تازہ ترینطارق حسین بٹکالم

۔،۔ شفافیت ۔،۔

tariqپاکستان میں جتنا مذاق احتساب کے ساتھ ہوا ہے کسی اور قانو ن کے ساتھ نہیں ہوا۔ایک زمانہ تھا کہ احتسابی قانون کا اطلاق صرف اپوزیشن پر ہوا کرتا تھا۔اہلِ اقتدار کے لئے اپنے مخا لفین کو زندانوں میں اسیر کرنا اور ان کے خلاف احتسابی تلوار سے ان کا سرقلم کرنا فرضِ اولین تھا اور اس میں سارے حکمران ایک جیسے تھے ۔احتسابی قوانین کے اطلاق میں جھوٹ اور سچ کا کوئی بھی فرق نہیں ہوا کرتا تھا بلکہ اہم بات یہ تھی کہ مخالفین کو اذیتیں اور تکا لیف کیسے پہنچائی جائیں۔میاں محمد نواز شریف کے دورِ حکومت میں محترمہ بے نظیر بھٹو ،آصف علی زرداری اور پی پی پی کے کئی چوٹی کے راہنما اس یکطرفہ احتساب کی زندہ مثالیں ہیں جبکہ پی پی پی کے دورِ اقتدار میں میاں برادران کا خاندان اور ان کے انتہائی قریبی رفقائے کار حکومتی جبر کا نشانہ بنے۔جنرل پرویز مشرف کے دور میں گنگا الٹی بہنے لگی اور وہی میاں برادران جو اپنے مخالفین کو جیلوں کی آہنی سلاخوں کے پیچھے پہنچانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے اب خود احتساب کی شمشیرِ برہنہ کی زد میں تھے۔جنرل پرویز مشرف کا شب خون شائد انھیں یہی احساس دلانے کے لئے رو بعمل ہوا تھا کہ جھوٹ اور سچ کی باہم آمیزش نہیں ہونی چائیے بلکہ ملزم کو اس کے جرموں کے حساب سے سزا ملنی ضروری ہے ۔ اس میں ذاتی پسند و نا پسند کا عمل دخل نہی ہو نا چائیے۔کسی کو اس لئے سزا نہیں ملنی چائیے کہ وہ صفِ دشمناں میں ہے اور کسی کو اس لئے احتساب سے بالا تر نہیں ہو نا چائیے کہ وہ صفِ دوستاں میں ہے بلکہ احتساب کا عمل سب کے لئے یکساں ہو نا چائیے ۔میاں محمد نواز شریف کے دوسرے دورِ حکومت میں سیف الرحمان نے احتساب کے نام پر جس طرح ذاتی دشمنی کی روش کو پروان چڑھایا وہ سب کے لئے باعثِ حیرانگی تھا۔ان کا بس چلتا تو وہ خود عدالت بن کر اپنے مخالفین کے خلاف فیصلے صادر کر دیتے۔سیف الرحمان کی زندگی کا واحد مقصد آ صف علی زرداری اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو میدانِ سیاست سے بے دخل کرنا تھا اور اس کے لئے اس نے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کیا۔اس سلسلے میں سو ٹزر لینڈ میں مقدمات قائم کئے گئے لیکن پیشتر اس کے کہ یہ مقدمات کسی منطقی انجام کو پہنچتے میاں محمد نواز شریف کی حکومت ختم ہو گئی اور جنرل پرویز مشرف سیا ہ و سفید کے مالک بن گئے۔اب حاکم ملزم قرار پائے اور ملزم جنرل پرویز مشرف کے قریب تصور ہونے لگے جس کا سب سے بڑا ثبوت وہ این آر اوتھا جو اکتوبر ۲۰۰۷ ؁ میں پی پی پی اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان طے پایا تھاجس کی سپریم کورٹ نے توثیق کرنے سے انکار کر دیاتھا۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ جس طرح میاں محمد نواز شریف نے احتسابی قانون کو اپنے مخا لفین کو زچ کرنے کے لئے استعمال کیا تھاا سی طرح جنرل پرویز مشرف نے بھی ا حتسابی قانون سے سیاستدانوں کو ڈرانے دھمکانے کے لئے استعمال کیا اور بہت سے جغادری سیاست دان جو کرپشن اور اختیارات کے ناجا ئز استعمال کی وجہ سے خوف کا شکار تھے وہ احتسابی تلوار سے بچنے کے لئے جنرل پرویز مشرف کی گود میں جا بیٹھے اور اس کے پورے دورِ حکومت میں خوف مزے لیتے رہے۔جنرل پرویز مشرف کاساتھ دینے کا مطلب یہ تھا کہ اب ان کا احتساب نہیں ہو گا بلکہ اب وہ دوسروں کا احتساب کریں گئے۔اب اس طرح کا احتساب جس طرح کے نتائج لا سکتا تھا وہ سب پر عیاں تھا اور شائد یہی وجہ تھی کہ وہ جنرل پرویز مشرف جو احتساب کا نعرہ بلند کرکے اقتدار پر قابض ہوا تھا اس کا احتساب ایک مذاق بن کر رہ گیا ۔،،
متذکرہ بالا صورتِ حال بیان کرنے کا صرف ایک ہی مقصد ہے تا کہ یہ بتا یا جا سکے کہ پاکستان میں احتساب کے ساتھ کتنا بھیانک مذاق ہوتا رہا ہے۔کوئی حکومت بھی احتساب کے لئے خود کو پیش کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتی بلکہ احتسابی قانون صرف اپنے سیاسی مخالفین کو تنگ کرنے کے لئے بنایا جاتا ہے ۔اگر احتساب کے نام پر قومی دولت کو واپس لایا جاتا اور کرپٹ سیاست دانوں کو سزائیں سنائی جاتیں تو عوام خوشی سے پھولے نہ سماتے کیونکہ وہ تو کرپٹ نظامِ حکومت سے سخت متنفر ہو چکے ہیں لیکن کوئی ان کے جذبات کی قدر کرنے والا اور احتساب کو اس کے منطقی انجام تک پہنچانے والا کوئی بھی نہیں ہے۔حکمرانوں کی کرپشن کی وساطت سے پانچوں انگلیاں گھی میں رکھنے اور ذاتی خواہشوں کی تکمیل کی خاطر ملک میں کرپٹ نظام اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ کسی بھی شخص کے لئے کرپشن میں ملو ث ہونے سے بچ جانا ممکن نہیں رہا۔اب تو حالت یہ ہے کہ ملک کا پورا نظام کرپشن کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے اور عوام اس کے پنجوں میں خود کو بے بس محسوس کر رہے ہیں۔حکومت سوائے لوٹ مار کرنے،قر ضے لینے اور قومی دولت سے اپنی تجوریاں بھرنے کے سوا کوئی کام نہیں کر رہی۔کمیشن مافیا اور کمیشن ایجنٹ ہر سو سرگرم ہیں ۔ذاتی کاروبار اور ان کی وسعت ہی حکومت کی اولین ترجیح ہے جس سے عوامی مسائی حل ہونے کی بجائے دن بدن گھمبیر ہو تے جا رہے ہیں۔عوام صحت،تعلیم اور روزگار میں بنیادی تبدیلیوں کے حواہاں جبکہ حکومت اپنے ان پرو جیکٹ کو مکمل کرنے پر بضد ہے جن میں ان کا ذاتی مفاد وابستہ ہے۔ پوری دنیا میں ترقی یافتہ ملکوں میں صحت اور تعلیم کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے لیکن پاکستا ن میں ان دونوں اداروں کو بری طرح سے نظر انداز کیا جا تا ہے کیونکہ یہ دونوں ادارے حکمرانوں کی دولت کی بڑھوتی میں ممدو معاون نہیں ہوتے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان میں عسکری ادارے ہمیشہ ڈرا ؤ نگ سیٹ پر ہوتے ہیں اور سیاست دان ان سے کافی خا ئف رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی سیاست دانوں کرپشن سے ہاتھ نہیں روکتے ۔کرپشن کی عادات ان کے دامن سے اس بری طرح سے چمٹی ہوئی ہیں کہ وہ انھیں چین سے رہنے نہیں دے رہیں ۔وہ عسکری اداروں کی موجودگی میں بھی اپنی عادات کو تبدیل کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے ۔اصل میں دولت کی چمک دمک اور اس کا حجم اتنا بڑا ہے کہ سیاست دانوں کا ارتکازِ دولت سے احتراز برتنا ممکن نہیں رہا۔دولت جب پہلی ترجیح بن جائے تو ایسے ہی ہوا کرتاہے اور بد قسمتی سے دولت اس وقت سب کے لئے الہ کا مقام حاصل کر چکی ہے اورستم ظر یفی کی انتہا یہ ہے کہ اس الہ کے سامنے ہر شخص سرِ تسلیم خم کئے ہوئے ہے۔دولت کی لوٹ مار میں صرف وزرا اور ارکانِ اسمبلی ہی ملوث نہیں ہیں بلکہ حکمران جماعت کے عام کارکن بھی اس گنگا میں ننگے نہا رہے ہیں جس سے ہر سو کرپشن کا ماحول بنا ہوا ہے۔اب اگر کوئی دارہ حکومتی عہدیداروں اور کارکنوں کو اس کرپشن سے روکنے کے لئے حرکت میں آنا چاہتا ہے تو پھر دہائی مچا دی جاتی ہے کہ جمہوریت پر شب خون مارا جا رہا ہے حالانکہ حکومت کو ا س طرح کے اقدامات کی حوصلہ افزائی کرنی چائیے ۔ تا کہ شفاف نظامِ حکومت کے لئے راہ ہموار ہو سکے۔اگرحکومت احتسابی ادارے کو کھلا ہاتھ نہیں دینا چاہتی اور لٹیروں کو تحفظ دینا چاہتی ہے تو پھر وہ اپنے ہی قانون کو بے اثر کرکے کھ دے گی جس سے ملک ترقی کی شاہراہ پر نہیں چڑھ سکتا۔حکمرانوں کا کام ملک کو شفاف نظامِ حکومت دینا اور کرپشن کے دروازوں کو بند کرنا ہو تا ہے لیکن اگر وہ خود اسی کرپشن کا حصہ بن جائیں تو پھر سمجھ لینا چائیے کہ وہ ملک کے خیر خواہ نہیں بلکہ اس کے دشمن ہیں اور ہمیں اپنی آ ستینوں میں چھپے ہوئی دشمنوں کو پہچاننا ہو گا۔منتخب ہونا ایک بات ہے لیکن عوام کا خیر خواہ ہونا دوسری بات ہے اور ہمیں ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو اپنے عوام،ملک اور شفاف نظامِ حکومت کے ساتھ مخلص ہو۔،۔

یہ بھی پڑھیں  پاکستانی سیاست اورسیاستدان

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker