تازہ ترینصابرمغلکالم

سب بچھڑتے جا رہے ہیں

sabir mughalانسان بہت منصوبہ ساز ہے رات گئے تک آنے والے کل اور مستقبل کے لئے سوچ میں غرق رہنا اس شیوہ بن چکا ہے ،میری بھی حالت کچھ ایسی ہی تھی ،اوکاڑہ شہر میں تھا بجلی کی بدترین بندش کی وجہ سے دوپہر کو ہی بیٹے مرزا شمریز خان کے ہمراہ اوکاڑہ سے واپس گھر صدر گوگیرہ واپس آ گیا ، طبیعت چند دن سے کچھ بہتر نہ تھی اس وجہ سے افطاری و نماز مغرب کے بعد سونے کی کوشش کرنے لگا،آنے والے کل کے لئے منصوبہ بندی کرتا رہا اور دماغ میں اسی غبار کا منبع لئے نیند کی آغوش میں چلا گیا،کچھ اندازہ نہیں تھا مدہوشی کی اس آغوش میں جانے کے بعد ۔کیا کچھ ہو رہا ہے ۔صبع 5بجے ایک ضروری کام سے گیا اور خلا ف توقع جلد واپسی ہو گئی ،9.15پر نہانے کے بعد اوکاڑہ جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ اچانک ذہن میں آیا Facebook چیک کروں کسی دوست کا کوئی لازمی Messageنہ آیا ہو،فیس بک آن کرتے ہی سب سے پہلے انتہائی مہربان دوست میاں محمد اصغر جیویکا(سابق ایم پی اے)کی پوسٹ پر نظر پڑی،جھٹکا سا لگا،یہ خبر ہی اتنی پر وحشت ،الم انگیز اورکر بناک تھی کہ میرا پہلا فطری رد عمل غیر یقینی کا تھا ، شک پڑا شاید ۔عمریا۔اپنی حدوں کو چھونے لگی ہے اس لئے نظر ٹھیک طرح کام نہیں کر رہی ،اس پوسٹ پرمیاں اصغر جیویکا اور ان کے ساتھ اپنے پورے خاندان کا عزیز۔پورے شہر کا عزیز۔دوستوں کا عزیز ۔اور میرا عزیزپیر شاہد عزیز شاہ (صحافی و ممبر گوگیرہ پریس کلب صدر گوگیرہ)کھڑے تھے،میاں اصغر نے ساتھ لکھا تھا آج یہ ۔عزیز۔ہم میں نہیں رہا،یہ جان کردماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا ،شاہد عزیز شاہ کی موت کی اطلاع یہ تو بہت بھیانک سچ تھا،ابھی تین روز قبل ہی شاہد عزیز شاہ نے مجھے کال کی تھی کہ بھائی جان کدھر ہیں دل چاہا رہا ہے آپ کے ساتھ کچھ وقت گذاروں ،مگرانسان ہوں نا کئی سال آگے کی بھی سوچ ذہن میں بٹھا لیتا ہوں ،اس دن میں گھر نہیں تھا دوسرے دن ملنے کا کہا مگر ایسا پھر بھی نہ ہو چکا اور وہ ملا تو وہ ایسے ملا جیسے کہیں دور ،بہت دور جانے والے ملتے ہیں،جو نہ بولتے ہیں،نہ سنتے ہیں،نہ کوئی شکوہ کرتے ہیں ،نہ شکوہ سنتے ہیں،میں بہت شرمندہ تھا کہ جیسے اس خاموش کے لبوں پر بھی میرے لئے کوئی شکوہ ہے ،میرے سب گھر والے یہ جان کر سکتے میں آگئے بڑا بیٹا مرزا بلال صابر، مرزا شمریزخان ،مرزا انعام ،مسز،بیٹی اور الراقم سمیت سبھی کے گال آنکھوں سے ٹپکنے والے پانی سے پانی زدہ ہو گئے،والدہ صاحبہ کو پتا چلا تو وہ دوڑی چلی آئیں ،چند ماہ قبل والدہ صاحبہ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے حرمین شریفین گئیں تو اس گروپ میں پیر شاہد عزیز شاہ بھی شامل تھا،عمرہ ادائیگی کے بعد سے شاہد عزیز شاہ سے میرا رابطہ اتفاقاً ذرا کم ہو گیا وہ اس دوران کئی بار شکوہ بھی کر چکا تھا مگر اس کے دور کہیں جانے کا صدمہ سہنے کے ساتھ ساتھ یہ سوچ مجھے اب بھی کسی ناگن کی طرح ڈستی رہے گی کہ میں اسے اس کے آخری دنوں کیوں نہ مل سکا۔وہ ایک بے ضرر ،مخلص اور انتہائی قابل اعتماد انسان تھا،ماہ رمضان سے قبل مجھے اپنے مرحوم دوست راؤ طالب حسین کے چھوٹے بھائی راؤ عامر کی کال آئی کہ ہم راؤ طالب کے نام سے فلڈ لائٹ ٹورنامنٹ کروا رہے ہیں آپ نے ہر صورت وہاں پہنچنا ہے،راؤطالب حسین میرا وہ دوست تھا جس کے بغیر میںآج بھی خود کو ادھورا اور اپاہج سا سمجھتاہوں،میرے والد ۔ہدایت علی خان ۔کے بعد سے لے کر اب تک وہ واحد شخص تھا جس نے میرے ہاتھوں میں دنیا فانی کو خدا حافظ کہا،راؤ طالب کی رحلت کو آٹھ سال ہو چکے ہیں اس کی قبر پر جانا آج بھی میرا معمول ہے لیکن حیرت انگیز بات یہ کہ آج تک میں اس کی قبر پر پوری ۔دعا۔نہیں مانگ سکا،برداشت ہی نہیں ہوتا،راؤ طالب فلڈ لائٹ ٹورنامنٹ کی فائنل تقریب میں پہنچا تو تب تک دیگر مہمانان خصوصی جن میں چوہدری غلام رضا ربیرہ ،چوہدری شبیر (صفہ سکول والے)چوہدری آفتاب رشید (ڈویژنل انجینئر اوکاڑہ)،صہیب مقصود،شکیل احمد بھٹی ،چوہدری شاہد حسین ربیرہ وہاں پہنچ چکے تھے ،میچ انتہائی جاندار تھا،ینگ الیون ینگ پور نے سنسی خیز مقابلے کے بعد اسے اپنے نام کیا، اس ٹورنامنٹ کو راؤ ،حامد ،عابد رشید اور ان کے دوستوں نے آرگنائز کیا تھا،وہاں جیسے ہی راؤ طالب کا نام گونجتا دل کے ۔تار۔چھڑ جاتے،آنکھوں میں پانی نے بسیرا ڈال کر نگاہ کو دھندلا دیا،اس رات مکمل طور پر نہ سو سکا،کئی بار ارادہ کیا راؤ طالب پر کچھ لکھوں مگر ہمت نہیں بندھی ۔پیر شاہد عزیز شاہ کی اچانک موت نے ماضی کے تمام زخم ایک بار پھر سے ۔ہرے بھرے ۔کر دئیے ہیں۔حقیقی چھوٹا بھائی کاشف علی خان (شہید انسانیت )،پیر افضل شاہ،ملک عرفان،بشیر احمد بھٹی،حاجی محمد یوسف لکھویرا،خضر حیات گوگیرہ،نور احمد باٹا ،جعفر حسین شیخ ،میاں احسان ،مرزا ارشد فریدی سمیت درجنوں قریبی دوست مجھے چھوڑ کردیکھتے ہی دیکھتے کوچ کرتے چلے گئے اور کر رہے ہیں،یہ سب دوست کسی شہاب کی طرح میری زندگی کے افق پر نمودار ہوئے ،اپنی خیرہ کن روشنی بنائی اور پھر خاکستر ہو کے تاریکی میں ڈوب گئے اور میری زندگی میں بھی اندھیروں کے جلوے بکھیر گئے ،مجھے بھی تاریکی میں لے ڈوبے،انسانی زندگی ہے کیا؟پانی کے ایک بلبلے کی مانند ،کوئی پتہ نہیں کس وقت یہ بلبلا پھٹ جائے تب دنیا کا کوئی رشتہ ساتھ نہیں ہوتا،ہر روز ہر لمحہ نہ جانے کتنے گھروں میں ۔اجل۔ شب خون مارتی ہے مگر وقت کا یہ کارواں تو ایسے ہی رواں رہتا ہے،یہ بھی فطرت کا ایک عجب مقام ہے کہ کسی کے مرنے کے بعد ہر ایک کو بہت جلدی ہوتی ہے کہ وہ وقت کب آئے گا جب اسے منوں مٹی تلے دبا کر واپس جا کر کھانا کھائیں یا اپنے روز مرہ کاموں میں مشغول ہو جائیں،اس کے گھر والے،اس کے عزیز،اس کے دوست،اہل محلہ ،اہل شہرسب اسے لاتعداد قبروں کے درمیان مٹی کے ڈھیر تلے اکیلا چھوڑ کر واپس لوٹ جاتے ہیں ،قبرستان میں ہر کوئی توبہ توبہ کرتا پھرے گا مگر جیسے ہی واپس پلٹے ان کی سوچ میں وہی ماضی والا ۔انسان ۔ عود آتا ہے، چند اصل انسانوں کی بجائے عام انسان جو قبرستان میں ہی اس وقت کسی کے مرنے پر بہت وایلا مچاتا ہے وہی انسان نہ منافقتوںں سے باز آتا ہے اور نہ ہی خباثتوں سے،جس طرح اکثر شہر خاموشاں کا رخ کرنے والے زندہ و جاوداں رہتے ہیں اسی طرح بعض زندہ بھی زندگی پر ایک تہمت ہوتے ہیں ،دیکھنے کی بات یہ ہوتی ہے کہ انسان کس طرح زندہ رہا،یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ جھوٹی انا،سستی شہرت انسان اور ڈرامہ بازیاں انسان کو انسان نہیں بننے دیتیں،وہ اس چکر میں پڑ جاتا ہے جہاں ظاہری عزت تو بہت نمایاں ہوتی ہے مگر ہوتی وہ لعنت زدہ ہی ہے،اس دیس میں آیا ہر شخص اپنی اپنی فطرت کے مطابق کام کرتا ہے ،گویا ایسے کردار بھی اپنی اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور و مقہور ہیں،میرے بہت سے عظیم دوست اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں اور بچھڑتے جا رہے ہیں گذشتہ دنوں میری بیٹی کی کلاس فیلو کا بیٹی کے لئے میرے نمبر پر Messageآیا ۔ میرے ابو ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں،یہ پیغام میں اتنی معصومیت اور بے بسی سے بھرپور تھا کہ دل کو چیرتا چلا گیا،باپ کے جانے پر کسی بیٹی کا درد اور کون جان سکتا ہے مگر مشیت ایزدی جو کچھ رقم کر چکی ہو وہ سب کچھ ہر حال میں ہو کر رہتا ہے چاہے وہ لمحات بڑے بے درد ،سنگدل ،سفاک اور بے حد ظالم ہی کیوں نہ ہوں،زندگی یا موت یہ سب منجانب اللہ ہے ،یہی ہمارا عقیدہ اور ایمان ہے ،خدا وند کریم ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔۔

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button