تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

صوابدیدی فنڈز کا استعمال اوراحسن فیصلہ عدالت کا

zafar ali shah logoکوئی بے گناہ سزاکامستحق ٹہرے کسی صورت مناسب اورمبنی برانصاف اِقدام نہیں ہوتالیکن کوئی قصوروارسزاسے بچ نکلے یہ بھی انصاف کے تقاضوں کے منافی اقدام ہوتاہے۔ عدالتوں میں مختلف نوعیت کے مقدمات زیرسماعت ہوتے ہیں جن میں بعض مقدمات ذاتی نوعیت کے حامل ہوتے ہیں اورایسے مقدمات میں سزا وجزاء کاعمل چند افرادیاخاندانوں پرمشتمل فریقین کے نفع ونقصان تک محدودہوتاہے اور فریقین کے علاوہ ایسے مقدمات کی سماعت اور فیصلوں سے عام لوگوں کی کوئی دلچسپی ہوتی ہے نہ ہی کوئی تعلق۔تاہم غیرمعمولی نوعیت کے بعض مقدمات ایسے ہوتے ہیں جن کا ریاست اور پوری قوم کے نفع و نقصان سے گہراتعلق ہوتاہے۔ریاست،قومی خزانے اور قوم کے مجموعی نفع ونقصان سے جُڑے اہم نوعیت کے ایسے مقدمات عام شہریوں کی دلچسپی کے بھی حامل ہوتے ہیں وہ ان کی سماعت اور فیصلے کے بے چینی سے منتظربھی رہتے ہیں۔کیونکہ ایسے مقدموں میں آنے والے فیصلوں سے نہ صرف آئین وقانون کی بالادستی قائم رہتی ہے اور فوری طور پر انصاف کے تقاضے پورے ہوجاتے ہیں بلکہ ان کے گہرے مثبت اثرات ملک وقوم کے مستقبل پربھی مرتب ہوتے ہیں ۔پیپلزپارٹی سے تعلق رکھتے سابق وزیراعظم راجہ پرویزاشرف کی جانب سے ان کے دور میں گوجر خان کے لئے اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈزجاری کرنے کے اِقدام کے خلاف سپریم کورٹ کا ازخودنوٹس کیس بھی عوام کی دلچسپی کا حامل معاملہ تھا۔ اب خبریہ ہے کہ سپریم کورٹ نے اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز کے اجراء کے معاملے میں سابق وزیراعظم راجہ پرویزاشرف اور دیگرذمہ داران کے خلاف فوجداری قوانین کے تحت مقدمہ درج کرانے کا حکم دے دیا ہے۔جمعرات 5دسمبرکوچیف جسٹس افتخارمحمدچوہدری نے 52ارب روپے مالیت کے ان صوابدیدی فنڈز کی تقسیم کے معاملے میں ازخود نوٹس کیس کافیصلہ سنادیاہے جوسا بق وزیراعظم راجہ پرویزاشرف کے دور میں جاری کئے گئے تھے۔فیصلہ سناتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ ترقیاتی فندز کے نام پر رقم کا اجراء غیرقانونی تھا ۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ضابطے اور قوانین کی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں اور من پسند افراد کو نوازا گیاہے۔چیف جسٹس نے کہا ہے کہ راجہ پرویز اشرف نے بطور وزیراعظم اختیارات کا ناجائزاستعمال بھی کیاہے۔ سماعت کے دوران راجہ پرویزاشرف کے وکیل وسیم سجاد نے کہاکہ ترقیاتی فنڈز جاری کرنا وزیراعظم کا صوابدیدی اختیارہے جسے کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔تاہم عدالت نے فیصلے میں حکم دیاہے کہ جس نے یہ فنڈز جاری کئے اور جن لوگوں نے ان سے فائدہ اُٹھایااُن کے خلاف فوجداری قانون کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔عدالت نے کہا کہ جن ترقیاتی منصوبوں کے لئے قواعدوضوابط کے مطابق رقم جاری ہوئی ہے ان پر کام جاری رکھاجائے۔معاملہ صرف یہاں تک محدود نہیں رہا بلکہ سپریم کورٹ نے وزیرِاعظم اور وزیرِاعلیٰ کے صوابدیدی فنڈزکے استعمال پر بھی پابندی لگادی ہے۔ سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف ترقیاتی فنڈزکیس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رُکنی بنچ نے کی ۔عدالت نے لواری ٹنل ، بھاشاڈیم اورایچ ای سی جیسے اہم منصوبوں سے 47ارب روپے نکال کر گوجرخان کی ترقی کے لئے فنڈزجاری کرنے پر ذمہّ داروں کے خلاف کارروائی کاحکم دیا۔عدالتی حکم میں کہاگیاہے کہ ترقیاتی سکیموں میں بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں تاہم پیپرارولز کے تحت دی گئی سکیمیں جاری رہیں گی۔فیصلے میں کہاگیاہے کہ آئین کے تحت وزیراعظم اور وزیراعلیٰ صوابدیدی اختیارات استعمال کرکے ایم این ایز،ایم پی ایز اورمعزّزین کوفنڈزجاری نہیں کرسکتے جبکہ ترقیاتی سکیموں کے لئے حکومت طریقہ ئکار بنانے کی پابند ہے۔بجٹ میں منظور کی گئی رقم صرف ظاہر کئے گئے مقاصد کے لئے ہی استعمال کی جاسکتی ہے۔المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں پارلیمانی طرزنظام میں عوام کے ووٹ سے منتخب ہوکرایوانِ اقتدارتک رسائی پانے اور وزارتِ عظمیٰ،وزارت، اعلیٰ اوروفاقی وصوبائی وزارتوں کے منصب پر فائز ہونے والے لوگ اگرچہ کسی مخصوص علاقے کی بجائے پورے مُلک اور صوبہ بھر کے عوام کے نمائندے ہوتے ہیں اورمُلک یا صوبہ بھر میں ترقیاتی فنڈز کی یکساں تقسیم ان کی آئینی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن ایساکرنے کے برعکس ان کی تمام تر توجہ اور ترجیحات محض اِس علاقے تک محدود ہوتے ہیں جو ان کا حلقہ انتخاب ہوتاہے اوراپنے اختیارات کا استعمال چاہے غیرآئینی اور غیرقانونی کیوں نہ ہو وہ اپنی صوابدید سمجھتے ہیں۔2002میں متحدہ مجلسِ عمل کے پلیٹ فارم سے اکرم خانُ درانی صوبہ خیبرپختونخواکے وزیراعلیٰ منتخب ہوئے تو ان کی توجہ محض ان کے آبائی علاقہ اور انتخابی حلقہ بنوں پرمرکوز رہی یہی حال 2008میں عوامی نیشنل پارٹی اور پیپلزپارٹی کی مخلوط حکومت میں خیبرپختونخواہ کے وزیرِاعلیٰ امیرحیدرخان ہوتی کابھی رہا جنہوں نے اپنی ترجیحات کا مرکزومحوراپنے آبائی علاقہ مردان کو بنالیاتھا۔سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف بھی اس کی ایک مثال ہے ۔توہین عدالت کے زمرے میں آکر نااہل ہونے والے سابق وزیراعظم یوسف رضاگیلانی پر بھی ایسے الزامات تھے ،نون لیگ کے موجودہ وزیرِاعظم نوازشریف بھی ایسے الزامات کی زد میں ہیں کہ دیگرصوبوں کی بہ نسبت پنجاب اور پنجاب میں دیگر شہروں اور علاقوں کے مقابلے میں ان کی زیادہ تر توجہ لاہور پر مرکوزہے جبکہ وفاقی اور صوبائی وزراء کی جان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button