شہ سرخیاں
بنیادی صفحہ / تازہ ترین / عید دنوں شہید کاشف مغل سے ملاقات

عید دنوں شہید کاشف مغل سے ملاقات

بعض اوقات انسان اپنی زندگی کی رو میں اس قدر الجھاؤ کا شکار ہو تے ہوئے وہ اکثر اوقات وہ فراموش کر بیٹھتا ہے کہ آنے والے چند ہی لمحات بعد کیا ہونے والا ہے یا کیا ہونے جا رہا ہے پریشان تو اس حوالے سے پہلے بھی تھا کہ چند روز بعد عید اور عید کے دنوں میں ہی بھائی کی برسی بھی ہے،26ویں روزے کی صبع کچھ دیر آرام کے لئے لیٹا تو چھوٹا بھائی شہید کاشف مغل خواب میں ملاقات کرنے پہنچ گیابالکل ہشاش بشاش کہتا کہ بھائی جان عید کی بڑی تیاریاں ہو رہی ہیں کیا میں آپ کو یاد نہیں میرے لئے کیا خریدا ہے؟چند اور باتیں بھی ہوئیں جو خواب کی طرح خواب ہو گئیں خواب میں مختصر سی اس ملاقات نے زندگی میں ایک بار پھرایسے ہلچل مچا دی جس طرح ایک پتھر کسی گڑھے کی پر سکون سطع کو درہم برہم کر دیتا ہے سوچ میں بے ترتیبی عود کر آئی،گھبراہٹ کے عالم میں آنکھ کھلی تو ایک کربناک احساس چھا چکا تھاجس کی نقاہت،ناتوانی عروج پر تھی ادھورے اور گم شدہ احساسات کا ایک پورا سلسلہ تصورات میں متحرک ہو گیا،گھر بچوں کو بیگم کو اس ملاقات کا بتایامگر ان کے سامنے آنکھوں کے سیلاب کو کرب ناکی سے روکے رکھاچند گھنٹے بعد ایک طرف بخار کے بپھرے سیلاب اور دوسری جانب تفکرات کی دنیا نے اپنی لپیٹ میں کس لیا،ہر گذرے وقت کے ساتھ مایوسی،نا آسودگی،تلخی اور جھلاہٹ بڑھتی چلی گئی سوچ سوچ کر دماغ کی رگیں تڑپنے لگیں اسے جب بھی سوچا جب بھی وہ ذہن میں داخل ہوا ہر بار ایسی ہی کیفیت سے گذرنا پڑتا رہاکاش ہم سوچنا ہی چھوڑ سکتے،وہ بہت یاد آتا ہے ہر وقت یاد آتا ہے ٹوٹ کر یاد آتا ہے اور جب بھی یاد آتا ہے دنیا جہاں سے بیگانہ اور تنہا کر دیتا ہے ویسے تو ہر سال اس کی برسی پر دعا کا اہتمام کرتے مگر یہ برسی بہت انوکھی تھی بالکل عید کے لمحات میں، 4جون 2008کو اس نے کسی نا معلوم نوجوان کی جان بچانے کی کوشش میں مین جی ٹی روڈاور مین ریلوے لائن پر آباد شہررینالہ خورد کے بالکل ساتھ شمالی طرف گذرتی نہر لوئر باری دوآب میں کئی دوستوں کے منع کرنے کے باوجود چھلانگ لگادی تھی (اس نامعلوم نوجوان نے نہر پر قائم پل سے خود کشی کی غرض سے نہر میں چھلانگ لگائی تھی)،کاشف مغل کو سینکڑوں افراد نے دیکھا اس نے انسانیت کوبچانے کی کوشش میں موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے سینے سے لگالیا، ہمیں اطلاع ملی تو الراقم بڑے بھائی سرور انجم مغل اور دیگر عزیر و اقارب کے ہمراہ رینالہ خورد پہنچا،جانے والا ہم سب کو چھوڑ کر نئی اور اصل دنیا کو سدھار چکا تھا،وہاں صرف پانی کی پر اسرار اور ہمیں دیکھ کر آگے بڑھتی لہروں سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ اسے نگل چکی ہیں ہم سے پیارے بھائی بلکہ بہت ہی پیارے بھائی کو چھین چکی ہیں،ضلعی و مقامی انتظامیہ،پولیس،صحافی برادری اور سینکڑوں دیگر دوستوں نے دکھ کی اس گھڑی میں بہت ساتھ دیادرجنوں دوست احباب نے اس کے جسد خاکی ملنے تک ہمارا ساتھ دیا،5جون کو بھی سارا دن سخت ترین دھوپ اور آگ برساتے سورج تلے بھائی کی تلاش میں مصروف رہے ساری رات بھی سرچ لائٹس کے ذریعے بہت بڑی نہر میں اسے تلاش کرتے رہے تیسرے روزتقریبا 36گھنٹے تک زیر آب رہنے کے بعد6جون کی صبع شہید بھائی کا جسد خاکی بالکل تروتازہ اور ایسے جیسے وہ گہری نیند سو رہا ہے جسم پر معمولی سی بھی خراش تک نہ تھی، اس جگہ سے ملا جہاں سے محض چند میٹر دوراوکاڑہ یونیورسٹی کا مین گیٹ ہے،یہ بھی حسن اتفاق ہے کہ جہاں وہ ملا وہاں اب علم اور تعلیم کا مینارہ روشن ہے،باقی چند روزے گذرے عید بھی گذر گئی مگر مجھے کسی بات کا ہوش نہیں رہاجب سے ہوش سنبھالا ہے یہ پہلی عید ہو گی جس کسی ایک دوست،رشتہ دار کو نہ تو عید مبارک کہی نہ ان کے عید مبارک پیغام پر خیر مبارک کہہ پایا،دوستوں کی محبتیں کہ ان کے طرح طرح کے پیغامات آئے ان کی پریشانی سے ان کی محبت جھلکتی نظر آئی مگر میں بھی کیا کرتا،میرے چہرے پر توتکلیف اور کرب ناکی کی مصوری جاری تھی ایسے حالات کا اندازہ بھی وہی کر سکتا ہے جس پر ایسے قیامت خیز لمحات بیتتے ہیں،اس کی سوچ نے ہر وقت اپنی آغوش میں لئے رکھاطرح طرح کی سوچ اور خیالات ذہن میں ٹپک پڑتے اور رلا دیتے،یہ حقیقت ہے کہ وہ نہ صرف میرا حقیقی بھائی بلکہ ایک عظیم ترین دوست بھی تھا اگر بھائی ہو اور ساتھ دوست بھی توزندگی کے رنگ ڈھنگ ہی نرالے ہو جاتے ہیں مگر کیا خبر تھی کہ زندگی کے رنگ ڈھنگ نرالے کرنے والا ہی بہت جلد دار مفارقت دے جائے گا ایسا علم ہوتا تو شاید اس سے اتنا لگاؤرکھنے سے ہی پرہیز کرتا،اس کی یاد آتی ہے تو چلنا تک محال ہو جاتا ہے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے تلوے زمین کا ساتھ چھوڑ چکے ہیں،یہ سب رب کائنات کا نظام اٹل ہے جسے سہنا پڑتا ہے برداشت کی بھٹی میں جلنا پڑتا ہے،یہ بھی ہم اپنے دکھ کا اظہار کر رہے ہیں اس خالق و مالک سے شکوہ نہیں نہ ہی ہم شکوہ کر سکتے ہیں ہم اس کی وحدانیت پر کامل ایمان رکھتے ہیں،ورنہ جیسے وہ جدا ہوا ہم خود بھی موت کو گلے لگا لیتے کیونکہ جب وہ ہی نہ رہے جو دنیا میں سب سے زیادہ عزیز ہو تو زندہ رہنے کا جواز بھی باقی کیا رہ جاتا ہے مگر ایسا قدرت کے نزدیک انتہائی نا پسندیدہ فعل ہے اس لئے زندہ ہیں مگر جیسے اور کیسے زندہ ہیں یہ ہمیں جانتے ہیں اسے زندگی نہیں کہا جا سکتا ہم نیم مردہ حالت میں جی رہے ہیں،بار بار جڑ رہے ہیں بار بار بکھر رہے ہیں یوں بار بار جڑنا اور بکھرنا بہت تکلیف دہ امر ہے تن ڈھلنے لگتا ہے اور من بجھنے اور بکھرنے لگتا ہے،اس موقع پر والدہ محترمہ،بڑے اور واحد بھائی سرور انجم،بیٹوں مرزا محمد بلال صابر،مرزا شمریز خان،مرزا محمد انعام بیگ بیٹیوں اور بیگم نے خود اسی کرب میں مبتلا ہونے کے باوجود بہت دلاسہ دیئے رکھا،میری کیفیت معلوم نہ ہونے پر دوستوں کی پریشانی بھی حدوں کو چھوٹی رہی، اللہ پاک اس شہید کے درجات بلند فرمائے جس نے ہماری بھی بخشش کا ذریعہ بننا ہے،

یہ بھی پڑھیں  وزیراعظم کے دورے اورسیاست