علاقائی

چنیوٹ:اکیسویں صدی میں بھی سکول میں طالبات کی بجائے بکریاں تعلیم حاصل کرتیں ہیں

چنیوٹ﴿بیورو رپورٹ﴾ضلع چنیوٹ میں اکیسویں صدی کے اس دور میں آج بھی ایک ایسا سکول موجود ہے جہاں طالبات کی بجائے بکریاں تعلیم حاصل کرتیں ہیں دلچسپ امر یہ ہے کہ گورنمنٹ گرلز پرائمری سکول کی تزئین وآرائش کے لیے ہر ایم پی اے گرانٹ تو فراہم کرتا ہے لیکن طالبات کی بجائے یہاں جانور تعلیم حاصل کرتے ہیں اور یہ سکول ای ڈی او ایجوکیشن مہر اشرف ہرل کے ذاتی گائوں میں واقع ہے ذرائع کے مطابق چک نمبر14کالرو میں1990ئ میں طالبات کے لیے گورنمنٹ پرائمری سکول تعمیر کیا گیا دو کنال سرکاری زمین پر لاکھوںروپے سرکاری فنڈز کی مدد سے دو کمرے ، ٹائلٹ ، چار دیواری اور صحن تعمیر کیا گیاسابقہ دور حکومت میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے ایم پی اے قاضی علی حسن نے اس سکول کی دیوار گر جانے کے بعد اسے تین لاکھ روپے گرانٹ بھی دی جس سے اس کے چار دیواری دوبارہ تعمیر کی گئی لیکن عرصہ پانچ سال قبل اس سکول کو چار کلومیٹر دور ایلمنٹری سکول میں ضم کردیا گیا جس کے بعد یہاں مقامی وڈیروں نے قبضہ کرلیا سکول میں جانور بندھے جانے لگے اور کمروں میں بکریاں ، بلیاں ، کتوں کا باڑ بنادیا گیا جس سکول میں طالبات کے لیے پانچ کلاسز کا انتظام کیا گیا تھا وہاں اب جھاڑیوں اور جانوروں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں اسی گائوں میں بچوں کے لیے ایک سکول بھی تعمیر کیا گیا ہے جہاں بچوں کی تعداد اڑھائی سو کے قریب ہے جبکہ اس گائوں کی 50%آبادی اپنی بچیوں کو صرف اس لیے چار کلومیٹر دور ایلمنٹری سکول میں نہیں بھیجتی کیونکہ پرائمری تک تعلیم حاصل کرنے والی طالبات کی عمر بھی سات سال تک ہوتی ہے اور کھیتوں کو عبور کرکے ان کا وہاں تک پہنچنا مشکل ہوجاتا ہے دوسری طرف ستم ظریفی کی بات یہ ہے ایلمنٹری سکول میں بھی تین سوطالبات پر ایک پرائمری ٹیچر تعینات ہے جو پہلی سے آٹھویں جماعت کی طالبات پر کنٹرول نہیں کرپاتی ای ڈی او ایجوکیشن کے ذاتی اس گائوں کے سکول میں متعدد دفعہ خود ای ڈی او ، ڈی او ، ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر اور دیگر آفیسران وزٹ بھی کرچکے ہیں لیکن نہ تو ایلمنٹری سکول میں ٹیچرز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے اور نہ ہی اس بند سکول کو چلانے کی کوشش کی گئی ہے اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ جس ضلع کا ای ڈی ایجوکیشن اپنے ذاتی گائوں کی طالبات کو تعلیم کے زیور سے آراستہ نہیں کرسکتا وہ پورے ضلع میں تعلیم پھیلنے میں کتنا مخلص ہوسکتا ہے ۔دوسری طرف ڈی سی او چنیوٹ ڈاکٹر ارشاداحمد کے مطابق سکول سے بااثر افراد کا قبضہ واگزار کرالیا جائے گا لیکن تعداد کم ہونے کی وجہ سے گورنمنٹ کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے اس سکول کو قریبی سکول میں ضم کیا گیا تھا اس علاقے میں اب اگر تعداد زیادہ ہوگئی ہے تو یہی سکول دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں  گوجرانوالہ:آورہ کتوں کے کاٹنےسے 2 بچیوں سمیت 10افرادشدیدزخمی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker