تازہ ترینمحمد جاوید اقبال

آئینۂ حیات

میں نے لکھنے لکھانے کا جو بیڑہ اُٹھایا تو مختلف مضوعات ایک ہجوم میرے سامنے موجود تھا جسے شاید میں نے کچھ کم کرنے کی کوشش ضرور کی ہے مگر ختم نہیں کر سکتا کیونکہ ہر نیا دن نئے موضوعات کا ذخیرہ اپنے ساتھ لاتا ہے ۔اس ذخیرے میں سے آج کے موضوع کا انتخاب قدرے مشکل ضرور ہے ۔میری مضمون نویسی کی داد و تحسین تو مجھے مختلف اوقات میں مختلف افراد و ادارے کی طرف سے ملتے رہے۔ لکھنے کے معاملات میں جب حدِّ بلوغت تک پہنچا تو مجھے الفاظ چُننے کی ضرورت کم محسوس ہوئی کیونکہ اب میں جب بھی قلم لکھنے کی نیت سے اٹھاتا ہوں تو الفاظ خود بخود قلمِ ناتواں کی طاقت سے جُڑتے چلے جاتے ہیں۔ راقم نے اب تک مختلف شخصیات پر بھی مضمون نویسی کی ہے جو مختلف اخبارات اور مختلف ویب سائٹس پر شائع ہوتے رہے ہیں بلکہ ہندوستان کی بھی کئی اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں اور جب شائع ہوئے تو یقیناًآپ لوگوں کی نظرِ خاص سے کہاں چُھپے ہونگے۔ آج جس شخصیت کو میں آپ سے متعارف کرانے جا رہا ہوں ویسے تو میرا تعارف ان سے کافی پرانا ہے ،کیونکہ جامعہ کی صبح و شام جس طرح پُر رونق ہوتی ہے اسی طرح میری ان سے روز افزوں ملاقات بھی رہتی ہے۔ویسے تو ڈاکٹر صاحب کسی تعارف کے اور کسی مضمون نویسی کے محتاج نہیں ہیں مگر راقم کی دلی خواہش تھی کہ ان پر بھی ایک تحقیقی مضمون لکھا جائے یوں لفظوں کو جوڑ جوڑ کر اس تحریر کو آپ تک پہنچانے کی سعی کر رہا ہوں ، امیدِ قوی ہے کہ میری یہ کوشش رائیگاں نہیں جائے گی۔
پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد شکیل اوج پاکستان کی قابلِ فخر درس گاہ جامعہ کراچی کے شعبہ علومِ اسلامی میں فقہ و تفسیر قرآن کریم کے مایہ ناز استاد ہیں۔ آپ بحرِ علم کے شناور اورباالخصوص اپنے متعلقہ مضامین پر کامل دست گاہ رکھتے ہیں۔ پیچیدہ ومُغلق فقہی مسائل ہوں یا دقیق و مشکل تفسیری مقامات و نکات‘ آپ اپنی دقیقہ سنجی اور نکتہ رسی کے تمام ساز و سامان بروئے کار لاکر علم و فن کی ہر الجھی ہوئی گتھی کو نہایت ہنرکاری سے سلجھانے پر ماہرانہ دسترس رکھتے ہیں۔
محترم جناب پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمد شکیل اوج صاحب یکم جنوری ۱۹۶۰ ء کو کراچی میں پیدا ہوئے ۔بچپن سے ہی تعلیم کی طرف دل جمعی سے مائل بمعہ رغبت رہے اور یہی وجہ ہے کہ تعلیمی منازل تیزی سے طے کر تے رہے۔ اور ۲۰۰۰ء میں ڈاکٹریٹ آف فلاسفی (Ph.D)کی سند جامعہ کراچی سے حاصل کی۔ اب تک ان کے لا تعداد مقالے ‘ مضامین‘ اور دیگر تحاریر اخبارات و رسائل کی زینت بن چکے ہیں۔اس سیلِ رواں میں روز افزوں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔اس وقت ان کی نگرانی میں کم و بیش دس طالباء و طالبات پی۔ایچ۔ڈی کررہے ہیں اورلگ بھگ اتنی ہی تعدادمیں طالب علم ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرچکے ہیں۔Translation of Holy Quranکا ترجمہ بھی ڈاکٹر صاحب کی خاص تصنیف ہوگی جو عنقریب پرنٹنگ کے مراحل طے کرتی ہوئی آپ لوگوں تک رسائی حاصل کرنے والی ہے۔ اس وقت ڈاکٹر صاحب جامعہ کراچی کے فیکلٹی کلیہ معارفِ اسلامیہ کے رئیس (ڈین) ہیں اور سیرت چیئر ، جامعہ کراچی کے ڈائریکٹر شپ بھی انہی کے حصے میں ہے۔مختلف ٹی وی چینلز پر اسلامی معلومات کا ذخیرہ بھی لٹانا (شیئر کرنا) ڈاکٹر صاحب کا وطیرہ رہا ہے ، مطلب یہ کہ ہر فورم پر تعلیم کا خزانہ بکھیرتے رہنا ڈاکٹر صاحب کاہی خاصہ ہے اور اسی وجہ سے وہ اپنے طلبا و طالبات کے علاوہ عوام الناس میں بھی تابندہ ہیں۔ہمارے اس گھٹن زدہ اور تنگ نظر ماحول میں ڈاکٹر صاحب ہوا کا تازہ جھونکا ہیں جو نہ صرف طلبا و طالبات کو ترو تازہ رکھتا ہے بلکہ ان سے ملاقات کے بعد آپ کی سوچوں کا رُخ بھی تبدیل کر دیتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے جس طرح علم کی خدمت کی ہے اس کی مثال تو پیش نہیں کر سکتا مگر اتنا ضرور کہنا چاہوں گا کہ ان کی تحریروں نے انہیں لا تعداد ایوارڈز‘ شیلڈز‘ اور گولڈ میڈل کا حقدار بنا دیا ہے جو کہ یقیناًان کے پاس ایک سند کے طور پر محفوظ ہوگا۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد شکیل اوج صاحب علوم تفسیر قرآن میں تحقیق و تصنیف کے حوالے سے معروف نام ہیں۔ ان کے ڈاکٹریٹ کے مقالے، علم التفسیر کے موضوع پر تحقیقی مجلے اور ملک کے مؤقر مجلات میں ان کے مقالات نے مطالعاتِ قرآن میں بیش قیمت اضافہ کیاہے۔
ڈاکٹر اوج کے مطالعات میں یہ سارے رجحانات نظر آتے ہیں۔ لیکن ان کے ہاں قرآن کریم کو ایسے بنیادی ماخذ کی حیثیت حاصل ہے جو اپنی دلالت میں قطعی ہے۔ اس لئے وہ کسی ایک آیت سے استدلال نہیں کرتے بلکہ اس مضمون کو دوسری تمام آیات کا مطالعہ پیش کرتے ہوئے قرآن کریم سے ہی احکام کا استنباط کرتے ہیں۔ اسی طرز استنباط سے وہ اکثر ایسے نتائج پر پہنچتے ہیں جو فقہی مسلمات سے متفق نظر نہیں آتے۔ اوجؔ صاحب نے مختلف موضوعات پر لکھا ہے جن میں بہت سے عصری مسائل میں انہوں نے اپنے مخصوص طرز استدلال کی روشنی میں قرآنی آیات کے مطالعات پیش کئے ہیں۔ ان کی نئی کتاب’’نسائیات ‘‘ بھی شکیل اوج صاحب کے ان مطالعات پر مشتمل ہے جن میں انہوں نے خواتین کے عصری مسائل پر گفتگو کی ہے۔جو اس وقت طباعت کے مراحل میں ہے۔نسائیات، خواتین کے متعلق چند فکری ونظری مضامین ومقالات کا وہ مجموعہ ہے، جو سہ ماہی التفسیر، کراچی اور ماہنامہ معارف اعظم گڑھ (انڈیا) میں وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب نے ان مقالات کی تدوین میں کس قدر عرق ریزی اور قرآن مجید کے علاوہ کتنی دیگر کتب تفاسیر و احادیث اور فقہ کی ورق گردانی (مطالعہ ) فرمائی ہے؟ اس کا اندازہ مقالات کے آخر میں درج ماخذ و مراجع سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔
یہ سچائی بیان کرنا بے جا نہ ہوگا کہ پروفیسر ڈاکٹر محمد شکیل اوج صاحب گذشتہ چار سال سے جامعہ اسلامیہ کو رے وال ٹرسٹ (لائنز ایریا) کراچی میں قائم اسلامک ریسرچ اینڈ فقہی کونسل کے صدر ہیں، جس میں پوچھے جانے والے متعدد فتووں کے جوابات آپ نے ہی لکھے ہیں، انشاء اللہ ان کا مجموعہ فتاوٰی بھی جلد اشاعت پذیر ہوکر ناظرین کے ہاتھوں کی زینت ہوگا۔
اس شعر کے ساتھ زیرِ نظر مضمون کا اختتام کرنا چاہتا ہوں اور اپنے قلم کو باادب رُکنے کی تعمیل بھی کرواؤں گاکیونکہ ڈاکٹر صاحب پر لکھنا یا ڈاکٹر صاحب کے لئے لکھنا اتنا آسان نہیں ہے جتنا میں سمجھ رہا تھا کیونکہ ان کے بارے میں معلومات کا ذخیرہ بہت دراز ہے اور اس چھوٹے سے آرٹیکل؍مضمون میں سب کچھ ہار کی طرح سمونا؍پِرونا‘ قطعی ناممکن ہے۔
یہ رتبۂ بلند ملا ، جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے ’’ علم و ہنر ‘‘ کہاں

یہ بھی پڑھیں  حجرہ شاہ مقیم:تنظیم اساتذہ پاکستان نے گریڈ 16کے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنیکا حکومت پنجاب کا نوٹیفکیشن مسترد کردیا

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker