ایم اے تبسم

سکولوں میں مخلوط تعلیم ،اسلامی اقدارکی پامالی

معاشرہ جس تیزی کیساتھ بدل رہا ہے اس نے ملت اسلامیہ کومختلف قسم کے مسائل سے دوچار کردیا ہے،مسلم معاشرے میں آئے دن ایسی چیزیں داخل ہورہی ہیں،جواسلامی معاشرت کے خلاف ہیں،اورمسلمانوں کے تشخص پرکاری ضرب لگا رہی ہیں،خاص طورسے مغربی تہذیب کی چکا چونداب مسلم نوجوانوں اورمسلم لڑکیوں کوبھی متاثرکرنے لگی ہے،اسی لئے مسلمانوں کی نئی نسل اپنے اندازولباس سے جدید تہذیب سے مرعوب ہوتی نظرآرہی ہے،نئی نسل کا مغربی تہذیب سے اس قدرمتاثرہونا اور اپنی وضع قطع کوبالائے طاق رکھ کرغیروں کا لباس اوران کے طورطریقوں کواختیارکرنا مسلم معاشرہ کے مستقبل کے لئے انتہائی خطرناک بات ہے،دوسری طرف مسلمانوں کی نئی نسل دینی واخلاقی تربیت سے محروم ہونے اوراسلامی تعلیمات سے ناواقف ہونے کی وجہ سے ان خیالات اور افکار سے متاثرہوتی جارہی ہے۔جواسلام سے متصادم ہیں،اوراسلام میں ان کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔نئی نسل کے اس طرح کے اسلام مخالف خیالات سے ہم آہنگ ہونے کی متعددوجوہات ہیں جن میں سے ایک وجہ تویہ ہے کہ وہ اسلامی تہذیب ومعاشرت کا عام طورسے مشاہدہ نہیں کرپاتے ،جب بچے صبح کوٹی وی آن کرتے ہیں تواس پر ایسے کلچرکا مشاہدہ کرتے ہیں،جوعریاں تہذیب کا عکاس ہوتا ہے،اور مسلم تہذیب کا کوئی تصور اس میں موجود نہیں ہوتا،جب بچے اسکول جاتے ہیں تووہاں بھی وہ ایسا ہی کلچر دیکھتے ہیں،جس میں مسلم معاشرت نام کی بھی نہیں پائی جاتی،بلکہ اس کلچرمیں مغربیت اور عریانیت کے نظارے لمحہ بہ لمحہ نظرآتے ہیں،اس لئے ان بچوں پر آہستہ آہستہ وہی اثرات نمایاں ہونے لگتے ہیں،مسلمانوں کے پاس تعلیم کے خاطر خواہ ادارے نہ ہونے کی وجہ سے اب مسلم والدین اپنے بچوں کوایسے سکولوں میں بھیجنے کیلئے آمادہ ہوتے جارہے ہیں،جن پر عیسائی مشینری یا دیگر نظریات رکھنے والے افراد کا اثرورسوخ ہے،ان سکولوں میں مذہب ،اخلاقیات اورروحانیت کا دور دورتک نام ونشان نہیں ہوتا،ہاں عریاں تہذیب وکلچرکوفروغ دینے والی بہت سی چیزیں وہاں ضرورپائی جاتی ہیں،ان اداروں میں لڑکوں اور لڑکیوں کومخلوط تعلیم دی جاتی ہے،جس کے سبب اجنبی لڑکے اور لڑکیاں ایک دوسرے کے ساتھ آزادانہ طور سے بات چیت کرنے لگتے ہیں،یہاں تک کہ بات آگے بڑھ جاتی ہے ایسے سکولوں،کالجوں ویونیورسٹیوں میں جہاں مسلم لڑکے اور لڑکیاں دونوں زیرتعلیم ہوتے ہیں،وہاں وہ ایک دوسرے سے متاثر ہوئے بغیرنہیں رہ پاتے،یہاں تک بہت سے لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان عشق و معاشقہ کی صورت پیدا ہوجاتی ہے،اور بعض اوقات ان کے درمیان دوستانہ تعلقات بھی پروان چڑھنے لگتے ہیں،جوآگے چل کر خطرناک رخ اختیار کرلیتے ہیں،اور کبھی کبھی کورٹ میرج تک بات پہنچ جاتی ہے،اب ایسے مخلوط تعلیم حاصل کرنے والے لڑکے اور لڑکیوں کی آپس میں کورٹ میرج شادیوں کے واقعات میں روزبروزاضافہ ہوتا جارہا ہے،اور اکثراوقات جب ان کی فیملیاں ان کی آپس میں شادی کے خلاف ہوتی ہیں تو اکثرلڑکے اور لڑکیاں گھروں سے فرارہوجاتے ہیں،اور گھرسے بھاگ کر کورٹ میرج کرلیتے ہیں اور یہ صورت حال تشویش ناک حدتک بڑھ چکی ہے،کیونکہ اسلام میں اس کی کوئی بھی گنجائش نہیں ہے اور مسلم تہذیب کو اس سے شدید خطرات لاحق ہیں،اس کے ساتھ ساتھ مسلمان لڑکیاں اور لڑکے فیشن جیسی لت میں ڈوب کر عالمی مقابلوں میں بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے ہیں،اور اپنے جسم کی نمائش کرتے ہیں،یہ سب مغربی چکا چوندکا نتیجہ ہے،جونئی نسل کی آنکھوں کوخیرہ کررہی ہے،اورنئی نسل انجام سے لاپروا ہوکر اس عریاں تہذیب کی اسیر ہوتی جارہی ہے،مسلم خواتین کا مغربی تہذیب سے متاثرہونا اوراسلامی معاشرت سے بیزار ہونا خطرناک بات ہے،سادہ لباس کوچھوڑ کر عریاں فیشن والا لباس پہننا ،حجاب میں رہنے کی بجائے سڑکوں وبازاروں میں بے حجابانہ گھومنا اور غیرمسلم مردوں کیساتھ شادی کرنا مسلم معاشرے کے لئے ایسا چیلنج ہے،جوفوری توجہ کا طالب ہے،بڑی حیرانی اس وقت ہوتی ہے جب مسلم خواتین اسلامی رہن سہن اور اسلامی طورطریقوں سے ہٹ کر مغربی تہذیب وثقافت کی حمائت کرتی نظرآتی ہے،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نہ صرف عملی طورپر بہت سی مسلم عورتوں میں تبدیلی آرہی ہے بلکہ ذہنی وفکری طورپربھی مسلم عورتوں میں تبدیلی پیدا ہوتی جارہی ہے،بعض مسلم خواتین اس بات کی بھی شاکی دکھائی دیتی ہیں کہ مسلم معاشرے میں عورتوں کو ان کے حقوق نہیں دئیے جاتے،ان کا احترام نہیں کیا جاتا ،انہیں تعلیم حاصل کرنے سے روکا جاتا ہے،اور ان کی تذلیل کی جاتی ہے لیکن یہ ناقص سوچ ہے،حقیقت یہ ہے کہ اسلامی معاشرت عورت کی جس قدرعزت کی حامل ہے ،اسلام نے صنف نازک کو جس احترام وعظمت سے نوازا ہے اس کی مثال ڈھونڈے سے بھی نہیں مل سکتی،سچ بات تویہ ہے کہ اسلام پوری انسانیت کی فکرکرتا ہے،اور سب کواہم مقام سے نوازتا ہے،اور عورتوں کے ساتھ بہترین سلوک کا حکم دیتا ہے،اوران کے تحفظ کے لئے اہم تعلیمات پیش کرتا ہے،جہاں تک عورتوں کی تعلیم کا معاملہ ہے،تو قرآن پاک میں متعددمقامات پر علم حاصل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے،لیکن جہاں بھی علم کے حصول کی بات کہی گئی ہے،وہاں مرد کی تخصیص نہیں کی گئی ،گویا کہ قرآن میں تعلیم کے متعلق جو کچھ بھی فرمایا گیا ہے اس کے مخاطب مردوعورت دونوں ہیں،یہاں تک کہ آپ ö نے عورتوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینے کا کہا ،اسلام عورتوں کوبلندمقام عطا کرتا ہے اور ان کیساتھ شریفانہ برتائو کا حکم ک] ]>

یہ بھی پڑھیں  کتاب دوستی کا کم ہوتا رجحان

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker