تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

سرایت کرتی کرپشن اور ہم۔۔۔

zafar ali shah logoپیپلزپارٹی کی سابق حکومت جس میں یوسف رضاگیلانی اورراجہ پرویزاشرف کی صورت میں دو وزرائے اعظم ملک کے انتظامی سربراہ تھے اس دور میں پاکستانی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا ایک عرصے تک مسلسل بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ کو کہ دنیا کے کرپٹ ممالک کی فہرست میں پاکستان کی سات درجے کی ترقی ہوئی ہے اوراس دور کے چیئرمین نیب ایڈمرل ریٹائرڈ فصیح الدین کے اس بیا ن کو کہ روزانہ دس سے بارہ ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے بنیاد بناکرسامنے لارہا تھاجو ریاستی اداروں کے لئے چیلنج ،عوام کے لئے تشویش جبکہ حکمران طبقے کے لئے پریشان کن امر تھا۔یہی وجہ تھی کہ نجی ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں حکومتی ذمہ دار اور حکمران جماعت پیپلز پارٹی کے عہدیدار اگر چہ کرپشن کے واقعات کی تردید تو نہیں کر تے تھے تاہم اپنی حکومت کی ہر صورت دفاع کرنے کی کوشش کرتے دکھائی ضرور دیتے تھے اور اس ضمن میں جواز پیش کرتے تھے کہ کرپشن دنیاکے ترقی یافتہ ممالک میں بھی ہوتی ہے ان کا مزید یہ بھی کہنا ہوتا تھا کہ ہمارے ہاں چاہے سرکاری سیکٹرکی بات ہو یاپرائیویٹ سیکٹر کی ہر جگہ لوگ بے ایمان اور بدعنوان ہوچکے ہیں ملک میں قوانین موجود ہیں حکومت نے کرپشن کے خاتمے کے لئے کوششیں کی ہیں اور اب بھی کر رہی ہے تاہم کرپشن کی روک تھام محض حکومت کا نہیں بلکہ تمام ریاستی اداروں کا کام ہوتا ہے۔ ان کی وضاحتوں کی روشنی میں قوم اور ریاستی اداروں کے سامنے تین اہم نکات تھے یہ کہ قوم حکومتی ذمہ داران اور حکمران پارٹی کے عہدیداران کے اس مؤقف کو درست مانتے ہو ئے خاموش رہنے پر ہی اکتفا کرتی اوراس نکتے کو بھول ہی جاتی کہ یہاں کوئی کرپشن ہوتی بھی ہے جیسا کہ سابق وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی جن پر ان کے دور اقتدار میں الزام لگا تھا کہ انہوں نے ایک غریب اور مسائل میں گھرے ملک کے وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی برطانیہ میں 80لاکھ روپے کے تین سستے ترین کوٹ خریدے تھے کا یہ کہنا کہ ملک میں اتنی کرپشن بھی نہیں ہورہی جتنا کہ شور مچایا جارہاہے یا پھرقوم اس بات پر خود کو تسلی دے کر مطمئن کرتی رہتی کہ کرپشن ہوتی بھی ہے تو کیا ہوا اس سے ہمیں کوئی بھی نقصان نہیں ہونے والاہے یاپھر اس معاملے کو سنجیدہ انداز میں لینے اور موئثر کارروائی کی ضرورت تھی ۔تاکہ ملک کی معیشت مضبوط ہوتی،ملک میں معیاری ترقیاتی عمل جاری رہتا ،نظام تعلیم میں موجود خامیاں اور کمزوریاں دور کی جاتیں،امن و امان کی صورتحال بہتر ہوتی اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اقوام عالم میں پاکستان کی بہتر امیج قائم ہوتی۔ایسا کرنے کے لئے ضروری تھاکہ پسند و نا پسند کی پالیسی جس کے تحت نااہل افراد کو اداروں کے سربراہ مقرر کر کے اداروں کو تباہ اور ملکی خزانہ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے کے بر عکس بھرتی اور تعیناتی سمیت تمام تر فیصلے اور اٹھنے والے اقدامات خالص میرٹ کی بنیاد پر ہوتے،رشوت وسفارش کا مکمل خاتمہ ہوجاتا اور ایسا کرنے کے لئے مؤثرقانون سازی ہوتی اور جو قوانین موجود تھے ان پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایاجاتا۔ لیکن سوال یہ بھی پیداہوتاہے کہ ایسا کرتاکون ،کیا یہ کام عوام کا تھا مانتے ہیں کہ یہ کام ریاستی اداروں کا تھالیکن کیا ایک منتخب حکومت کے ہوتے ہوئے حکومتی احکامات کے بغیر ریاستی اداروں کے لئے اقدامات اٹھانا آسان ہوتا تھا؟ اور اگر واقعی اس سلسلے میں قانون سازی پارلیمان کی ذمہ داری ہوتی تھی اوراقدامات اٹھانے کے لئے حکومتی احکامات درکارتھیں تو پھر سوئس مقدمات کا تذکرہ ہو کہ جس میں ملک کے منتخب صدر پر سینکڑوں ارب کی بد عنوانی کا الزام تھااور اس معاملے میں عدالتی حکم نہ ماننے کی پاداش میں ایک منتخب وزیراعظم کو منصب اقتدار سے الگ کرکے گھر بھیج دیاگیاتھا ،حج کرپشن سکینڈل کی بات ہو کہ جس میں بیوروکریٹس کے ساتھ ساتھ ایک حکومتی وزیر نے جیل بھی کاٹی تھی یابات ہو ایفیڈرین کیس کی کہ جس میں ایک وفاقی وزیر سمیت سابق وزیر اعظم کے بیٹے پر مالی بد عنوانی کے سنگین الزامات تھے یاپھر رینٹل پاور پلانٹس کے معاملے کا ذکر ہو کہ جس میں منتخب وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف الزامات کی زد میں تھے یا تذکرہ کیا جائے اس واقعے کا کہ جس میں ایک وفاقی وزیر کے اکاؤنٹ میں 5کروڑ روپے کی رقم کی منتقلی ثابت ہونے پر یہ کہا گیاتھا کہ یہ تو غلطی سے ہواتھا اور اگر شکایات آنے،الزامات لگنے اور نیب جیسے اداروں کے سربراہوں کی نشاندہی اور بیانات کا حکومت نے کوئی نوٹس نہیں لیابلکہ اپنا دفاع اور اپنے لوگوں کے تحفظ کے لئے لنگوٹ کستے نظرآتی تھی تو پھر کارروائی کون کرتا۔پٹواری نظام ناقص ،پولیس سسٹم بدنام اور ایف بی آر کی کاکردگی غیر تسلی بخش تھی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی کارکردگی کو بھی اس لحاظ سے تسلی بخش نہیں کہا جا سکتا تھاکہ وہ خود آڈٹ نہیں کرتی تھی بلکہ ان کو بنی بنائی رپورٹ آتی تھی اس دور میں عوامی حلقے یہ بھی سوال اٹھارہے تھے کہ کیا محض منتخب حکومت ہی جمہوریت ہوتی ہے اور کیا جمہوریت کا مطلب و مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس میں مالی بد عنوانی کرنے سمیت کسی بھی قاعدہ قانون کو پاؤں تلے روندھاجائے کیونکہ ماضی میں اکثر یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ کرپٹ افسران منتخب حکومت کا بے چینی سے انتظار کرتے ہیں کیوں کہ وہ چا ہے کچھ بھی کر لیں ان کی پشت پر کوئی نہ کوئی سیاسی جماعت ضرور کھڑی ہوتی ہے جوان کو بچانے کے لئے کوئی بھی حربہ استعما

یہ بھی پڑھیں  الیکشن کمیشن نے اسمبلیوں کی تحلیل کی تاریخ کا اعلان کردیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker