پاکستانتازہ ترین

دہشت گردی کاخطرہ، ملک میں سیکورٹی ہائی الرٹ،60افراد گرفتار

اسلام آباد(بیورو رپورٹ) دہشت گردی کے پے در پے واقعات کے بعد ملک بھر میں سیکیورٹی انتظامات مزیدسخت کردیئے گئے۔ جنوبی پنجاب میں جلوسوں کی فضائی نگرانی کی جائے گی۔ پنجاب کے مختلف اضلاع سے کالعدم تنظمیوں کے ساٹھ سے زائد اہم اراکان حراست میں لئے گئے۔وفاقی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ اسلام آباد میں دس محرم کو ہفتہ وار بازار بھی بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پنجاب بھر میں نو اور دس محرم کو ڈبل سواری پر پابندی لگائی گئی ہے جبکہ فوج اور رینجرز بھی طلب کی گئی ہے۔ آئی جی پنجاب نے چھتیس اضلاع میں خصوصی ٹیمیں بھیج دیں ہیں۔ جنوبی پنجاب میں جلوسوں کی فضائی نگرانی کی جائے گی۔ ملتان، بھکر سرگودھا سمیت دیگراضلاع سے کالعدم تنظمیوں کے ساٹھ سے زائد اہم اراکان حراست میں لئے گئے ہیں۔لودھراں میں امام بارگاہ میں رکھا بم ناکارہ بنا دیا گیا۔ حساس شہروں میں امام بارگاہوں کے قریب ہرقسم کی گاڑیوں کی آمد و رفت پر پابندی ہوگی۔ سندھ میں بھی پاک فوج کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔ آئی جی سندھ کے مطابق کراچی میں عاشورہ پر ساڑھےپانچ ہزارسےزائد اہلکار مرکزی جلوس پر تعینات ہوں گے۔ جبکہ جلوس کے راستوں پرجیمرزبھی لگائےجائیں گے۔ محکمہ داخلہ کو موٹرسائیکل پر پابندی کی تجاویز بھی دیں ہیں۔ آٹھ محرم کے جلوس کے راستے سے مشکوک بیگ برآمد ہوا جس کی تلاشی لی گئی۔ حیدرآباد میں تین دن موٹر سائیکل چلانے پر پابندی عائدکی گئی ہے۔ سکھرمیں مسافرخانوں، ہوٹلوں پرچھاپے مارکرپندرہ افراد گرفتار کرلئے گئے۔ سانگھڑ میں پولیس رینجرز نے مشترکہ فلیگ مارچ کیا۔ خیبر پختونخواہ میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔ پشاور کے صدربازارسے تھرماس میں موجود بم برآمد ہوا جسے ناکارہ بنادیاگیا ۔ ہنگو اور کرم ایجنسی میں فوج تعینات ہوگی جبکہ گن شپ ہیلی کاپٹرز بھی موجودہوں گے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں دس محرم تک موٹر سائیکل پر پابندی لگائی گئی ہے۔ بلوچستان میں بھی سیکورٹی سخت ہے، دارالحکومت کوئٹہ میں پانچ ہزار پولیس اہلکار اور ایف سی کی اکیس پلاٹونز تعینات ہیں۔ ڈیرہ بگٹی میں پانچ کلو وزنی بم ایف سی نے ناکارہ بنادیا۔ گلگت بلتستان میں بھی انتظامیہ نے نو دس محرم کو موٹر سائیکل پر پابندی لگانے کا اعلان کیاگیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ہارون آباد: بااثر زمیندار کا غریب محنت کش پر مسجد میں تشدد

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker