تازہ ترینکالم

شادی کا قیمتی بندھن مشکل میں کیوں؟

afzal ahmadشادی دنیا کا سب سے خوبصورت اور انمول بندھن آج رسم و رواج ، بے جا اسراف و اخراجات کی وجہ سے اُلجھ کر رہ گیا ہے ۔ منگنی، مہندی، مایوں، رخصتی، ولیمے پر شان و شوکت کا اظہار اسٹیٹس سمبل بن کر رہ گیا ہے۔ شادی خانہ آبادی شاہراہ حیات کا اہم سنگ میل ہے جس میں عورت مرد ایک نئے خاندان کی بنیاد رکھتے ہیں۔ اسی اعتبار سے شادی ہماری معاشرتی زندگی کی اہم ترین تقریب ہوتی ہے بلکہ دنیا کے تمام معاشروں میں اس بندھن کو اہم ترین حیثیت حاصل ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک میں یہ تقریب سادگی سے انجام پاتی ہے محدود لوگ اس میں شرکت کرتے ہیں۔
ہمارے ہاں نمودو نمائش، بے جا اسراف مصنوعی شان و شوکت، ایک دوسرے پر برتری، مقابلہ بازی، ذاتی انا کی تسکین کا ایک ذریعہ بن گئی ہے جس نے شادی کے اس شاندار اور بے بہا بندھن کو اخراجات اور مال و زر کے بے جا خرچ اور ضیاع سے بہت مہنگا بنا دیا ہے۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت شادی پر بے جا اسراف کے خلاف ہے۔ محفلوں میں اس کی مذمت بھی کی جاتی ہے۔ اس کے باوجود یہ کڑوا گھونٹ لوگ ہنسی خوشی پی جاتے ہیں کانٹوں کا یہ وہ ہارہے جس کی چبھن ہر شخص محسوس کرتا ہے لیکن پھر بھی خوشی سے گلے کی زینت بناتا ہے۔
منگنی (مانگنے سے ہے) سادگی سے نکاح کی بات پکی کر لی جائے اور اللہ تعالیٰ سے اس رشتے کی برکت کیلئے دعا مانگی جائے منگنی کے بعد شادی میں بلا ضرورت تاخیر نہیں کرنی چاہئے منگنی سے شادی تک کے درمیان میں آنے والی عید، بکر عید اور آج کے امپورٹڈ درآمد شدہ رواج کے مطابق یعنی Exchange پر بے شمار پیسہ اڑا دیا جاتا ہے یہ سب غیر شرعی ہے اور گناہ ہے دونوں طرف کے لوگوں پر بوجھ رہتا ہے بعض اوقات تحفوں کی ناپسندیدگی کی وجہ سے ناچاقیاں بھی واقع ہو جاتی ہیں جن کی بنا پر منگنی اور نکاح بھی ٹوٹ جاتے ہیں۔ منگنی اور نکاح کے بعد جب تک رخصتی نہ ہو جائے ایک مناسب دوری رکھی جائے کہ یہی لڑکے اور لڑکے کے حق میں بہتر ہے۔آج سے کچھ عرصہ پہلے تک صرف دعائے خیر کی جاتی تھی اور وہ بھی محدود لوگوں میں اب اس کو شادی سے بھی بڑا فنکشن بنا دیا گیا ہے سونے اور ہیروں کی انگوٹھیاں مغرب کی نقل پر ایک دوسرے کو پہنائی جاتی ہیں جن کی قیمت ہیروں کی وجہ سے لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے سادگی کی جگہ نمائش پسندی نے لے لی ہے۔
جب تک رخصتی نہ ہو جائے کسی صورت میں منگیتر کے ساتھ اکیلے میں باہر گھومنا جائز نہیں چاہے نکاح بھی ہو گیا ہو۔ نکاح کے بعد رخصتی میں تاخیر کرنا بھی درست نہیں۔ اکثر نادان لڑکیاں کہتی ہیں کہ اکیلے میں منگیتر کے ساتھ گھومنے سے وہ مجھے کھا تو نہیں جائے گا بلکہ اس طرح تو ہمیں ایک دوسرے کی عادات کا پتہ چلے گا اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا یہ غیر شرعی عمل ہے اس لئے دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ اکثر منگنی اور نکاح اس لئے ٹوٹے کہ ایک دوسرے کی عادات پسند نہیں آئیں اور نکاح کا فائدہ یوں اٹھایا کہ حاملہ کرکے چھوڑ دیا وقت سے پہلے کلی نوچ لی جائے تو پھر وہ مہکتا پھول بن کر دوبارہ نہیں کھل سکتی۔رخصتی تک ایک فاصلہ رکھنا بہت ضروری ہے تا کہ ایک دوسرے کی کشش قائم رہے۔
دراصل شادی کے تمام اخراجات کا ذمہ دار خاوند ہوتا ہے موجودہ دور میں والدین جہیز بھی دیں اور لمبی چوڑی بارات کو پر تکلف کھانا بھی دیں اور مہندی کی رسم بھی ادا کریں جو بالکل ہی غیر شرعی ہے۔ ظاہر ہے اتنا بوجھ اٹھانے کیلئے والدین ناجائز طریقوں سے مال اکٹھا کر سکتے ہیں یا قرضہ ان کی کمر توڑ دے گا دینی اور معاشرتی نقصان ہو گا۔
جہیز کوئی شرعی حکم نہیں یہ رسم وباء کی صورت اختیار کر چکی ہے پاکستان بننے سے پہلے بہت کم تھی جہیز اصل میں ہندوؤں کی رسم ہے جسے وہ ’’دان‘‘ کا نام دیتے ہیں ۔ اس لئے کہ ان کی وراثت میں بیٹی کا کوئی حصہ نہیں ، چاہے باپ کتنا ہی مالدار کیوں نہ ہو جبکہ اسلام میں عورت کو باپ شوہر اور بیٹے کی جائیداد سے ورثہ ملتا ہے۔ مسلمان یہ ہندو طریقہ کیوں اختیار کئے ہوئے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے جہیز دینے کا نہیں ورثہ دینے کا حکم دیا ہے اور جو لوگ اولاد کو ورثہ نہیں دیتے قرآن حکیم نے انہیں جہنم کی وعید سنائی ہے۔اسلام میں جہیز کا کوئی تصور نہیں پیارے نبیؐ نے نہ بیٹیوں کو جہیز دیا اور نہ ہی آپؐ کی بیویاں جہیز لے کر آئیں اور نہ ہی کسی صحابی سے جہیز دینا ثابت ہے یہ لوگوں کی بنائی ہوئی رسم ہے۔ جہیز نہ دینے کا مطلب یہ نہیں کہ جو چیزیں وہ والدین کے گھر استعمال کرتی تھی وہ ساتھ نہیں لے جا سکتی کچھ تحفے تحائف دیئے جا سکتے ہیں۔
منگنی کی عام سی رسم گھر کے بجائے فائیو سٹار ہوٹل میں ہوتی ہے ہر فریق کی کوشش ہوتی ہے پہلی ہی تقریب میں دوسرے پر اپنی دولت مندی کی دھاک جما دے پھر عیدوں اور تہواروں پر لین دین، قیمتی تحائف تبادلے شروع ہو جاتے ہیں نئے بندھن کو مضبوط کرنے کیلئے دونوں فریق بڑھ چڑھ کر دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہیں چاہے قرض ہی لینا پڑے۔ شادی کے تین نقطے ہٹا دیں تو شادی ’’سادی‘‘ ہو جائے گی جس میں اللہ تعالیٰ برکت بھی ڈالیں گے۔ اسلام نے نکاح کو اتنا آسان اس لئے کیا تھا کہ نکاح انسانی فطرت کا ایک ضروری تقاضا ہے یہ جتنی سادگی سے ہو اتنا ہی بابرکت ہے۔ اگر اس کو مشکل بنایا جائے گا تو نتیجہ بے راہ روی کی صورت میں نکلے گا ناجائز راستے جنم لیں گے۔ آج اس فطری اور پاکیزہ بندھن کو غیر شرعی رسم و رواج نے اس قدر مشکل بنا دیا ہے کہ لڑکا اور لڑکی نہ چاہتے ہوئے بھی ایک لمبا عرصہ جدائی کا دکھ سہتے ہیں۔
مسئلہ کیا ہے؟ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مدعو کرنا جس سے بہت خرچ اٹھتا ہے پھر کارڈز پر بے دریغ خرچ۔ دلہن کے کپڑے، سسرالیوں کے کپڑے، شادی کا جوڑا سرفہرست ہوتا ہے۔ ڈھولکیوں کی نئی رسم، پورا جہیز ڈبل بیڈ سے لے کر نئے زمانے کے جھاڑو تک دیا جاتا ہے۔ بچی پیدا ہوئی، ماں پر بوجھ پڑ گیا، لگ گئی تنکا تنکا جمع کرنے میک اَپ ایک نیا فساد ہے مایوں، شادی، ولیمہ، مکلاوہ ہزاروں روپیہ بیوٹی پارلر کی نذر ہو گیا اب تو لڑکے بھی بیوٹی پارلر جاتے ہیں ان کا کہنا ہے دلہن اتنا منہ پر لیپا پوتی کرتی ہے بغیر میک اَپ کئے دولہا بے وقوف لگتا ہے لہٰذا میک اپ مردوں کی بھی مجبوری بن گیا ہے اب تو عام پارٹیوں کیلئے بھی پارلر جانا پڑتا ہے لڑکیاں خود بھی سیکھ رہی ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ وقت میک اپ میں رہا جائے غرضیکہ ایک متوسط اور غریب خاندان بھی شادی کی تقریب پر لاکھوں روپیہ خرچ کر دیتا ہے بلا شبہ پاکستانی شادی دنیا کی مہنگی ترین شادی ہے جس کیلئے 70 فیصد لوگ مجبوراً سود پر ادھار، قرض حسنہ اور پراپرٹی وغیرہ بیچ کر یہ کڑوی گولی نگلتے ہیں پراویڈنٹ فنڈ، انشورنس پالیسی سب خرچ ہو جاتے ہیں۔
سلامیوں کی رسم بد نے باقی خاندان والوں کی راتوں کی نیند اڑا کے رکھ دی ہے مہینے میں چار پانچ شادیاں گھر کے بجٹ کو تہس نہس کرنے کیلئے کافی ہیں۔ میوزک کی نئی رسم نے نہ صرف گھر والوں کیلئے اخراجات کے دروازے کھول دیئے بلکہ پورے خاندان کیلئے سزا بن گئی کہ قیمتی وقت کو وہاں ایک غیر اسلامی رواج کیلئے تباہ کریں، رات کی نیند خراب کریں یہ زبردستی کی انجوائمنٹ کہاں تک کار خیر ہے؟
’’ہنی مون کا رواج‘‘ ملک سے باہر جانا ہے متوسط طبقہ پاکستان میں ہی شمالی علاقہ جات کی سیرو سیاحت کا اہتمام کر لیتا ہے ان تمام بے جا اخراجات سے ہر کوئی ناک اونچی رکھنا چاہتا ہے۔وجوہات کیا ہیں؟ دولت غلط ہاتھوں میں آگئی، کرپشن، ہیراپھیری، بدعنوانیاں، رشوت، سمگلنگ، نمودو نمائش، ریا کاری، جھوٹی شان کا اظہار، اپنے خاندان میں واہ واہ جے جے کار کیلئے بے دریغ پیسہ خرچ کرنا کھانے پر 10-10 ڈشیں سجانا سب ریا کاری ہے۔
مسئلے کا حل کیا ہے؟ اسلامی تعلیمات کو فروغ دیا جائے اگر اللہ نے پیسہ دیا ہے تو ضروری اخراجات کرکے باقی کسی غریب کی شادی پر خرچ کیا جائے یا رفاہ عامہ کے اور کاموں پر خرچ کیا جائے تا کہ کچھ توشہ آخرت بھی بن جائے جہیز اور بارات کی رسمیں قطعی غیر اسلامی ہیں مخلوط محفلیں نہ سجائی جائیں بلکہ عورتوں او رمردوں کا الگ انتظام ہو۔اتنا خرچ ، اتنا نمودو نمائش کیا شادی کی کامیابی کی ضمانت ہے؟ ہم سوچیں، ہم غور کریں، شادی کی کامیابی کی ضمانت تو کچھ اور ہے کبھی ہم نے ادھر خیال کیا؟ سب کچھ یہیں رہ جائے گا۔ خالی ہاتھ جانا ہے ہاں اعمال کی کرنسی ضرور ساتھ جائے گی ہم کراماً کاتبین سے کیا کیا لکھوا رہے ہیں فضول خرچ کو شیاطین کا بھائی کہا گیا ہے۔ ایک مبارک اور اہم ترین بندھن کو ہم نے نمودونمائش کی نظر کر رکھا ہے۔سادگی اپنایئے، سادگی میں حسن ہے، اسی میں عافیت ہے اسی میں اطمینان ہے اور اسی میں دلوں کا سکون پوشیدہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں  ہومیو ڈاکٹرز ایسو سی ایشن بورے والا کا تعزیتی اجلاس

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button
Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker