تازہ ترینکالممحمد عمران فاروق

سیاسی عمل کا معاشرہ کی تعمیر میں کردار

imran farooqوطن عزیز کو معرضِ وجود میں آئے ستاسٹھ سال ہوگئے ہیں ۔ اس دوران مملکتِ خداداد پر زیادہ عرصہ فوجی آمریت مسلط رہی ۔ جنرل ایوب خاں سے لیے کر جنرل پرویز مشرف تک فوجی حکمرانوں کی آمد کی وجہ ہمارے سیاستدانوں کی ریشہ دوانیاں تھیں ۔ ہمارے ملک کی سیاسی اشرافیہ بد عنوانی ، اقرباء پروری ، دھونس ، دھاندلی اور اپنے مفادات کے حصول کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے میں یدِ طولیٰ رکھتی ہے ۔ جبکہ دوسری طرف مسلط ہونے والی فوجی آمریت کے کل پرزوں نے بھی اسی بہتی گنگا سے خوب فائدہ اُٹھا یا ہے ۔انہی وجوہات کی بناء پر آج ہمارا معاشرہ غریب اور امیر کے گہرے تضاد کا شکار ہو چکا ہے ۔ سونے پر سہاگہ کے مترادف علاقائی اور جیو پولٹیکل حالات نے پاکستانی معاشرہ کو صوبائی عصبیت ، مذہبی فرقہ بندی ، لسانی اور علاقائی گروہ بندیوں میں جکڑ دیا ہے ۔ صوبائی عصبیت کے عفرئیت نے سب سے زیادہ نقصان پُہنچایا ہے ۔ چھوٹے صوبوں کو سب سے زیادہ شکائیت پنجاب سے ہے ۔ ان صوبوں کی لیڈر شپ کے نزدیک پنجاب کا صوبہ اُنکے وسائل سے لطف اندوز ہو رہا ہے ۔ پاکستانی معاشرہ میں اس قسم کی توڑ پھوڑ کی بنیادی وجہ سیاسی عمل کے تسلسل کا نہ ہونا ہے ۔ سیاسی عمل کے ذریعے مختلف سیاسی پارٹیاں ملک کی آکائیوں کو ایک لڑی میں پرونے کا عمل سرانجام دیتی ہیں ۔
پچھلی تین دہائیوں سے پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ نے علاقائی ، گروہی اور مذہبی سوچ رکھنے والی جماعتوں کی بیخ کنی کی ہے ۔ اور ان دونوں جماعتوں کی نمائندگی چاروں صوبوں میں پائی جاتی تھی ۔ لیکن حالات کی ستم ظریفی نے انہیں اپنے اپنے ماخذ صوبوں تک محدود کر دیا ہے ۔ پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں اسلام آباد کی بیورو کریسی کے 80% کا تعلق صوبہ سندھ یا زیریں پنجاب سے تھا ۔اور مسلم لیگ (ن) کے موجودہ دور میں بیورو کریسی کے 90% کا تعلق لاہور یا صوبہ پنجاب کے بالائی حصہ سے ہے ۔ جو کہ ایک نقصان دہ روش ہے۔حالیہ دورِ سیاست میں ایک اور سیاسی پارٹی پاکستان تحریکِ انصاف کی صورت میں ملک گیر پارٹی کے روپ میں اُبھر کر سامنے آئی ہے ۔ لیکن خدشہ ہے اس پارٹی کا اثر و رسوخ بھی خیبر پختونخواہ تک ہی محدود نہ ہوجائے ۔ 
راقم کے نزدیک پاکستان پیپلز پارٹی ، پاکستان مسلم لیگ (ن)، اور (ق) ، پاکستان تحریکِ انصاف و دیگر سیاسی پارٹیوں کو اپنی صوبائی قیادتوں کو اس مقصد کے لیے خصوصی ٹاسک دینا چاہیئے ۔ اور قیادت کو بھی اپنی مشاورتی کمیٹیوں میں چاروں صوبوں کے نمائندے شامل کرنے چاہیئیں ۔ حالیہ سیاسی چپقلش کے دوران یہ حقیقت آشکار ہوئی ہے کہ مسلم لیگ (ن) حالانکہ کنفیڈریشن کی حامی اور ملک گیر پارٹی ہے لیکن اسکی کور (Core) کمیٹی میں زیادہ تر نمائندگی پنجاب کے مخصوص اضلاع لاہور، فیصل آباد اور سیالکوٹ کو ہی حاصل ہے ۔ اور اس ساری صورتحال میں دیگر صوبوں میں پارٹی مکمل طور پر غیر فعال نظر آتی ہے ۔ اگر ہماری ملکی سیاسی پارٹیاں پورے ملک کے سیاسی کارکنان کو سیاسی عمل میں شامل کر یں گیں تو ملک میں یکجہتی اور صوبوں کے درمیان باہمی تعاوّن کی سازگار فضاء پیدا ہو گی۔

note

یہ بھی پڑھیں  کورونا وائرس:گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 445 نئے کیسز اور 6 اموات رپورٹ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker