تازہ ترینکالممحمد ناصر اقبال خان

سیاہ پوش سفیدہاتھی

nasirپرویز مشرف باوردی صدارتی منصب کے امیدواربنے تواُس وقت اُن کے اس اقدام کوکسی ”جمہوریت پسند” حاسدنے عدالت عظمیٰ میں چیلنج کردیا تھاجبکہ عوام کے نزدیک پاکستان کے باوردی اوربغیروردی حکمرانوں کی معاشی غنڈہ گردی میں کوئی فرق نہیں ہے۔عدالت عظمیٰ میں جمہوریت پسند کویہ کہا گیا ”صدارتی منصب ”کاانتخاب ہوجانے دیں پھردیکھیں گے اورپھرپرویزمشرف باوردی صدرمنتخب ہوگئے اورسفیدپوش جمہوریت پسندوں نے اپنے بازوؤں پرسیاہ پٹیاں باندھ کرآئین شکن پرویز مشرف سے پاکستان اورآئین پاکستان کی وفاداری کاحلف بھی اٹھایا۔پرویز مشرف سے حلف اٹھانے والے وفاقی وزراء نے ان کیخلاف احتجاجی تحریک کے دوران انہیں آئین شکنی کاملزم قراردیاتھامگروزارت کی محبت میں پرویزمشرف سے عداوت ختم کردی ۔لیکن پرویز مشرف کاآمرانہ دورآج کے جمہوری دورسے ہزارگنابہترتھا،یہ بھی ایک حقیقت ہے ۔جو لوگ پرویز مشرف کی ناکامی اوربدنامی کاسبب بنے وہ سبھی آج میاں نوازشریف کے معتمدخاص ہیں ۔ پرویز مشرف کی راہ ہموارکرنیوالے چیف جسٹس (ر) افتخارچودھری کے اپنے منصب کیلئے جس وقت خطرہ پیداہواتوموصوف پرویز مشرف کے مدمقابل میدان میں اترآئے اورکالے کوٹ کی مددسے تحریک شروع کردی جس پرانہیں ”بحال” کردیا گیا جبکہ بعدمیں بحال منصف کے ہاتھوں انصاف بری طرح ”بے حال ”ہوگیا ۔ریٹائرمنٹ کے بعد چیف جسٹس (ر)افتخارچودھری نے بھی سیاسی جماعت بنالی جبکہ سیاست وہ بہت پہلے سے کررہے تھے۔ میاں شہبازشریف پچھلے دورمیں تقریباً تین سے چاربرس سٹے پروزارت اعلیٰ انجوائے کرتے رہے اور وفاقی وزیرریلوے خواجہ سعدرفیق بھی سٹے کے بل پرخدمات انجام دے رہے ہیں ،بروقت انصاف نہ ملنابھی ناانصافی کے زمرے میں آتاہے ۔ سیاستدان ”انصاف” کے ساتھ بھی سیاست کرجاتے ہیں ،میں ایک سیاستدان کوجانتا ہوں جس نے پرویزمشرف دورمیں احتساب عدالت میں ٹرائل کے دوران اپنے حق میں پانچ سوصفائی کے گواہان کی فہرست پیش کی تھی جس کامقصد معاملے کوطول دینایعنی زیادہ سے زیادہ مہلت حاصل کرنا تھا ۔ان کی سوچ تھی کہ پانچ سوگواہان کے بیانات قلمبند اوران پربحث ہوتے ہوتے کئی برس بیت جائیں گے جبکہ اس دوران پرویزی آمریت کاسورج جوسوانیزے پرہے وہ ڈوب جائے گااورنتیجہ ان کی امیدوں کے عین مطابق برآمدہوا۔ پرویزمشرف ایوان صدر جبکہ وہ سیاستدان جیل سے ایک ساتھ باہرآئے اورآج کل وہ سیاستدان دوسروں کواخلاقیات اورجمہوریت کادرس دیتا ہے ۔
ہمارے ہاں شایدہی کوئی ادارہ بدعنوانی ،بے ایما نی اوربدانتظامی سے سوفیصد پاک ہو مگربدسے بدنام براکے مصداق ہماری پولیس نے بدنامی کی میراتھن ریس میں دوسرے اداروں کوبہت پیچھے چھوڑدیا ہے اس کاایک اہم سبب اس کے پاس اپنے محکمے کے ترجمان نہ ہونا ہے ،ڈی جی پی آر سے آئے لوگ پولیس حکام کی پریس کانفرنس کاانتظام اوران کی پریس ریلیز توجاری کرتے ہیں مگر پولیس کی غیرضروری بدنامی کے سدباب کیلئے کوئی ٹھوس اوردوررس اقدام نہیں کرتے ۔خاص طورپرآئی جی پنجاب کی ڈی پی آر نبیلہ غضنفر جوپچھلے کئی برسوں سے اس منصب پربراجمان ہے جبکہ اس کے بچے کینیڈامیں زیرتعلیم ہیں ،اس خاتون کے والدغضنفرمرحوم بھی ڈی جی پی آرہواکرتے تھے مگر ان کادامن کرپشن سے صاف تھا ۔نبیلہ غضنفر کاشوہربھی کئی برسوں سے اس کے ساتھ نہیں رہتا بلکہ وہ اسے اپنے ساتھ نہیں رکھتی توپھرکینیڈامیں زیرتعلیم اس کے بچوں کی فیس کس” آمدنی” سے اداہوتی ہے ،نیب ایسے عناصر کااحتساب کیوں نہیں کرتاجو سیاسی اثرورسوخ سے چمک والی سیٹ حاصل کرتے جبکہ اپنے منصب اوراختیارات کاناجائزفائدہ اٹھاتے ہیں۔پولیس کی رسوائی اورجگ ہنسائی میں اس کے نااہل ”ترجمانوں” کاکردارنظراندازنہیں کیا جاسکتا۔پولیس کواپنے باوردی آفیسرز کواپناترجمان بنانے کی ضرورت ہے ، وہ یقینااس وردی کوٹرسٹ وردی بناسکتے ہیں ۔ جس طرح فوج اوررینجرزکے اپنے ترجمان ہیں اس طرح پولیس کوبھی اپنے اندرسے باصلاحیت آفیسرزتلاش کرناہوں گے۔
اب آتے ہیں ان رینکرز پولیس آفیسرز کی طرف جو پی ایس پی آفیسرز کی حسداوران کے بدترین انتقام کی نذر ہوگئے ۔پولیس میں کوئی خوش نصیب رینکر زیادہ سے زیادہ ایس پی یاایس ایس پی کے منصب تک پہنچتاہے مگر خوش قسمتی یابدقسمتی سے اخترعمرحیات لالیکا ڈی آئی جی بن گئے اورابھی دس بارہ برس ان کی سروس باقی ہے اورآرپی اوراولپنڈی کی حیثیت سے پی ایس پی ڈی پی اوز ان کے ماتحت کام کرنے پرمجبور تھے جوانہیں کسی صورت گوارہ نہ تھااورپھر ایک سردجنگ کاآغاز ہوا۔ادھرلاہورمیں ایک ایس ایس پی کوتبدیل کردیا گیا تواس نے اپنے تبادلے کامحرک عمرورک کو سمجھ لیااوروہ بھی رینکرز کیخلاف میدان میں کودپڑا۔اس وقت اختر عمر حیات لالیکا،نعیم الحسن خان،عمرورک،امتیازسرور،رائے ضمیرالحق،منصورناجی ،راجابشارت محمود ، شاہدپرویزرانا ،شاہدرزاق قریشی،اویس ملک ،فیصل گلزاراعوان ،عجازشفیع ڈوگر،طاہرمقصود،سیّدجماعت علی بخاری،کرامت اللہ ملک،اقبال شاہ اور ریاض شاہ کی قابلیت اورمحکمانہ کارکردگی دھری کی دھری رہ گئی جس وقت ان سے انعامیہ ترقی واپس لے لی گئی اوران کے شولڈرز سے سٹارزاتاردیے گئے جوانہیں کسی کی مہربانی سے نہیں بلکہ ان کی جانفشانی کے سبب ملے تھے۔خوش قسمتی سے ڈی آئی جی جاوید شاہ اس اقدام سے پہلے ریتائرڈ ہوگئے تھے ورنہ انہیں بھی یہ خفت اٹھانا پڑتی ۔پیراشوٹ سے پولیس میں آنیوالے پی ایس پی گروپ کے لوگ کارکردگی اورسنیارٹی کی بنیادپر پروموٹ ہونیوالے رینکرز کواچھوت سمجھنا چھوڑدیں کیونکہ ان کے بغیر وہ نہیں چل سکتے ۔پولیس کتابوں کانام نہیں جنون اور جذبوں کانام ہے۔رینکرز نے پولیس کواپنے خون سے سینچا ہے ۔پولیس کیلئے جدت اور پیشہ ورانہ تجربے کی شدت دونوں ضروری ہیں۔ رینکرزپولیس کی بنیادیں ہیں اور بنیادوں کوکمزورکرکے کسی عمارت کی مضبوطی برقرارنہیں رہ سکتی ۔
ایک ٹیچر کلاس میں لیکچر دے رہاتھااس دوران بنیان میں ملبوس ایک طالبعلم اندرداخل ہوااور ٹیچر سے کہا مجھے سٹورانچارج نے شرٹ نہیں دی،میں قطار میں بھی کھڑارہا مگر مجھے شرٹ نہیں ملی ،ٹیچر نے کہا تومیں آپ کیلئے کیا کرسکتاہوں ،طالبعلم نے کہا شرٹ پرمیرابھی حق ہے اگرآپ مجھے شرٹ نہیں دے سکتے تومیرے کلاس فیلوز کوحکم دیں وہ بھی اپنی اپنی شرٹ اتاردیں جس پرٹیچرنے کہا یہ کس طرح ہوسکتا ہے ،میں کوشش کروں گاتمہیں بھی شرٹ مل جائے جویقیناًتمہاراحق ہے۔ٹیچر نے اس سٹوڈنٹ کوتسلی دیتے ہوئے کہا کہ میں اس سٹورانچارج کی بازپرس ضرور کروں گااوراگراس کی بدنیتی یامجرمانہ غفلت نکلی تواسے سخت سزابھی ضروردوں گا مگرمیں ان سب کوشرٹ اتارنے کاحکم نہیں دے سکتاکیونکہ یہ سب بھی بجاطورپر شرٹ کے مستحق ہیں کیونکہ تمہاراحق ان کے استحقا ق سے بڑھ کرنہیں ہوسکتا۔ دانااورشفیق ٹیچر نے سٹوڈنٹ کے رخسارکو تھپتھپاتے ہوئے کہا میں تمہاری محرومی کی سزا ا ن سب کونہیں دے سکتا۔ پولیس میں انعامیہ ترقی ان کودی جاتی ہے جومختلف شعبہ جات میں اعلیٰ کارکردگی کامظاہرہ کرتے ہیں ،کوئی امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرتا ہے ،کوئی مختلف کورسز اور مشقوں میں اپنی صلاحیتوں کالوہامنواتا ہے توکوئی اپنی جان ہتھیلی پراٹھائے خطرناک دہشت گردوں ،قاتلوں ،شرپسندوں اورڈاکوؤں کاصفایاکرتا ہے ۔تعلیمی اداروں سمیت مختلف اداروں میں اعلیٰ کارکردگی کے حامل افراد ترقی اوربونس یعنی نقدانعامات کے مستحق قرارپاتے ہیں،کسی کوذہانت کی بنیادپرمفت لیپ ٹاپ دیاجاتا ہے۔پنجاب حکومت ہرسال مختلف امتحانات کے پوزیشن ہولڈرز بچوں کوبرطانیہ اوریورپ کی سیروسیاحت کیلئے بھجوا تی ہے توحکومت کے اس تعمیری اقدام پر عام نمبرز کے ساتھ پاس ہونیوالے بچے اپنی محرومی کارونانہیں روسکتے اورنہ انہیں عدالت میں چیلنج کرنے کاحق ہے ۔اس اقدام کامقصدانفرادی اوراجتماعی کارکردگی میں بہتری اورمقابلے کیلئے صحتمندرجحان پیداکرنا ہے ۔ اگرکسی کو اس کی اعلیٰ کارکردگی اورنمایاں خدمات پرکوئی انعام یا تحفہ دیا جائے تووہ کسی صورت واپس نہیں لیا جاتا لیکن جس کوتحفہ یاانعام دیا جائے اگر وہ چاہے تو رضاکارانہ طورپریااحتجاجاً واپس کرسکتا ہے جس طرح بھارت میں اہل علم ودانش نے اپنے اپنے ایوارڈمودی سرکار کے منہ پردے مارے ۔ پاکستان بھراوربالخصوص پنجاب میں متعدد منتخب نمائندوں کو اپنے انتخابی کوائف میں جعلی ڈگریاں استعمال جبکہ الیکشن کمشن اور ہزاروں ووٹرز کوگمراہ کرنے کی پاداش میں اسمبلی رکنیت سے برطرف کردیا گیا،ان کیخلاف مختلف تھانوں میں مقدمات بھی درج ہوئے مگرآج تک کسی کوسزاہوئی اورنہ کسی سے مراعات واپس لی گئیں ۔جعلی ڈگریوں کے پاداش میں برطرف ہونیوالے افراد آج بھی خودکوسابق وزیر،سابق ممبر قومی وصوبائی اسمبلی لکھتے اوربدقسمتی سے ان کے قومی اخبارات میں بیانات بھی چھپتے ہیں جبکہ جوسرفروش پولیس آفیسرز اپنے عہدوں سے ہاتھ دھوبیٹھے ہیں انہیں سابق ڈی آئی جی ،ڈی پی اویا ایس پی کہاجائے گااورنہ وہ اس حیثیت سے ریٹائرڈاورمراعات کے مستحق ہوں گے بلکہ انہیں کئی برس پرانے عہدوں پرکام کرنے کیلئے مجبورکیاجارہا ہے ، اب وہ وردی میں آئینہ دیکھیں گے یقیناتوان کی خوداعتمادی چکناچوراورعزت نفس کی موت ہوجائے گی۔انصاف کرتے وقت زمینی حقائق ،انعامیہ ترقی پانے والے آفیسرز کی گرانقدر خدمات،پیشہ ورانہ مہارت ،تجربات اوران کی نفسیات کومدنظررکھنا بھی ضروری تھا۔ ان کے شولڈرز سے سٹارتواترگئے ہیں مگر ان کے کندھوں پرمجرمان سے دشمنی کاجوبوجھ ہے وہ کوئی نہیں اتارسکتا وہ ان کی قبورتک ان کے ساتھ جائے گا،انہوں نے یہ دشمنی قیام امن کیلئے مول لی ہے۔ریاست ،امن اورعوام کے دشمنوں کواپنا دشمن بنایا ہے ۔پولیس میں کرپشن بندہوسکتی ہے لیکن اس کیلئے فنڈز کی نچلی سطح تک منتقلی یقینی بناناہوگی ۔حکومت جوفنڈزمہیاکرتی ہے وہ قلعہ نمادفاترمیں محصور سیاہ پوش سفیدہاتھی ڈکارجاتے ہیں لہٰذاء تھانو ں کامالی بوجھ شہریوں جبکہ شہریوں کاغصہ ایس ایچ اوزسمیت سپاہیوں کوبرداشت کرناپڑتا ہے۔اب وردی کی تبدیلی کے نام پربھی بڑی نقب لگائی جائے گی جبکہ نیشنل ایکشن پلان کے دوران وردی تبدیل کرنے کاکوئی جوازہے اورانہ اس کی ضرورت، بلکہ اسی وردی کوٹرسٹ وردی بنانے کیلئے سفیدہاتھیوں کامحاسبہ ازبس ضروری ہے جورینکرز کاوجودتسلیم اوران کی عزت نہیں کرتے ۔
اخترعمرحیات لالیکا،عمرورک،امتیازسرور اوراقبال شاہ ان چاروں کومیں ذاتی طورپرجانتا ہوں، اخترعمرحیات لالیکا1999ء میں ڈی ایس پی کوٹ لکھپت تھے تواس سرکل کی سیاسی وسماجی شخصیت کی حیثیت سے راقم کاان سے واسطہ پڑتا تھاوہ اس وقت بھی ایک پروفیشنل اورمیرٹ کے حامی پولیس آفیسرتھے اورآرپی اوراولپنڈی کی حیثیت سے بھی انہوں نے ایک پروفیشنل آفیسر کے طورپرگرانقدرخدمات انجام دیں اوروہاں بھی مختلف طبقات کی طرف سے ان کی کمٹمنٹ اورخدمات کوسراہاگیا ۔امن وامان برقراررکھنے کیلئے اخترعمرحیات لالیکا ،عمرورک،امتیازسرور اوراقبال شاہ کاتجربہ اورجواں جذبہ قابل قدر ہے۔ان سے منجھے ہوئے اورزیرک آفیسرزپولیس فورس کااثاثہ ہیں،اگرپی ایس پی آفیسرزمختلف انتظامی اورقانون امورپران کے مفید مشوروں سے مستفیدہوسکتے ہیں توان کے شولڈرزپردمکتے سٹارزان سے برداشت کیوں نہیں ہوتے۔ اخترعمرحیات لالیکا،عمرورک، امتیازسروراوراقبال شاہ چاروں کاا س مقام تک پہنچناجہاں سے انہیں اندورنی سازش کے نتیجہ میں ہٹایاگیاان کی جہدمسلسل،انتھک محنت اورقابلیت کانتیجہ تھا ۔اسلام کی روسے بھی انعام حرام نہیں ،آج سے چودہ سوسال قبل بھی میدان جنگ میں شجاعت کی دادکے طورپرقیمتی تلوارکاتحفہ دیااورمختلف القابات سے نوازاجاتا تھا ۔ جنگ میں کامیابی کیلئے جرنیل کی قائدانہ صلاحیتوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن میدان میں دشمن کامقابلہ سپاہی کرتے ہیں ۔اگرانعامیہ ترقی کاسلسلہ ترک کردیا گیا توپولیس فورس میںآئندہ کوئی اعلیٰ کارکردگی کامظاہرہ نہیں کرے گا،کوئی اپنی جان خطرے میں ڈال کردہشت گردوں اورڈاکوؤں کے مدمقابل سینہ تان کرکھڑا نہیں ہوگا ۔اگرریورشن والے پولیس آفیسرز کیلئے کوئی باعزت راستہ تلاش نہ کیا گیا توپولیس تاش کے پتوں کی طرح بکھرجائے گی اوراہلکاروں کامورال گرجائے گا۔

یہ بھی پڑھیں  سلیم ناز کی ۔۔’’ناز برداریا ں ‘‘

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker