بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

سشیل کمار سنڈے اور جنوبی ایشیاء کا امن

bashir ahmad mir logoکہتے ہیں کہ سچ سچ ہوتا ہے ایک روز سامنے آہی جاتا ہے ،گذشتہ روز بھارتی وزیر داخلہ سشیل کمار سنڈے نے حکمران جماعت کانگریس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس کے کیمپوں میں دہشتگردی کی تربیت دی جارہی ہے ،انہوں نے کہا کہ مکہ مسجد ،سمجھوتہ ایکسپریس ،مالے گاؤں بم دھماکوں میں ہندو انتہاء پسند ملوث ہیں ان کا کہنا ہے کہ تفتیش سے علم ہوا ہے کہ آر ایس ایس سے تعلق رکھنے والے سادھوی پرگھیہ ٹھاکر اور اسیم آنند جیسے شدت پسند ملوث پائے گے جو جیل میں قید ہیں،ان کے اس انکشاف سے بھارتیہ جنتا پارٹی نے انہیں دھمکی آمیز انداز سے تردید کرنے کو کہا جس پر مسٹر شنڈے نے کہا کہ جو انہوں نے بیان دیا ہے وہ اس کی تردید نہیں کرینگے ۔مذکورہ اجلاس میں پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات قائم رکھنے کا اعادہ کیا گیا ۔بھارتی وزیر داخلہ نے بلاشبہ ذمینی حقائق کے مطابق درست اور جرات مندانہ بیان دیا ہے جسے امن ،اعتماد سازی اور ترقی کی کوششوں میں اہم حیثیت قرار دیا جا سکتا ہے ۔
یہ حقیقت ہے کہ ماضی میں بھارت کا مجموعی طرز فکر ہمیشہ منفی رہا ،بھارتی حکمرانوں کی سطحی سوچ اور ہٹ دھرم پالیسی کی وجہ سے اب بھی جنوبی ایشیاء کی صورت حال تسلی بخش نہیں ،ایک طرف دونوں ممالک کی معاشی حالات کمزور ہیں اور دوسری جانب طاقت کا استعمال انتہائی تباہ کن نتائج کا اشارہ دے رہا ہے ۔سچی بات تو یہ ہے کہ اس وقت دونوں ممالک (پاکستان ،بھارت) میں غربت ،مہنگائی ،بے روزگاری اور افراط زر کی گرتی ہوئی صورت حال باعث تشویش ہے ۔یہی نہیں بلکہ مستقبل بین تو یہ بھی کہتے ہیں کہ معاشی صورت حال بگڑنے سے جغرافیائی تبدیلی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں ۔ایسے نازک حالات کا تجزیہ کیا جائے تو دونوں ممالک کو ہوشمندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے ،ایک دوسرے کو نیچا کرنے کی پالیسی کسی طور مفید نہیں ،دنیا بدل رہی ہے،کل کے دشمن آج کے دوست بن رہے ہیں ،دیوار برلن کا ٹوٹنا ،یورپی ممالک کا اتحاد ’’جی ایٹ ‘‘ الگ کرنسی ’’یورو‘‘ کے علاوہ ان تمام ممالک نے باہمی تجارت ،آمد و رفت اور معاشی ماحاصل کے لئے کئی معاہدات کے تحت مسائل و مشکلات کا مقابلہ شروع کر رکھا ہے ۔
اس تناظر میں پاکستان اور بھارت کے مابین اعتماد سازی کے عمل کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے جس کے لئے ذمینی حقائق پر دونوں ممالک چل کر پیش آمدہ حالات کا مقابلہ کر سکتے ہیں ۔بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو نے اپنے کئی بیانات اور خطابات میں کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت بارے واضح طور پر کہا تھا کہ ’’کشمیر کا فیصلہ کشمیری عوام کریں گے وہی بھارت کو قابل قبول ہو گا‘‘ مگر بعد میں بھارتی حکمرانوں نے نہ اپنے وزیراعظم کے وعدوں کا خیال کیا اور نہ ہی اقوام متحدہ کی ان قراردادوں پر عمل کیا جو کشمیریوں کے ’’استصواب رائے‘‘ بارے ریکارڈ پر ہیں ۔اس حقیقت کو تسلیم نہ کرنے کی سزا کے طور پر پاکستان اور بھارت کے مابین ہمیشہ تناؤ رہنا کسی خطرے سے کم نہیں ،ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں اب بھارت کے چند ذمہ دار یہ محسوس کر رہے ہیں کہ دہشتگردی کا گراس روٹ انتہاء پسند عناصر سے ہے اس میں یقینی طور پر پاکستان کو سزا وار ٹہرانا کسی بھی لحاظ سے مناسب ،درست اور حقیقت پسندی نہیں ،دنیا میں جہاں کہیں انتہا ء پسند ہوں انہیں کسی ملک کے ساتھ وابستہ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ دہشگردوں کا کوئی ملک ،مذہب یا علاقہ نہیں ہوتا بلکہ یہ انسانیت کے دشمن کسی انسانی مخلوق سے نہیں ہیں ۔اگر بھارت یہ طے کر لے کہ واقعی دہشتگرد وں کا مقابلہ کرنا ہے تو اسے دہشتگردی کے وہ تمام اسباب کا بھی احاطہ کرنا ہو گا جو دونوں ممالک کو درپیش ہیں ۔سب سے پہلے متذکرہ بالا مسئلہ کشمیر بارے کوئی حل کرنا از بس ضروری ہے ،جب تک باہمی تنازعات کا خاتمہ نہیں کیا جاتا اس وقت تک اعتماد سازی اور امن کوششیں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکتیں لہذا بھارت کو کھل کر کہنا چاہئے کہ وہ کشمیریوں کو ان کی خواہشات کے مطابق رائے کا اظہار دینے کے لئے تیار ہے ،کشمیری جو فیصلہ کریں گے اسے پاکستان اور بھارت کو ماننا پڑے گا ،دونوں ممالک کو کسی تیسری قوم کی آواز دبانے کی بجائے ان کی رائے کو مدنظر رکھنا ضروری ہے اوربلا وجہ کسی تیسری قوم کی جنگ میں اپنے آپ کو جھونکنا بھی عقلمندی نہیں ،پاکستان کئی بار کہہ چکا ہے کہ وہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لئے ہمیشہ آواز بلند رکھے گا اب بھارت پر لازم ہے کہ وہ اس پیچیدہ بنایا گیا مسئلہ کے حل میں آگے بڑھے ،یہ حقیقت بھارت کو ماننا چاہئے کہ اس وقت تک چھ لاکھ سے زائد کشمیری اپنی آذادی کے لئے جانیں قربان کر چکے ہیں ایسی صورت حال میں ان کی رائے کو دبانا کسی خطرناک طوفان کو دعوت دینے کے مترادف ہو گا ۔بھارت اگر کسی غلط فہمی میں اس مسئلے کے حل میں تاخیر کرئے گا تو اس سے بھی اسے آگاہ رہنا چاہئے کہ دہشتگرد کشمیریوں کو خام مال بنا کر پورے جنوبی ایشیاء کے امن کو تباہ کر سکتے ہیں جیسے حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے حالیہ پاکستان کے دورے کے بعد سرینگر میں کہا کہ اگر مسئلہ کشمیر کا حل 2014سے پہلے نہ کیا گیا تو طالبان کشمیر پر حملہ آور ہوسکتے ہیں یہ خطرناک آلارم ہے جو بھارت اور پاکستان کی سلامتی کو چیلنج کر رہا ہے لہذا لازم ہے کہ دونوں ممالک پوری یکسوئی اور اعتماد سے باہمی تنازعات کو حل کرنے میں پوری توجہ دیں ایسا نہ ہو کہ معمولی سی لغزش سارے نظام کار کو بھسم کر دے،بھارت نے ہمیشہ ہٹ دھرمی کو اپنی عادت بنا رکھا ہے ،گذشتہ تین برسوں کے دوران بھارتی فوج نے جہاں کشمیریوں کو زیر نگیں رکھنے کی کوشش کی وہیں لائن آف کنٹرول کی 255بار خلاف ورزیاں بھی کی گئیں ہیں مگر اس کے باوجود پاکستان نے امن کاوشیں جاری رکھنے پر زور دیا ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت بقائے امن کے لئے ٹھوس اقدامات پر اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائے یہ عین حقیقت ہے کہ جب تک بھارت مثبت ردعمل کا اظہار نہیں کرتا اس وقت تک امن کی کوششیں باور ثابت نہیں ہو سکیں گی۔امید کی جاتی ہے کہ سشیل کمار سنڈے کی طرح بھارتی حکام ذمینی حقائق پر حالات کا جائیزہ لیکر مسائل کے حل میں عملی کوششیں کریں محض الزامات اوربے بنیاد پروپیگنڈے سے اجتناب برتا جائے ،یہ بات بھی جان لینی چاہئے کہ پاکستان اور بھارت کے عوام جنگ نہیں چاہتے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ دونوں ایٹمی طاقتیں جب آمنے سامنے آئیں گی تو تباہی کے سوائے کچھ حاصل نہیں ہو پائے گا لہذا عوام پر رحم کھایا جائے اور امن کوششوں کو تیز تر کیا جائے اسی میں دونوں ممالک کی بقاء ،ترقی اور خوشحالی مضمر ہے۔note

یہ بھی پڑھیں  سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ،فوجی عدالتیں قانونی قرار

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker