تازہ ترینڈاکٹر بی اے خرمکالم

بورے والا کی سیاسی صورتحال کا جائزہ

Dr. B.A Khuramموجودہ حکومت جب بر سر اقتدار آئی تو اس وقت کی اپوزیشن مسلم لیگ ق کے صدر سابق وزیر اعظم چوہدری شجاعت حسین نے کہا تھا کہ دو ماہ بعد الیکشن ہو جائیں گے لیکن وقت کی ستم ظریفی تو دیکھئے اسی ق لیگ نے اڑھائی سال بعد اسی حکومت کے ساتھ اقتدار کے سنگھاسن پہ بیٹھنا پسند کیا اب حکومت کا وقت پورا ہونے کے قریب ہے سیاسی پرندیوں نے اڑان شروع کر دی ہے اور محفوظ گھونسلوں کی تلاش میں ہیں الیکشن قریب آنے سے سیاستدانوں نے ورکروں سے رابطے شروع کر دیئے ہیں سیاسی ڈیروں کی رونقیں پھر سے بڑھنے لگی ہیں ضلع وہاڑی کی تحصیل بورے والا میں بھی سیاسی پارٹیوں نے سیاسی داؤ پیج آزمانے شروع کر دیئے ہیں روٹھوں کو منانے کا سلسلہ جاری ہے جوڑتوڑبھی جاری ہے اور آنے والے دنوں میں جیسے جیسے الیکشن کے دن قریب آتے جائیں گے جوڑ توڑ میں بھی تیزی آتی جائے گی مسلم لیگ(ن)اور پیپلز پارٹی آئندہ الیکشن کی تیاریوں کے سلسلہ میں اندرونی اختلافات کے خاتمہ اور ٹکٹوں کے حصول کے لیے اعلیٰ سطحی رابطوں کے علاوہ نئی صف بندیوں میں مصروف عمل ہیں جبکہ تحریک انصاف کے راہنما پارٹی الیکشن کے لیے عوامی رابطہ مہم تیز کئے ہوئے ہے مسلم لیگ(ن)کی طرف سے نذیراحمد آرائیں گروپ اور نسیم شاہ گروپ اپنی اپنی سیاسی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں جس میں دونوں جانب سے پارٹی قیادت کے ساتھ موثر رابطوں کی نوید سنائی جار ہی ہے پارٹی راہنماؤں کے باہمی اختلافات کی وجہ سے نظریاتی لیگی کارکنان غیر یقینی کی صورتحال سے دو چار ہیں پچھلے ماہ دونوں لیگی دھڑوں کی میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد دونوں گروپ ہی اپنے نامزد کردہ امیدواروں کی آئندہ الیکشن کے لیے ٹکٹیں کنفرم سمجھ رہے ہیں اور اپنے حلقہ احباب میں تشہیر کرتے دکھائے دیتے ہیں سابق صوبائی وزیر چوہدری نذیر احمد آرائیں کی کوشش ہے کہ اُنکے پینل کے دونوں امیدواروں پیر غلام محی الدین چشتی اور سردار عقیل احمد شانی ڈوگر کو ہی پارٹی ٹکٹ ملیں دوسری جانب سابق وفاقی وزیر مملکت سید شاہد مہدی نسیم این اے167سے تو چوہدری نذیر احمد آرائیں پر متفق نظر آرہے ہیں جبکہ گگومنڈی سے چوہدری محمد یوسف کسیلیہ اور پی پی 233سے ابھی تک بھی حتمی امیدوار کا فیصلہ نہیں کر پائے کیونکہ پی پی 233سے اُنکے گروپ سے سابق سٹی ناظم چوہدری محمد عاشق آرائیں،چوہدری ارشاد احمد آرائیں اور سید شاہد نسیم کے بیٹے سید سلمان مہدی متوقع امیدواروں کی فہرست میں شامل ہیں چوہدری نذیر احمد آرائیں کے لیے نسیم شاہ گروپ کا فارمولا فی الحال قابل قبول نہیں کیونکہ اگر پیر غلام محی الدین چشتی کو پارٹی ٹکٹ نہ ملا تو چوہدری نذیر احمدآرائیں کے لیے نسیم شاہ گروپ کے ساتھ چلنا بہت مشکل نظر آتا ہے دونوں گروپوں کے بعض ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ چوہدری نذیر احمد آرائیں کے چوہدری یوسف کسیلیہ کے ساتھ تو معاملات طے پا چکے ہیں جبکہ نسیم شاہ سے ایک ملاقات میں گلے شکووں کے بعد اختلافات کے خاتمہ اور معاملات مزید آگے چلنے کے قومی امکانات پیدا ہوچکے ہیں اس سارے معاملہ میں سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق پیر غلام محیی الدین چشتی مائنس فارمولا اپنانے کی کوششیں ہو رہی ہیں جبکہ اُنکو نظر انداز کرنے سے جہاں نذیر احمد آرائیں گروپ میں دراڑیں پڑ جائیں گی وہاں نذیر احمد آرائیں گروپ میں موجود نسیم شاہ مخالف گروپ بھی کوئی نیا فیصلہ کرنے پر مجبور ہو جائے گا جس سے یقینی طور پہ آرائیں گروپ کو سیاسی نقصان پہنچ سکتا ہے دونوں گروپوں کے اہم لوگ جو سیاسی حالات کا ادراک رکھتے ہیں ان کی دلی خواہش ہے کہ دونوں گروپ آپس کے اختلافات کو بھلا کر مل کر پی پی پی کا مقابلہ کریں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ کا اصل مقابلہ سونامی لانے والوں سے نہیں بلکہ پی پی پی سے ہے دونوں گروپس کے مل بیٹھنے سے ہی پی پی پی کو مشکلات سے دوچار کیا جاسکتا ہے دوسری جانب پیپلز پارٹی کے موجودہ ایم این اے اصغر علی جٹ جوا پنے چچا چوہدری نذیر احمد جٹ کے فیصلوں کے مرہون منت ہیں اُنکی ہدایت پر آزاد گروپ کے تحت این اے 167سے اپنی چچا زاد بہن عائشہ نذیر جٹ اور پی پی 232سے اپنے کزن طاہر نقاش جٹ کے لئے الیکشن مہم جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ ابھی تک اُنکے چچا نے اُنکے سیاسی مستقبل کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا جس سے پیپلز پارٹی کے کارکنوں میں شدید تحفظات جنم لے رہے ہیں بلکہ پارٹی کے دیگر ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کو بھی چوہدری نذیر احمد جٹ کی طرف سے آزاد گروپ کے تحت آئندہ الیکشن لڑنے اور اصغر علی جٹ کی پارٹی پالیسی کے بارے غیر واضح حکمت عملی پر تحفظات اپنی جگہ موجود ہیں اور اُنکا پارٹی قیادت سے صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ جس ایم این اے کو ضمنی الیکشن میں پارٹی نے کامیابی دلوا کر اربوں روپے کے ترقیاتی فنڈز،نوکریوں اور دیگر مراعات سے نوازا ہے وہ ابھی تک اپنی پارٹی پوزیشن کارکنان کے سامنے واضح نہیں کر سکے جس سے پارٹی میں شدید اضطراب پایا جا رہا ہے انتہائی معتبر ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ چوہدری نذیر احمد جٹ جو آزاد حیثیت سے آئندہ الیکشن لڑنے کا اعلان کر چکے ہیں وہ صرف اور صرف سیاسی حالات کی نبض پر ایک ٹیسٹر لگانے کے مترادف ہے کیونکہ وہ آئندہ الیکشن میں این اے167سے اپنی بیٹی کو پیپلز پارٹی کا ٹکٹ دلوا کر حلقہ پی پی232سے صوبائی اسمبلی کا ٹکٹ بھی حاصل کرنے کی کو شش کریں گے چوہدری نذیر احمد جٹ کی اس حکمت عملی کو پیپلز پارٹی آئندہ الیکشن میں قبول کرتی ہے یا نہیں یہ کہنا قبل ازوقت ہو گا اگر واقعی چوہدری نذیر احمد جٹ آزاد الیکشن لڑنے کے فیصلہ پر قائم رہتے ہیں توپھر بدلتی صورت حال میں این اے167سے سابق تحصیل ناظم چوہدری عثمان احمد وڑائچ پیپلز پارٹی کے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آسکتے ہیں وڑائچ برادران سیاسی شطرنج کی چالیں بڑی سوچ سمجھ کے چلتے ہیں جوڑتوڑ کے داؤ پیچ اُن سے بہتر اور کوئی نہیں جانتا تاہم وہ آئندہ الیکشن کس جماعت کی طرف سے لڑتے ہیں یہ فیصلہ وہ آئندہ آنے والے چند دنوں میں کریں گے گگومنڈی کے حلقہ میں اُنکی اہم سیاسی شخصیات سے مستقبل کی صف بندی کے حوالہ سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے تحریک انصاف این اے167سے متوقع امیدوار ریاست علی بھٹی کی اپنے حلقہ میں عوامی رابطہ مہم بلاشبہ موثر نظر آرہی ہے سابق ایم این اے چوہدری قربان علی چوہان جوکہ بہت زیادہ سیاسی بصیرت رکھتے ہیں ایک بزرگ اور زیرک سیاست دان کے طور پہ پہچانے جاتے ہیں وہ بھی تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے آئندہ الیکشن کی تیاریوں کے سلسلہ میں اپنی صف بندی کرنے میں مصروف ہیں اور حلقہ میں گجر برادری کا مضبوط ووٹ ان کے ساتھ کھڑا ہے پی پی 233سے اگر (ن)لیگ کا ٹکٹ سردار عقیل احمد شانی ڈوگر کو ملتا ہے تو تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے سابق نائب ناظم میاں خالد حسین مضبوط امیدوار ہو سکتے ہیں اور اگر پارٹی نے شانی ڈوگر کے مقابلہ میں سابق ایم پی اے حاجی خوشحال ڈوگر (مرحوم) کے بیٹے حاجی شہباز احمد ڈوگر کو تحریک انصاف کا امیدوار نامزد کیا توتو ڈوگر برادری کا ووٹ دو حصوں میں تقسیم ہو کر دونوں امیدواروں کے لیے نقصان کا باعث بن سکتا ہے جس سے پی پی پی سیاسی فائدہ اٹھا سکتی ہے ایسی صورت میں سردار خالد سلیم بھٹی بہت مضبوط امیدوار ثابت ہونگے ویسے بھی سردار خالد سلیم بھٹی اس وقت حلقہ پی پی233 سے پیپلز پارٹی کے واحد امیدوار ہیں جو اپنے حلقہ میں موئثر طریقہ سے انتخابی مہم چلا رہے ہیں اگرمسلم لیگ ن اپنے اندرونی اختلافات ختم کرنے میں ناکام رہی ،چوہدری نذیر احمد آرائیں اور سید شاہد مہدی نسم شاہ گروپ نے سیاسی بصیرت کا مظاہرہ اور سیاسی حالات کا ادراک نہ کیا تو پھر یہ بات حتمی سمجھی جائے گی کہ اس کا نتیجہ ضمنی انتخاب کے رزلٹ سے مختلف نہ ہوگا واضح رہے این اے 167کے ضمنی الیکشن میں مسلم لیگ ن دو حصوں میں بٹ گئی تھی ان کے اندرونی اختلافات سے پی پی پی نے فائدہ اٹھایا مسلم لیگ کے دونوں امیدواروں نے جتنے ووٹ لئے تھے اس سے زیادہ ووٹ پی پی پی کے امیدوار کو ملے تھے

یہ بھی پڑھیں  پتوکی:موٹر سائیکل چھین کر فرار ہونے والے ڈاکو رنگے ہاتھوں گرفتار

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker