فیصل اظفر علوی

سستا خون ‘ مہنگا پانی

پاکستانی سپوتوں کا خون کرکے فرار ہونے والے ریمنڈ ڈیوس کے امریکہ پہنچتے ہی پاکستانی عوام کو پاکستانی حکمرانوں کے ریمنڈ ڈیوس کو رہا کرنے کے بدلے میں شاندار انعام ڈرون حملے کی صورت میں دیا گیا، قیام پاکستان سے لیکر اب تک حکمرانوں نے سوائے تجوریاں بھرنے، پاکستانی عوام کو امریکہ کے حوالے کرنے، بیرون ممالک سے ڈالروں کی بھیک مانگنے، عوام سے روٹی، کپڑا اور مکان چھیننے، غربت اور مہنگائی میں دن بدن اضافہ کرکے گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں نام لکھوانے، غیر ملکی بنکوں میں اکائونٹس کھلوانے، غربت اور مہنگائی ختم کرنے کے دعوے کرنے، عوام کو سہانے خواب دکھانے اور ملک کو بحرانوں سے جلد نکالنے کے بیانات دینے سے کبھی فرصت ملی ہو تو شاید وہ ملک میں کسمپرسی کے حالات میں جکڑے ہوئے عوام کی خبر گیری کریں، سیاستدانوں کو کیا معلوم کہ غربت کیا ہوتی ہے کیونکہ ان کے پاس بے بہا دولت ہے جو ان کی سات پشتوں تک کافی ہے، ان کو کیا معلوم کے آٹے دال کا کیا بھا ئو ہے کیونکہ ان کے گھر تو گودام بنے ہوئے ہیں، ان کو کیا معلوم کہ لوڈ شیڈنگ کس بلا کا نام ہے کیونکہ ان کے گھر میں جنریٹر اور یو پی ایس کا انتظام ہے، ان کو کیا معلوم کہ بھوک اور افلاس کسے کہتے ہیں، ان کو کیا معلوم پانی قلت کیا ہوتی ہے، ان کو کیامعلوم کہ گھر کی اہمیت کیا ہوتی ہے کیونکہ ان کے سر پر سائبان ہی سائبان ہیں، ان کو کیا معلوم بے روزگاری کسے کہتے ہیں، ان کو کیا معلوم خودکشی کیسے ہوتی ہے کیونکہ خودکشی صرف غریب عوام کیلئے ہے، ان کو کیا معلوم کہ خون کی قیمت کیا ہوتی ہے، ان کو کیا معلوم کہ عوام کا خون سستا اور پانی مہنگا ہو چکا ہے، ان کو کیا معلوم روپے کی کیا اہمیت ہے کیونکہ ان کے پاس تو ڈالر ہیں، ان کو کیا معلوم گرمی کس کو کہتے ہیں کیونہ ان کے تو گھر کے باتھ روم میں بھی ایئر کنڈیشنڈ لگے ہوتے ہیں، ان کو کیا معلوم کہ عوام کس کو کہتے ہیں اور عوام نام کی کو ئی چیز پاکستان میں‘ موجود بھی ہے یا نہیں، ملکی تاریخ میں سیادستدانوں اور حکمرانوں نے کبھی بھی پانی کے مسئلے کی طرف توجہ نہیں دی جبکہ صدر ایوب خان جسے موجودہ ’’جمہوری‘‘ حکومت ایک ’’آمر‘‘ کے نام سے یاد کرتی ہے عوام ان کے ایک کارنامے کو ہمیشہ یاد رکھیں گے کیونکہ عوام کی پیاس پانی سے بجھتی ہے ایٹم بم سے نہیں، عوام کی بھوک روٹی سے ختم ہوتی ہے بیانات سے نہیں، ایوب خان کے دور میں بنائے جانے والے تینوں ڈیموں کے علاوہ آج تک مملکت خداداد پاکستان میں ایک بھی ڈیم نہ بن سکا، اور اگر کبھی ڈیم بنانے کی منظوری دی بھی گئی تو نام نہاد سیاستدانوں نے اسے سیاسی ایشو بنادیا، موجودہ دور میں پاکستان میں خون انتہائی سستا اور پانی انتہائی مہنگا ہوچکا ہے، پسماندہ علاقوں میں پانی تشویشناک حد تک کم ہو چکا ہے، بلوچستان میں پانی کی کمی اسی طرح جاری رہی تو بہت جلد بلوچستان کھنڈرات میں تبدیل ہو جائے گا، انڈیا سے آنے والا پانی صوبہ بلوچستان میں داخل نہیں ہوتا ، بلوچستان میں پانی کی ضروریات صرف بارشوں اور چشموں وغیرہ سے ناکافی حد تک پوری کی جاتی ہے، دور دراز کے دیہی علاقوں میں پانی کی کمی کی وجہ سے اکثر لوگ مختلف امراض کا شکار رہتے ہیں، خواتین کو پانی حاصل کرنے کیلئے کئی کئی کلومیٹر پیدل سفر طے کرنا پڑتا ہے، گرمیوں میں پانی کی کمی خطرناک حد تک ہوجاتی ہے، پاکستان میں پانی کے دو قطرے حاصل کرنے کیلئے خون پسینہ بہانہ پڑتا ہے، اگر حکمرانوں اور سیاستدانوں کو ان تمام مشکلات سے گزرنا پڑ جائے تو گویا قیامت آجائے، اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ریاست کے عوام غربت، افلاس، بے روزگاری، مہنگائی، بد امنی، سیاسی عدم استحکام اور معاشی عدم استحکام کی وجہ سے جنون کی حد تک جذباتی ہو چکے ہیں، جہاں ذرا سی بات پر کسی کا خون بہانا بہت آسان ہے۔ عالمی امن کے ٹھیکیدار بلکہ تھانیدار امریکہ کی طرف سے پاکستان میں باقاعدگی سے جو ڈرون حملے کیے جاتے ہیں انہیں دیکھ کر اس بات کا یقین ہوتا ہے کہ واقعی امریکہ عالمی امن کا ’’تھانیدار‘‘ ہے اور پاکستان میں ’’تھانیدار‘‘ کے کردار سے پوری قوم اچھی طرح ’’واقف‘‘ ہے، امریکی حکام اور امریکی عوام سے اگر یہ پوچھا جائے کہ انہیں دنیا کا کونسا کام سب سے آسان لگتا ہے تو ان کا برملا جواب ہوگا، پاکستانی عوام کا خون بہانا، عالمی امن کے ٹھیکیدار ملک کا ڈرون طیارہ اپنی مستانی، دیوانی اور دل لبھانے والی چال سے خرامہ خرامہ ’’جمہوری‘‘ حکومت والے ملک پاکستان پر حملہ کرتا ہے اور پھر اپنے گھر لوٹ جاتا ہے اور ارباب اختیار کی طرف سے مذمتی بیان اسی وقت جاری ہوجاتا ہے جب ڈرون طیارہ اپنی پہلی انگڑائی لے رہا ہوتا ہے، پاکستان کی سرزمین کو ڈرون حملے برداشت کرنے کی عادت سی ہو گئی ہے اب سرزمین پاکستان کا ڈرون حملوں کے بغیر گزارہ بھی نہیں ہوتا ’’اب تو عادت سی ہے مجھ کو ڈرون حملے سہنے کی‘‘ اگر کبھی بادل ناخواستہ ناغہ ہو جائے تو ’’۔۔۔۔۔۔‘‘ کی طرف سے افسوس کیا جاتا ہے اور خیریت دریافت کی جاتی ہے کہ ڈرون طیارے کی طبیعت تو ناساز نہیں جو اتنے دنوں سے دیدار سے محروم رکھا، ڈرون طیاروں کو صرف پاکستانی عوام کا خون ذائقے دار لگتا ہے، خون کا سستا اور پانی کے مہنگا ہونے کا سبب بننے والے لوگوں کا شاندار انجام تاریخ میں واضح ہے۔ جب خون سستا اور پانی مہنگا ہو جائے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
سستا خون مہنگا پانی
پاکستان، تیری نشانی

یہ بھی پڑھیں  زرد ۔۔۔۔آری

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker