو سب سے زیادہ دکھ اس بات کا ہے کہ سردار یار محمد رند کو اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا ہے۔ان کا کہنا ہے ’’ پہلے ہی کتنے سردار رہ گے ہیں جو پاکستان کا نعرہ لگاتے ہیں۔۔۔ ‘‘ڈپٹی وزیر اعظم چودہری پرویز الہی کے سیاسی گرو ،مسلم لیگ قائد اعظم کے سربراہ چودہری شجاعت حسین بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے اور کہا’’ سردار یار محمد رند کی گرفتاری سے پاکستان دوست قوتوں کو صدمہ ہوا ہے۔اس کے علاوہ چودہری شجاعت حسین نے کہا ’’یار محمد رند بلوچستان کی ایک معزز اور پاکستان دوست شخصیت ہیں۔ چودہری شجاعت حسین نے سردار یار محمد رند کی گرفتاری وفاق پاکستان کے مفادات کے منافی قرار دیاہے۔ اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا ہے ‘‘۔۔۔سندھ کے وزیر اطلاعات شرجیل میمن میدان میں اترے اور جواب دیا ’’ میاں نواز شریف ،چودہری نثار علی خان اور چودہری شجاعت حسین سب توہین عدالت کے مرتکب ہو رہے ہیں کیونکہ سردار یار محمد رند کو سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں گرفتار کیا گیا ہے۔۔۔سپریم کورٹ نے سردار رند کی درخواست ضمانت مسترد کردی ہے۔۔۔۔آئیے دیکھتے ہیں کہ معاملہ سیاسی اور انتقامی ہے یا سردار یار محمد رند کی گرفتاری خالصتا قانونی معاملہ ہے۔۔۔’’ سردار یار محمد رند پر اغوا ء برائے تاوان اور قتل کے مقدمہ میں ٹرائل کورٹ سے عمر قید کی سزا ہوئی تھی جس کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ میں ٹرائل کورٹ سے سنائی گئی سزا کے خلاف اپیل کی تھی۔اپیل کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چودہری نے سردار یار محمد رند کو گرفتار کرنے کا حکم دیا اور قرار دیا ’قانون سب کے لیے یکساں ہے،کسی سے امتیازی سلوک نہیں کر سکتے۔پہلے آپ کو گرفتاری دینا ہوگیبعد میں آپ کی درخواست ضمانت پر فیصلہ ہوگا۔۔۔‘‘سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے احکامات پر عملدرامد کرتے ہوئے اسلام آباد پولیس نے سردار یار محمد رند کو گرفتار کر لیا۔۔۔ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت ہی انہیں تھانہ سکریٹریٹ میں رکھا گیا ہے۔۔۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ رئیسانی اور رند قبائل کے درمیان دشمنی برسوں پرانی چلی آرہی ہے۔لیکن یہ بات قرین قیاقس نہیں ہے کہ اگر کوئی طاقتور وڈیراہ یا سردار کوئی جرم کا ارتکاب کرے تو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کو انتقامی کارروائی قرار دیدیا جائے؟۔۔۔ہمیں سردار یار محمد رند کی حمایت میں اٹھنے والی آوازوں پر تحفظات ہیں۔کیونکہ یہی آوازیں ماضی قریب میں حکومت پر سپریم کورٹ کے احکامت پر عملدرامد نہ کرنے کے الزامات لگاتی رہی ہیں۔۔۔اب جب سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت سردار رند کو گرفتار کیا گیا ہے تو اسے انتقامی کارروائی کے نام سے تعبیر کیا جانے لگا ہے۔۔۔اور اس میں اسلام آباد کی حکومت کا کیا عمل دخل ہے ؟دشمنی رئیسانی اور رند قبائل کے مابین ہے وفاقی حکومت کا اس سے کیا لینا دینا۔۔۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ کیا سردار یار محمد رند کی درخواست ضمانت حکومت نے مسترد کی ہے؟کیا رند صاحب کی گرفتاری کا حکم بھی کسی وفاقی وزیر یا کسی افسر نے جاری کیا ہے؟اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ان کی گرفتاری پر اتنا شور کیوں مچایا جا رہا ہے۔۔۔؟ اسے انتقامی کارروائی کیوں کہا جا رہا ہے؟ ۔۔۔اگر ہم ہر بات کو انتقامی کارروائی کہتے رہے تو معاشرے میں آئین اور قانون کی بالا دستی قائم کرنے کے سب دعووں کی نفی ہو گی۔۔۔ مجھے سب سے زیادہ دکھ میاں نواز شریف ،چودہری نثار علی خاں کے بیانات سے ہوا ہے کیونکہ مسلم لیگ نواز کے قائد نمبر دو وزیر اعلی پنجاب میاں شہباز شریف نے قانون کی بالا دستی کے لیے اپنے داماد کو پولیس کے حوالے کرکے جو نیک نامی کمائی تھی مجھے خدشہ ہے کہ کہیں وہ رائیگاں نہ چلی جائے کیونکہ سردار رند کی گرفتاری خالصتا سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت ہوئی ہے لیکن مسلم لیگ کے قائدین اسے انتقامی کارروائی قرار دینے پر مصر ہیں۔بقول شرجیل انعام میمن یہ کھلی توہین عدالت ہے۔کیونکہ سردار رند کی گرفتاری کے احکامات سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چودہری نے دئیے ہیں لہذا مسلم لیگ نواز اور مسلم لیگ قائد اعظم کے راہنماؤ ں کو کچھ احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ڈیرہ غازی خان: رشتہ کے تنازعہ پر ایک شخص کی ناک اورہونٹ کاٹ دیئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker