تازہ ترینکالممقصود انجم کمبوہ

سیاسی ورکروں کی تربیت کے اداروں کا قیام

جمہوریت میں سیاسی عمل صاف اور شفاف ہونا چاہیے جہاں ہر بات واضح دکھائی دے۔ہمیں لوگوں کو سیاسی مقاصد سے باخبر رکھنے کے لیے بھر پور کوششیں کرنی چاہیں۔ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ سیاسی عمل کو جو روز بروز پیچیدہ ہوتا جا رہا ہے آسان بنایا جائے۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو یہ خطرہ ہو گا کہ بہت سے لوگ یقیناً ان دو میں سے کوئی ایک راہ اختیار کر لیں گے۔
سیاسی عمل سے لا تعلق ہو کر اپنا حق رائے دہی یا ووٹ نہ استعمال کرنے والوں کی صف میں شامل ہو جائیں گے یا پھر انتہا پسندوں یا جذبات سے کھیلنے والے خطیبوں کی سحر بیانی کا شکار ہو جائیں گے جو اپنے مقاصد کے لیے آسان حل کے مطالبے کرتے رہتے ہیں۔
ہمیں ان دونوں میں سے کسی کی بھی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔اس لیے یہ بات انتہائی ضروری ہے کہ سیاست کے پیچیدہ اسرار و رموز کو ایسی عام فہم زبان میں بیان کیا جائے جسے تمام لوگ پوری طرح بآسانی سمجھ سکیں۔ظاہر ہے کہ ہر ایک ہر بات نہیں سمجھ سکتا مگر جہاں تک ممکن ہو اس بات کا اہتمام کیا جانا چاہیے کہ کم از کم اہم اور عام مسائل و مشکلات کا عام لوگوں کو علم ہو جائے اور یہ کام صرف اس صورت میں ممکن ہے جب سیاستدانوں کو عوام کا بھر پور تعاون حاصل ہو۔
جمہوریت میں قیادت اور قائدانہ صلاحیت کی حامل شخصیات کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔تاہم تشکر اور سپاس گزاری ،جمہوریت کی کوئی غیر معمولی خصوصیت نہیں ہے۔یہ کوئی کلیہ نہیں ہے کہ کسی کو ماضی میں اس کی خدمات کے صلے میں لازماً منتخب کیا جائے ۔بلکہ دیکھا یہ جانا چاہیے کہ کوئی فرد مستقبل میں مسائل حل کرنے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔چرچل سے گوربا چوف تک اس حقیقت کی مثالیں موجود ہیں۔ملک عزیز میں جمہوریت کی آمد تو ہو چکی ہے مگر ملکی سلامتی خطرات سے بری طرح دوچار ہے۔دہشت گردانہ سرگرمیوں سے جہاں خون ریزی کا سلسلہ دراز ہوا وہاں ملکی معیشت بھی بری طرح تباہ و برباد ہو رہی ہے۔اربوں روپے دہشت گردی سے نمٹنے میں خرچ ہو رہے ہیں اور خود کش حملوں سے ہونے والے نقصانات کی مالیت بھی اربوں کھربوں ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔اس قسم کی مخدوش صورتحال میں سیاسی کارکنوں کو اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے جو وہ شاید اس لیے ادا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں کہ ان کے لیڈروں کا برتائو،رویہ اور سلوک اچھا نہیں ہے۔میرے مشاہدے میں آیا ہے کہ متعدد ارکان اسمبلی ایسے ٹائوٹوں اور ٹھیکیداروں کو اپنی گود میں اُٹھائے پھرتے ہیں جن کے تعاون سے انہیںنذرانے اور کمیشن کی بھا ری رقوم ملتی ہیں۔اور لینڈ مافیا سے بھی ان کے یارانے ہیں جو دن رات علا قہ بھر میں خالی سرکاری اراضی اور لاوارث پڑی جائیدادوں کا سراغ لگا کر دیتے ہیں۔پٹواریوں سے منتھلیاں لینا اور بس اڈوں سے بھتہ وصول پانا بھی ان کے فرائض منصبی میں شامل ہوتا ہے۔بعض ارکان اسمبلی کے ٹائوٹوں سے یہ کہتے ہوئے بھی سنا گیاہے کہ وہ انتخابات میں خرچ کیے گئے کروڑوں روپے کیوں نہ پورے کریں۔آخر ہمیں آئندہ الیکشن بھی تو لڑنا ہے۔لہٰذا یہ ہماری مجبوریاں ہیں کہ ہمیں ایسے قبیح کام کرنے پڑ رہے ہیں اور لوگوں کی باتیں سننا پڑ رہی ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے کے لیے پارٹی کو فنڈز کے نام پر بھاری رقوم بھی دینا پڑتی ہے۔اور یہ سب سیاسی نظام کی خرابیاں اور کمزوریاں ہیں جن کے باعث ملک میں کرپشن کا دور دورہ ہے۔اور ہر سیاسی فرد اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے دو نمبر راستے تلاش کرتا ہے۔
سیاسی ورکروں کو جائز ذرائع سے مالی سپورٹ دینے کی بجائے غلط ملط راستوں پر لگا دیا گیا ہے۔۔بلدیہ میں ،سویپر ،ماچھکی اور مالی وغیرہ کی پوسٹوں پر ایڈجسٹ کر کے نہ صرف ان کی انا کو ٹھیس پہنچائی جا رہی ہے بلکہ ادارہ جاتی نظام کو مزید خراب کرنے کی ناکام کوششیں کی جارہی ہیں۔مشاہدے میں آیا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ اور پنجاب کی ایسی ہی بعض اسکیموں میں سیاسی کارکنوں نے گھپلے کیے ہیں یا پھر کمیشن کمانے کے ذرائع تلاش کیے ہیں جس سے جمہوریت کو زک پہنچتی ہے۔بہتر یہ ہو گا کہ ان سیاسی ورکروں کو خود روزگار کی اسکیموں کے تحت قرضہ جات یا ناواپسی مالیاتی ایڈ دے کر انہیں اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے لیے سہارے فراہم کیے جائیں۔مزید یہ کہ سیاسی ورکروں کی عملی تربیت کے لیے تربیتی اداروں کا قیام بھی عمل میں لایا جائے اور یہ فرض محکمہ محنت اور سماجی بہبود کے ادارے ادا کر سکتے ہیں کیونکہ ان کے ہاں ایسے انسٹی ٹیوشنز قائم ہیںجہاں سماجی اور مزدوروں کی تنظیموں کے عہدیداروں کے لیے تربیتی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔سب سے بہتر یہ کام الیکٹرانک میڈیا سر انجام دے سکتا ہے۔میڈیا کو چاہیے کہ وہ یہ غیر ضروری بحث و مباحثہ کی محفلیں سجانے کی بجائے سنجیدہ رویے اپنائے۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہر ٹی وی چینل مذاکراتی اور تجزیاتی تجزیے اور مباحثے پیش کر کے وقت ضائع کر رہا ہے۔ایسی بحث جس کا ملک و قوم کو فائدہ ہو نہ میڈیا کو جاری و ساری رکھنا وقت اور دولت کاضیاع ہے۔

یہ بھی پڑھیں  دیپالپور: نادرا دفتر کی توسیع نہ ہونے سے سائلین مشکلات سے دوچار

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker