شہ سرخیاں

سیرت قلم

قلم کا سہارا لیکر اپنی سوچ سے نئی راہ تخلیق کرناعظیم معماروں کا کام ہے اور قلم سے لفظوں کی ادائیگی سے لیکر افراد کے ذہن میں تعمیر نو آسان ہے‘ صرف سوچنے کی حد تک۔۔۔۔۔لفظوں کی کھوج اور جرات مندی سے ہر با ضمیر فرد کو اس کی امانت لوٹا دینا بھی عبادت ہی تو ہے‘ جیسے ہر سکھ کا مقدر روشنی کی کرن ہے‘ جس سے تعین کیا جاتا ہے کہ صبح کا آغاز ہے اور وقت کا ڈھل جانا اس بات کی دلیل ہے کہ ہم ماضی کی طرف رواں دواں ہیں‘ دن کا ڈھل جانا اور رات آجانا تاریخ کے دو اہم ستون جانے جاتے ہیں مگر ایک کے بعد دوسرے کا وجود کس اہمیت کا ضامن ہے اس بات کو کسی ایک کے حق میں دینا غلط ہے لیکن یہ بات واضح ہے کہ ایک دوسرے کے باہمی اشتراک سے تاریخ کا بدلنا ممکن ہے‘ اسی طرح قلم کے استعمال کے بناء معاشرے کو درندہ صفت افراد کے رحم و کرم پر چھوڑنا مناسب نہیں‘ معاشرے کا توازن برقرا رکھنے کیلئے قلم کاری شہہ رگ کی مانند ہے‘ اس شہہ رگ کا منقطع ہونا مردہ ہونا ہے‘ اور مردہ افراد کی بستی کو غالباََ قبرستان کہا جاتا ہے‘ جہاں دوسروں کی اصلاح کا بیڑا کسی دوسرے فرد کے ہاتھ نہیں وہاں خود کا جواب خود دینا ہی دستور ہے جس کو فراموش نہیں کیا جا سکتا لیکن اپنے قلم سے مظلوم کی صدا بلند کرنا قلم اور انسان کی بلندی کا زینہ ہے‘ قلم سے بغاوت مرگ حیات کی نشانی اور سچے قلم سے لکھے جانے والے الفاظ محض ترجمانی نہیں بلکہ معاشرے کی سسکتی آواز جو اعلیٰ ایوانوں میں موجود گم سم حکمرانوں کے کانوں میں نہیں رینگتی ‘ ایک انقلابی صدا بن کر ابھرے گی‘ جس کو ایک نہ ایک دن پورا ہونا ہے۔
اس کاروان قلم کو ہر جگہ ہم آواز ہونے کیلئے کالمسٹ کونسل آف پاکستان (CCP) کا اجراء وقت کی اشد ضرورت سمجھا گیا تھا جس میں جوق در جوق اہل قلم کی شمولیت ہر فرد کی آواز کو دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچانے کو یقینی بنایا گیا اور بہت سنجیدگی کے ساتھ اس بات پر اتفاق عمل میں لایا گیا ہے کہ ہر اہل قلم کے تحفظات کو دوران فرض جو پیش آئیں گے ان کو دور کرنے کیلئے ہر سطح پر اہل قلم آواز اٹھائیں گے‘ جس کا بنیادی مقصد سی سی پی کا واضح مقصد معاشرے کے سامنے لانا ہے اور اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو دور کرکے پاکستان کے تصور کو تقویت بخشنا ہے‘ ان ساری کاوشوں کا سہرا سی سی پی کے عہدیداران کو جاتا ہے جن کی وجہ سے نئی نسل کو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کیلئے ایک جامع پلیٹ فارم ملا‘ جس میں نئے لکھنے والے کالم نویسوں کی حوصلہ افزائی کی گئی تاکہ نئے کالم نگار بلا خوف و خطر اپنی تحاریر اشاعت کیلئے پیش کر سکیں اور ملک میں پستی کی طرف جانے والے فن کو ایک نیا موڑ دے کر پھر سے قائدانہ صلاحیت کے قابل بنایا جا سکے۔
کالمسٹ کونسل آف پاکستان (CCP) کے قیام سے نئے لکھنے والوں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ترقی پسند عناصر کا موجب ہے‘ یہی سی سی پی کا عزم اور منشور ہے‘ جو قندیل در قندیل کی مانند شمع روشن کئے جا رہے ہیں‘ سی سی پی میں مجھ جیسے لکھنے والوں کی شمولیت میرے لئے کسی معجزے سے کم نہیں‘ شاید میرے درد کو زباں ملنا اس حد تک لازم ہے کہ میں سی سی پی کا حصہ ہوں جو میرے لئے آغاز سحر ہے اور مجھے اس بات پر فخر ہے کہ حق گوئی کیساتھ مجھے اپنے فرائج سر انجام دینے کی تلقین کی جاتی ہے اور ہر تحریر لکھنے کے بعد تین مراحل طے کرنے کے بعد عوام الناس کو پڑھنے کیلئے پیش کی جاتی ہے اس بات کا اہتمام خود میرے اور میری تحریر کیلئے کسی اعزاز سے کم نہیں اور میرے اس شوق کو سی سی پی نے پورا کر دیا

یہ بھی پڑھیں  پتوکی :تھانہ صدر پولیس کی کاروائی4 رُکنی خطرناک اکرم عرف اکری ڈکیت گینگ گرفتار