تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

سورہ ایک قبیح رسم مگر پھر بھی

zafar ali shah logoآج میں جس سماجی ومعاشرتی برائی،فرسودہ رسم اور قانونی جُرم پر کالم لکھنے کی کوشش کررہاہوں وہ ہے سورہ کی قبیح رسم ،اگرچہ سورہ سماجی زندگی میں چوری، قتل،ڈکیتی اوراغواء جیسے جرائم کی طرح آئے روز پیش آنے والا معاشرتی جُرم تو نہیں تاہم پولیووائریس کی طرح کبھی نہ کبھی کہیں نہ کہیں سر اٹھاتا ضرور ہے اور اس کی سنگینی کو کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ناکردہ گناہ کی پاداش میں سورہ جیسے غیرانسانی فعل اور فرسودہ رسم کی زد میں آکر ایک یاایک سے زائدانسانی زندگی کے براہ راست متاثر ہونے کا قوی اور یقینی امکان پایاجاتاہے اوراب تک میڈیا میں رپورٹ ہونے والے سورہ کے واقعات میں کوئی ایک بھی ایساواقعہ سامنے نہیں آیاجس میں سورہ ہونے سے قبل لڑکی کی مرضی و منشاء شامل ہو یا بعداز سورہ اس کی زندگی سکون سے گزری ہو۔چھ ستمبر کواخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سوات میں سورہ میں دی گئی لڑکی کی درخواست پروالد سمیت سات افراد کو گرفتار کرلیا گیاہے گرفتار ہونے والوں میں پانچ جرگہ ممبران بھی شامل ہیں۔خبر کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ سوات کی تحصیل کبل کے علاقہ شاہ ڈھیرئی کی رہائشی سولہ سالہ(ن)دختر(ح)نے سیفٹی کمیشن سیدوشریف کو درخواست دی تھی کہ ان کے خاندان نے گھریلوتنازعہ پر اس کو سورہ میں دینے کا فیصلہ کیا ہے اس کا نکاح بھی ہوچکاہے اور اب رخصتی ہونے والی ہے لہٰذا اس کو تحفظ دیاجائے سیفٹی کمیشن نے درخواست ضلعی پولیس آفیسر کو بھجوادی تھی جس پر کاروائی کرتے ہوئے شاہ ڈھیرئی کی مقامی پولیس نے لڑکی کے والد مسمی(ح) اور لڑکے کے والد مسمی (خ)سمیت جرگہ کرنے والے پانچ افرادکو بھی گرفتارکرکے عدالت کے رُوبرو پیش کیا عدالت نے گرفتار ملزمان کو ریمانڈ پر پولیس کے حوالے جبکہ لڑکی کو اس کے ماموں کی پناہ میں دینے کا حکم دیا ہے۔یوں سوات میں عرصہ ڈیڑھ ماہ کے دوران حواکی بیٹی کو سورہ میں دینے کا یہ دوسرا واقعہ رپورٹ ہوا ہے جن کے خلاف پولیس اور عدالت کی کاروائی سامنے آئی ہے اس سے قبل 25جولائی کو مقامی اخبارات میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق 24جولائی کو سوات کے علاقہ بحرین کی مقامی عدالت نے گرفتار چودہ افراد کو جیل بھیجنے کا حکم دیاتھا جن پر الزام تھا کہ وہ 26جون 2013کودو لڑکیوں سترہ سالہ (ذ)اورچارسالہ معصوم(ام)کوسورہ میں دینے کے جرگے میں شامل رہے ہیں سورہ کے رپورٹ ہونے والے دونوں واقعات کی وجہ رونمائی خاندانی تنازعہ بتایاجاتاہے۔سورہ کیا ہے اس پر کافی بحث ہوچکی ہے اور میں نے اپنے پچھلے کالم میں بھی ذکر کیا تھا کہ سورہ جیسے معاشرتی جُرم کا ایک تاریخی پس منظر بھی ہے اور یہ درحقیقت اس دور کے وضع کردہ اُصول ہیں جب روئے زمین پر ریاستوں کے جغرافیائی حدود کے تعین کا کوئی تصور پایا جاتا تھا نہ ہی حکومتوں کا،معاشرتی زندگی میں بگاڑکے تدارک کے لئے قوانین موجود تھے نہ ہی سزاوجزاکاکوئی مروجہ نظام پایاجاتاتھا۔ہر جانب جنگل کا قانون تھا اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کے مصداق پر قائم پروان چڑھتامعاشرہ ہواکرتاتھااس دور میں اگرکسی قبیلے اور برادری میں کوئی قتل ہوجاتا تو ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل پڑتا جس سے نسل درنسل پے درپے دوطرفہ درجنوں اور سینکڑوں بے گناہ انسانی زندگیاں لقمہ اجل بن جاتیں تب اس وقت کے بزرگوں نے قتل و غارت گری کے روک تھام کی غرض سے آج کے قبیح مگر اس دور کے قابل عزت رسم سورہ کو متعارف کرواکر معاشرتی زندگی میں بگاڑ،قتل وغارت اور خون ناحق کے تدارک کے لئے اُصول وضع کئے کہ اگر کوئی شخص قتل جیسے سنگین جُرم کا مرتکب پایاگیاتو وہ مجروح اور متاثرہ خاندان کوسورہ دینے کا پابند ہوگا ۔بہرحال یہ تو یاد تھی اس دور کی جب ریاستی حدود متعین تھیں نہ حکومتیں قائم تھیں اور نہ ہی کوئی قاعدہ قانون پایاجاتا وہ دور جہالت کا بھی تھا جس میں حصول علم کے مناسب ذرائع نہیں تھے،اس دور میں دینوی تعلیم عام تھی نہ دنیاوی ،معاشی اور معاشرتی حصول ترقی کارواج و رجحان بھی نہیں تھا،مواصلاتی ذرائع نہیں تھے اور اگر تھے بھی تو انتہائی محدود جس کے باعث روئے زمین پر موجود مختلف تہذیبوں کا آپس میں ربط بھی نہیں ہوتاتھا لیکن آج کا دور تویکسرمختلف ہے جس میں حصول علم،مواصلاتی ترقی،مختلف اقوام اور تہذیبوں کے آپس میں مل ملاپ اور روابط،ریاستوں کے جغرافیائی حدود،سزاوجزا کا عمل ، معاشرتی زندگی کے وضع کردہ اُصول قاعدہ اور مروجہ قوانین ،پولیس ،انتظامیہ اور دیگر متعلقہ اداروں اور سب سے بڑھ کر برق رفتارمیڈیا کی موجودگی جو کسی بھی جگہ کسی بھی لمحے ہونے والے کسی بھی واقعے کو سیکنڈز میں رپورٹ کرتا ہے تو سوال یہ جنم لیتا ہے کہ ایسے میں معاشرتی زندگی سے سورہ جیسی قبیح رسم اور سنگین معاشرتی برائی کا خاتمہ کیوں نہیں ہوجاتااس سوال کا جواب تلاش کرنا اور بنیادی عوامل کو ڈھونڈ کر نہ صرف قوم کے سامنے لانا بلکہ سورہ جیسے قبیح رسم اور غیر انسانی فعل کے خاتمے کو یقینی بنانا نہ صرف حکومت اور ریاستی اداروں کا کام ہے بلکہ اس میں ذرائع ابلاغ اور انسانی حقوق کے نام پر وجود رکھتے غیرسرکاری اداروں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے جن کاکام محض پیپر ورک اور انسانی حقوق کے نام پر آنے والے غیرملکی فنڈز کو ہڑپ کرناہوتاہے اور پولیس کی طرح کہ واردات ہوجائے تو وہ آرام سے موقع پر پہنچتی اور مقدمے کے اندراج سمیت دیگر کاروائی شروع کرتی ہے اسی طرح انسانی حق

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button