شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / ہیضہ ،صحت وصفائی

ہیضہ ،صحت وصفائی

ہمارے ہاں صفائی کے ناقص انتظامات اور صحت کی بنیادی سہولتوں کی کم یابی بے شمار چھوٹی بڑی بیماریوں کے پھیلنے کا سبب بنتی ہیںآجکل برسات کا موسم ہے بازاروں گلی کوچوں میں ناقص قسم کے مشروبات اور دیگر ٹھنڈی اشیا ء آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں بڑوں سے لے کر چھوٹے بچوں تک ان سستی اورناقص اشیاء کا استعمال کرتے پائے جاتے ہیں،جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ ہمارے ہاں صحت وصفائی کے انتظامات انتہائی ناقص ہیں جس کی وجہ سے برسات کے موسم میں بارش کا پانی کئی کئی روز تک گلیوں میں کھڑا رہتا ہے جس سے مچھروں کے ساتھ ساتھ مکھیوں کی پیداوار دگنی ہو جاتی ہے ہیضہ جیسے متعدی وبائی مرض کے پھیلنے میں مکھیا ں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں یہ مرض جراثیم ویبروکالرا Vibro) Cholera ) سے پھیلتا ہے یہ مرض چند گھنٹوں سے لے کر پانچ دن میں اپنا اثر دکھا دیتا ہے،تحقیق کے مطابق ہیضہ پانچ F سے پھیلتا ہےFlies,Food,Fingers,Faeces,Fomit مکھیاں مریض کے فضلے اور قے پر بیٹھ کرکھانے پینے کی اشیاء پر بیٹھتی ہیں اور انہیں زہر آلود کر دیتی ہیں خاص طور پر خوانچہ فروشوں،چھابڑی والوں کے پاس املی کا شربت،چنے،شکرکندی،سموسے سڑک سے اٹھنے والی گرد سے اٹے ہوتے ہیں انھیں حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق نہ ہی تیار کیا جاتا ہے اور نہ ہی گردوغبار سے بچانے کا کوئی مناسب انتظام کیا جاتا ہے ہیضہ کی بیماری کے آغاز میں مریض کو دست اور قے آتے ہیں اور ساتھ ہلکا بخار بھی ہوجاتا ہے پھر شدت بڑھ جانے سے مریض میں خون کے حجم میں کمی واقع ہو جاتی ہے بیماری مزید بڑھ جائے توقے اوردست کی وجہ سے مریض میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے پانی اور نمکیات کی کمی کی وجہ سے بلڈپریشر بہت کم ہو جاتا ہے زبان خشک اور سفید ہو جاتی ہے جسمانی درجہ حرارت کم ہو جاتا ہے نبض کی رفتار کم ہو جانے سے مریض کی موت بھی واقع ہو سکتی ہے ہیضے کی وجہ سے مریض کا نظام انہضام بری طرح متاثر ہوتا ہے خون کے حجم میں کمی سے مریض کے گردوں پر بھی برا اثر پڑتا ہے۔پچھلے چند دنوں میں اوکاڑہ میں ہیضہ کے مریضوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے گورنمنٹ اور پرایؤیٹ ہسپتالوں میں بہت سے مریض خاص طور پر بچے لائے گے جن کو ہیضہ کے مرض نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھامیری ضلعی انتظامیہ سے انتہائی ادب سے گزارش ہے کہ خدا کے لیے شہر سے کوڑا کرکٹ کے ڈھیروں کو مناسب وقت پر اٹھایا جائے ابلتے گٹروں کو باقاعدگی سے صاف کروایا جائے سڑکوں کی صفائی پر بھر پور توجہ دینے کی ضرورت ہے جو عملہ صفائی پر معمور ہے وہ بھی لاپرواہی کا مرتکب ہوتا ہے اکثر تو گند اٹھایا ہی نہیں جاتا اگر کبھی کوئی زحمت کر ہی لے توشہر میں پڑے ڈھیر کو آگ لگا کر آلودگی میں مزید اضافہ کیا جاتاہے گند اٹھانے والی ٹرالیاں کاغذی کاروائی کے لیے شہر میں دوڑتی نظر ضرور آتی ہیں اگر ان میں سے کسی ٹرالی پر گند لوڈ ہورہا ہو تو یہ منظر بھی قابل دید ہوتا ہے پہلے تو گند لوڈ کرنے والا عملہ انتہائی لاپرواہی سے گند لوڈ کرتا ہے اس کے بعد جہاں جہاں سے ٹرالی گزرتی ہے وہاں بھی گند بکھرتا چلا جاتا ہے پچھلے سال ٹی ایم اے اوکاڑہ نے گند جمع کرنے کے لیے لوہے کی بڑی ٹرالیاں شہر کے مختلف جگہوں پر رکھیں لیکن افسوس اس ٹرالی کو بھی مناسب وقت پر نہ ہی اٹھا یا جاتا ہے بلکہ اس میں پڑے کوڑے کرکٹ کو آگ لگا کر عملہ مزید آلودگی کا سبب بنادیتاہے خدارا صفائی پر مناسب توجہ کی ضرورت ہے دین اسلام میں تو نصف ایمان ہی صفائی کو کہا گیا ہے پھر اٹھانوے فیصد مسلمان آبادی والے ملک میں گندگی کے ڈھیر کیوں؟ کیا ہم اپنا نصف ایمان کھو تو نہیں رہے؟کاش ہم سب اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور اپنے وطن عزیز کو ہرگندگی اورکرپشن سے بچا ئیں تاکہ آنے والی نسلیں ہم پراور پاکستانی ہونے پرپر فخر کر سکیں ***

یہ بھی پڑھیں  پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن اور مسلم لیگ ق نے عوام کو مایوس کیا، حاجی رمضان

کوئی تبصرہ نہیں

  1. yee is mousam k lehaz se bohat achha ,aaghai colum h.jese is hafte brishe ho rhe h  tu ye sub  bemaria  b phel rhe h.lhaza munasb intzam hona chahie.parhez ilaaj se behtr h.