پاکستانتازہ ترین

سینیٹ اجلاس:فاٹا کو بھی این ایف سی ایوارڈ میں شیئردیا جائے

senateاسلام آباد(بیورو رپورٹ)سینیٹ کے اجلاس میں بجٹ بحث کے دوران سینیٹرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فاٹا کو بھی این ایف سی ایوارڈ میں شےئر دیا جائے،ملک میں کرپشن کے خاتمے کیلئے اقدامات کئے جائیں،حاجیوں پر لگایا گیا ٹیکس واپس لیا جائے،جبکہ گردشی قرضے کے خاتمے کیلئے عوام پر ٹیکس بڑھانے کی بجائے دفاعی بجٹ میں کٹ لگایا جائے،بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے سے سب سے زیادہ نقصان پاکستانی کسان کو ہوگا،سینیٹ کو بجٹ کے عمل میں صرف تجاویز کی حد تک شامل کرنا ناانصافی ہے،حکومت دہشتگردی کے خاتمے کیلئے بھی اقدامات کرے۔منگل کوسینیٹ کے اجلاس میں بجٹ بحث پر حصہ لیتے ہوئے ایم کیو ایم کے سینیٹر کرنل(ر) طاہر مشہدی نے کہا کہ پہلے ہم حکومت کے اقدامات کو روتے تھے مگر اب تو حکومت کے سر اور پیر ہی نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ جاگیرداروں،صنعتکاروں اور امیروں کا ہے،مسلم لیگ(ن) کی حکومت عوام کا بھاری مینڈیٹ رکھنے کے باوجود عام عوام کو ایک اچھا بجٹ دینے میں ناکام ہوگئی ہے،انہوں نے کہا کہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کی بجائے انکی مشکلات میں اضافہ کیا گیا ہے،بجٹ سے بے روزگاری،غربت میں اضافہ ہوگا،حکومت نے بجٹ میں ٹیکسوں میں اضافہ کیا ہے مگر یہ اضافہ امیروں پر نہیں کیا گیا،انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کرپشن بری طرح معیشت کو متاثر کر رہی ہے،موجودہ حکومت نے کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے اور کرپٹ عناصر کے خلاف کارروائی کرنی ہے،ایف بی آر میں100ارب سے زیادہ رقم کرپشن کی نذر ہوجاتی ہے،حکومت ماضی میں معاف کئے گئے قرضے واپس لے،ملک میں افراط زر کم کرنے کیلئے اقدامات کرنے چاہئیں،انہوں نے کہا کہ یہاں امن وامان کی صورتحال انتہائی خراب ہے،حکومت دہشتگردوں کے حوالے سے نرم رویہ رکھتی ہے،پہلے بھی مذاکرات ہوئے ہیں لیکن دہشتگردوں نے مہلت کا فائدہ اٹھا کر خود کو مضبوط بنایا،دہشتگرد اسلام کو بدنام کر رہے ہیں،مسلم لیگ فنکشنل کے سینیٹر سید مظفر حسین شاہ نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ بھارت کو تجارت کے حوالے سے پسندیدہ ترین ملک قرار دینے سے جب بھارتی اشیاء پاکستانی مارکیٹ میں آئیں گی تو ملک کے کسان تباہ ہوجائیں گے،انہوں نے کہا کہ سینیٹ کا بجٹ کے اندر کوئی کردار نہیں نہ بجٹ بنانے اور نہ بجٹ بنانے پر نظر رکھنے پر ہے اور نہ ہی پی اے سی میں اس کی نمائندگی ہے،کیا یہ حقیقی پارلیمانی نظام ہے،ایسا لگتا ہے 104لوگوں کو سیمینار میں بجٹ پر بولنے کیلئے بلایا گیا ہے،جے یو آئی(ف) کے سینیٹر حافظ حمد اللہ نے کہا کہ سرمایہ دار اور اشتراکی نظام میں سود کو ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت حاصل ہے،اسلامی جمہوریہ کے آئین میں کہا گیا ہے کہ کوئی قانون سازی اسلام کے خلاف نہیں ہوگی تو بجٹ میں سود کو بنیادی حیثیت حاصل ہے،73ء کے آئین کے مطابق سود درست نہیں ہے،اسے منافی رکھا گیا مگر یہاں پر1154ارب روپے سود کی مد میں ادا کئے جائیں گے،اسکا مطلب ہے کہ اس بجٹ کی بنیاد سود پر ہے،یہ بجٹ آئین کے خلاف ہے ،انہوں نے کہا کہ سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کیلئے جی ایس ٹی میں اضافہ واپس لے کر فوج کے بجٹ سے کٹ لگا کر رقم دی جائے،بجٹ میں حاجیوں پر لگایا جانے والا ٹیکس دوست نہیں ہے،اس کو واپس لیا جائے،یہاں منتخب وزیراعظم جیل میں جاتے ہیں لیکن اقتدار میں مداخلت کرنے والے چک شہزاد جاتے ہیں،انہوں نے کہا کہ بلوچستان کو دی جانے والی سبسڈی پر کٹ نہ لگایا جائے،پیپلزپارٹی کے رکن کاظم خان نے کہا کہ یہ کاروباری بجٹ ہے،آئی ایم ایف کی ہدایت پر بنایا گیا ہے،ابھی جی ایس ٹی نافذ نہیں ہوا اور قیمتیں آسمان کو پہنچ گئی ہیں،مرغی کی قیمت میں دگنا اضافہ کیا گیا،فاٹا سے سینیٹر انجینئر رشید نے کہا کہ اس ملک میں امیر امیر تر جبکہ غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے،ٹیکس چوروں کی پشت پناہی کرنے والے ان ایوانوں میں موجود ہیں تو کیسے ٹیکس چوری روکی جاسکتی ہے،انہوں نے کہا کہ بجٹ میں فاٹا کی عوام کے لئے کچھ نہیں رکھاگیا،فاٹا کو کبھی تسلیم نہیں کیا گیا،ہمیشہ4 صوبوں کی باتیں کی جاتی ہیں،فاٹا کا کہیں ذکر نہیں ہوتا،انہوں نے کہا کہ اگر این ایف سی شےئر بنتا ہے،این ایف سی ایوارڈ میں فاٹا کو بھی شےئر دیا جائے جو45سے50ارب روپے بنتا ہے،انہوں نے کہا کہ فاٹا سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے بچوں کو تعلیم دینا ہوگی،اگر فاٹا کے بچوں کو تعلیم سے دور رکھا گیا تو یہ ملک کیلئے نقصان دہ ہوگا، انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس وسائل ہیں مگر نظام نہیں ہے، عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاجی عدیل نے کہا کہ اے این پی نے گزشتہ 5سالوں میں1000جانوں کی قربانی دی ہے،پاکستان کے اہم اداروں پر حملے ہوتے ہیں اور حملے کرنے والے پاکستانی ہوتے ہیں،انہوں نے کہا کہ سابق گورنر اور وزیراعظم کے بیٹے اغواء کرلئے گئے ہیں،تو کون اس ملک میں محفوظ ہے،اس لئے حکومت دہشتگردی پر توجہ دے،انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ گیس نکلتی ہے جو ملتان بھیج دی جاتی ہے،حکومت ہر صوبے کا حق اسے دے،انہوں نے کہا کہ ہم نے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے چشمہ رائیٹ کینال نہیں بنایا ہے،پانی نہ ہونے کی وجہ سے ہم گندم نہیں اگا سکتے،خیبرپختونخوا میں ڈیموں پر آنے والے اخراجات کیلئے 8فیصد رقم مختص کی گئی ہے جو ناکافی ہے،کیا حکومت کی اس پالیسی کی وجہ سے توانائی کا بحران ختم ہو جائے گا،انہوں نے کہا کہ صوبائی گرڈ بننے چاہئیں مگر وزیرخزانہ کی تقریر میں ایسی کوئی تجویز نظر نہیں آئی،حکومتی رکن سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ یہ بجٹ جمہوری حکومت کی جانب سے پیش کرنا خوش آئند ہے کیونکہ پہلی جمہوری حکومت ہے جسے جمہوری طریقے سے اقتدار منتقل ہوا ہے،انہوں نے کہا کہ صوابدیدی فنڈز کا خاتمہ اور سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کا عزم خوش آئند ہے،جبکہ ترقیاتی بجٹ میں اضافے سے ملکی معیشت مضبوط ہوگی،انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریلوے کے لئے تو رقم رکھی ہے مگر پی آئی اے اور سٹیل مل پر بھی توجہ دی جائے،غریبوں کیلئے آشیانہ ہاؤسنگ سکیم اور انکم سپورٹ پروگرام رکھے گئے ہیں،انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت بہتر بنانے کیلئے سخت اقدامات کئے جائیں۔

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button