پاکستان

18سال سے کم عمرلڑکیوں کی شادی پرپابندی عائد کرنے میں جمہوری حکومت بھرپورکردارادا کرے گی

کراچی:﴿نمائندہ﴾ملک بھر اور دیہی علاقوں میں 18سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی پر پابندی عائد کرنے میں موجودہ جمہوری حکومت بھرپور کردار ادا کرے گی،عوام کو بھی چاہئے کہ وہ اپنی بچوں کی شادی وقت پر کریں جبکہ بچوں کی پیدائش میں بھی وقفہ کریں تاکہ ان کی تعلیم ،تربیت ،صحت اور مالی مسائل میں کمی لائی جاسکے،ملک میں آبادی کے بڑھنے کی وجہ سے مختلف مسائل جنم لے رہے ہیں جس کو روکنے کے لئے پوری قوم کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔یہ بات ممبر صوبائی اسمبلی حمیراعلوانی نے بدھ کے روز رہنما فیملی پلاننگ ایسوسی ایشن آف پاکستان کی جانب سے ’’چائلڈ میرج میڈیا‘‘ورکشاپ سے مہمان خصوصی خطاب اور بعد ازاں پی پی آئی سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہی۔انہوںنے کہا کہ 18ویں ترمیم کے بعد اب محکمہ پاپولیشن بہتر کردار ادا کرسکے گا۔انہوںنے کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی آباد ی غربت،تعلیم کا فقدان سمیت دیگر مسائل پیدا کررہی ہے جس کو روکنے کے لئے اقدامات کرنا ضروری ہے۔چیف ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کمال شاہ نے کہا کہ یہ این جی او تولیدی صحت ،خاندانی فلاح و بہبود،خاندانی منصوبہ بندی اور دیگر صحت کی سہولیات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ان کو دیگر حقوق بھی دلوانے کے لئے بھرپور کرادا ر ادا کررہی ہے۔ان کا کہناتھاکہ ہمارے ملک میں کم عمری کی شادی بطور رسم بھی چلی آرہی ہے خصوصا غریب گھرانوں کی لڑکیوں کی شادی چھوٹی عمر میں کردی جاتی ہے جس کی وجہ سے شادی کے بعد مختلف قسم کی پیچیدگیوں کا سامنا کرناپڑتاہے۔رہنماکی ڈائریکٹر ز آمنہ قریشی اور نبیلہ زار مالک نے کہا کہ لڑکی کی عمر کم از کم 16سال اور لڑکے کی عمر کم از کم 18سال سال مقرر ہے لیکن اس سے کم عمر میں شادی کرنا سراسر ظلم ہے۔ماری اسٹوپس سوسائٹی کے نمائندے عدیل نعیم اور سبینہ انصاری نے کہا کہ جب تک میڈیا کے ذریعے تمام افراد کو فیملی پلاننگ کے فوائداور بچپن کی شادیوں کے نقصانات سے آگاہ نہیں کریں گے اس طرح کے مسائل جنم لیتے رہیں گی۔

یہ بھی پڑھیں  مستحقین کو امدادی رقوم کی ادائیگی، ملک بھر میں 17 ہزار پوائنٹس بنا دیے گئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker