تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

سیاسی وعدے تو سیاسی ہیں عملی نہیں

zafarاگر بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ نواب اسلم رئیسانی سے نعروں اوروعدوں کے بارے میں پوچھاجاتا تو شائد ان کا جواب یہ ہوتا کہ نعرے تو نعرے ہوتے ہیں اور وعدے تو وعدے ہوتے ہیں چاہے سچے ہوں یا جھوٹے جس طرح انہوں نے کہاتھا کہ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے چاہے اصلی ہو یاجعلی۔۔ یہ تو سب جانتے ہیں کہ پی ٹی آئی سالوں سے عوام سے وعدے کرتی آرہی تھی اور نظام کی تبدیلی کے دعوے بھی۔۔ جبکہ عام انتخابات کی مہم میں بنائیں گے نیا پاکستان کا نعرہ بھی لگایااور ان دعوووں،وعدوں اور تبدیلی کے نعروں کو سامنے رکھتے ہوئے عوام نے پی ٹی آئی کو غیرمعمولی کامیابی سے نوازا۔غیر معمولی اس لحاظ سے کہ اس سے قبل پی ٹی آئی کے ممبران کبھی بھی اتنی تعداد میں منتخب ایوانوں میں نہیں آئے تھے اور اس سے قبل اقتدار میں نہ رھنا ہی اس دفہ پی ٹی آئی کی کامیابی کی بڑی وجہ تھی کیونکہ آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی،بڑھتی بے روزگاری، کمزور معیشت ،انصاف سے محرومی،پولیس اور پٹوارسسٹم سمیت دیگرسرکاری اداروں کی ناقص کارکردگی ،حکومتی عدم توجہی اور امن و امان کی بدترین صورتحال سے دوچار اور ہرلحاظ سے مسائل و مشکلات میں گھرے عوام کو یہ اندازہ تو نہیں تھا کہ اقتدار میں آکر اس کی کارکردگی کیا ہوگی کیاپی ٹی آئی صحیح معنوں میں ان کے لئے نجات دہندہ ثابت ہوگی کہ نہیں بہرحال پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ نون، جے یوآئی، عوامی نیشنل پارٹی اور کئی دیگر نامی گرامی مگر آزمودہ جماعتوں کو نظراندازکرتے ہوئے انہوں نے اپنی امیدیں پی ٹی آئی سے وابستہ کرلیں۔ اگرچہ پی ٹی آئی وفاق میں حکومت سازی سے تو قاصرتاہم صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت بنانے کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب رہی اور یہ کسی بھی لحاظ سے پی ٹی آئی کی غیرمعمولی کامیابی تھی ۔ خیبرپختونخوا میں حکومت بناناپی ٹی آئی کا آئینی اور جمہوری حق تھا۔ جے یو آئی کے سربراہ مولانافضل الرحمان پی ٹی آئی کو صوبے کے اقتدار سے دور رکھنے کے خواہاں تھے اور یہ کہا جائے کہ وہ ابھی تک انہی کوششوں میں مصروف ہیں تو زیادہ غلط نہیں ہوگا تاہم مسلم لیگ نون نے پی ٹی آئی کے مینڈیٹ کا کھلے دل سے احترام کیا اگر نون لیگ چاہتی تو صوبے میں دیگر جماعتوں کے اتحاد سے مخلوط حکومت سازی میں کامیاب ہوسکتی تھی جس طرح ماضی میں دیکھاگیاہے کہ جس جماعت کی وفاق میں حکومت اسی کے صوبوں میں بھی ۔۔لیکن لیگی قیادت نے ایسی کسی بھی مہم جوئی کی کوشش نہیں کی۔ سیاسی امور کے ماہرین کے نزدیک لیگی قیادت نے پی ٹی آئی کو حکومت سازی کا موقع دے کر سیاسی سمجھداری کامظاہرہ کیاہے کیونکہ اس سے پی ٹی آئی کا اصل امتحان شروع ہوگااس کی اچھی یا بری کارکردگی کا پتہ چلے گا اور وہ عوام کے سامنے ایکسپوزہوگی جبکہ اگر پی ٹی آئی کو یہ موقع نہ دیاجاتاتو اگلی دفعہ اسے وفاق میں بھی حکومت سازی سے روکناکسی کے بس کی بات نہ ہوتی۔بہرحال کے پی کے میں اقتدار سنبھالتے ہی پی ٹی آئی کی قیادت نے اپنی سیاسی،انتظامی اور حکومتی امتحان کے ابتداء میں اعلان کیا کہ بنائیں گے نیاپاکستان کے خواب کو تو تعبیرنہ مل سکی تاہم بنائیں گے نیا خیبرپختونخوا کے خواب کو ہر صورت شرمندہ تعبیربنایاجائے گا۔مگر ہواکیا کہ اب ہوگا کیا ۔۔حکومت سنبھالنے سے لے کر اب تک وہی دعوے،وہی وعدے اور وہی نعرے ہیں لیکن عملی طور پر کوئی بھی مظاہرہ دیکھنے سے عوام تاحال قاصر ہیں۔اقتدارکی ابتداء میں پی ٹی آئی کی قیادت وزیراعلیٰ سرکاری بنگلے میں رہیں گے کہ نہیں،وزیراعلیٰ سرکاری ہیلی کاپٹراستعمال کریں گے کہ نہیں،وزیراعلیٰ پارٹی اور حکومتی عہدے ایک ساتھ رکھ سکتے ہیں کہ نہیں جیسے غیر ضروری ایشوز میں پھنسی رہی جس سے شائد پی ٹی آئی کے اندرونی صفوں میں شائد بہتری آئے ہوگی تاہم عوام کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ملانہ ہی یہ عام آدمی سے تعلق رکھتے ایشوز تھے ۔ دوسری جانب صوبہ خیبر محکمہ صحت میں انقلابی تبدیلی لائیں گے، شعبہ تعلیم پر توجہ حکومت کی اولین ترجیح ہے،کرپشن کاخاتمہ ہمارا عزم ہے،عوام کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں گے،تھانہ کلچر اور پٹواری کلچر کو ختم کرکے ہی دم لیں گے، فرائض میں غفلت اور کوتاہی کے مرتکب سرکاری اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور تقرری و تبادلے سمیت کوئی بھی کام میرٹ کی بنیاد پر ہوگا،آبادی پر کنٹرول کے لئے نئے شہر بسائے جائیں گے،بیرونی سرمایہ کاری ہوگی ، انڈسٹریل زونزبنائیں گے وغیرہ وغیرہ یہ وہ باتیں ہیں جو گیارہ مئی کے الیکشن کے بعد صوبہ خیبر پختونخوا میں جماعت اسلامی اور قومی وطن پارٹی کے اتحاد سے مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہونے والی تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ،وزیراعلیٰ پرویزخٹک، صوبائی وزراء اور دیگر پارٹی عہدیدار کہتے سنائی دے رہے ہیں ۔وزیر اعلی پرویزخٹک کا حالیہ کہنا یہ ہے کہ ہم انتقامی سیاست پر یقین نہیں رکھتے اور حسبہ بل کو بہت جلد مظورکرایاجائے گا البتہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ وہی حسبہ بل ہے جوکبھی ایم ایم اے نے پیش کیا تھا یااس میں کچھ نئے اصلاحات کی گئی ہیں اگر نہیں تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس اپنا کوئی پروگرام نہیں اور وہ تمام وعدے اور دعوے محض شوشہ تھاجو پی ٹی آئی سالوں سے عوام سے کرتی آرہی تھی ،صوبائی وزیر بلدیات و دیہی ترقی عنایت اللہ کا کہنا ہے کہ بلدیاتی نظام رول ماڈل ہوگا۔بابانظام ہے کہاں جو رول ماڈل ثابت ہوگا جبکہ حکومت سازی کے بعد وزیراعلیٰ ن

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button