تازہ ترینکالممحمد فرحان عباسی

مسئلہ فلسطین ،شاہ فیصل اور امریکہ

بلی نے کبوتر کا شکار کرنے کے لئے اس کا پیچھا کیا اور بالآخر ان کا آمنا سامنا ہو گیا اور وہاں بجائے اس کے کہ کبوتر بلی کا مقابلہ کرے یا بھاگ جائے اس نے آنکھیں بند کر لیں کہ شاید بلی مجھے نہیں دیکھ رہی
مگر لا شعور کبوتر کو لیا معلوم تھا کہ حقیقت آنکھیں بند کر لینے سے چھپ نہیں جاتی ،اس طرح بلی نے کبوتر کا شکار کر لیا ،
اسرائیل ایک ایسی ریاست ہے جس کے وجود کو تسلیم کیا گیا نا ہی کیا جائے گا اسلامی ممالک کی طرف سے یہ ایک فتنہ ہے جسکو اس کارن پیدا کیا گیا تھا کہ مسلمانوں پر ظلم و ستم بڑھایا جائے گا ،اس کے پیچھے کون سے محرکات ہیں ،ہم مسلمانوں نے اس بات کی کھوج لگانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ،
دنیا میں جہاں کہیں ظلم ہوتاہے امریکہ بہادر اس کے خلاف بلند بانک نعرے لگاتا ہے اور اس دوڑ میں ہمارے شاہ سوار بھی کسی سے پیچھے رہنا پسند نہیں کرتے وہ اپنے آقا امریکہ کے شانہ بشانہ اس کے اشاروں پر چلتے ہیں جس سمت ان کو امریکہ اشارہ کرے گا اس سمت جانا یہ اپنے اوپر فرض عین سمجھ لیں گے ،اور جس کام سے وہ ان کو منع کرے گا اس کام کو وہ کسی بھی صورت کرنے کا ارادہ بھی نہیں کریں گے
کیونکہ جس طوطے میں ان کی جان ہے وہ طوطا شائد امریکہ کی قید میں ہے ،اور جیسے ہیی ان کی طرف سے کوئی اونچ نیچ ہوئی امریکہ نے اس طوطے کی گردن مروڑ دینی ہے اور اس طرح ہمارے شاہسواروں کی جان بھی نکل جائے گی ،
اسلامی ممالک اس وقت امریکہ کے زیر اثر ہیں سوائے ایران کے ،کہ شائد وہ اس سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا اور جواب دیتا ہے مگر کب تک ،،،،،،،،،،؟
کب تک ایران اکیلا ان کا مقابلہ کرے گا ،جب تک اس کو دیگر اسلامی ممالک کی حمایت حاصل نا ہو اس کے لئے لڑنا ممکن نظر آتا ہے چہ جائے کہ ان کے پاس کتنی ہی ایٹمی طاقت آجائے ،
لیبیا میں کرنل قذافی نے ایک طویل عرصہ حکومت کی اور لیبیا کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی صف مین جا کھڑا کیا ،اس نے پاکستان کی ترقی کے لئے بھی بے شمار کارنامے سرانجام دئیے یقین نا آئے تو پیپلزپارٹی سے بھٹو دور کی تاریخ پو چھ لو ،
مگر جب اس پر کڑا وقت آیا تو اس کا ساتھا کس ملک اور ریاست نے دیا یہ دنیا جانتی ہے کہ کل جو امریکہ کے لئے اس کا حمایتی بن چکا تھا اس وقت اسے دہشت گرد قرار دیا گیا اور اس پر ایٹمی حملہ کر دیا گیا ،اور ایک نئی جنگ کا آغاز کر دیا گیا جوو صرف اس شخص کے خلاف تھی کہ جسے کل دنیا کرنل قذفی کے نام سے اور اس وقت دہشت گرد کے نام سے جانتی تھی ،یہ جنگ مہینوں کی مدت تک طول پکڑ گئی اور اس میں ایک دہشت گرد قذافی کو شہید کرنے کے لئے اس کے ملک کے لاکھوں بے گناہ لوگوں کو موت کی نیید سلا دیا گیا ،اس موقع پر قذافی کی مدد کے لئے کو ن سا اسلامی ملک کھڑا ہوا کس نے اسے امداد اور جنگ میں اس کی طرف سے حصہ لینے کی پیشکش کی ،،،،؟
کسی نے بھی نہیں ہر ایک افسوس کے علاوہ کچھ نا کر سکا ،کیونکہ طوطے کا گلہ مروڑ دیا جا تا اگر افسوس سے آگے کسی اور کام کی پیشکش کی جاتی تو ۔
اس طرح کرنل قذافی موت کی نیید سو گیا ،
عراق کی جنگ کس بنیاد پر شروع کی گئی ،ساری مسلم اقوام اس چیز سے بخوبی واقف ہیں ،
تیل کی پیداوار کو اپنے زیر اثر لانے کے لئے عراق اور لیبیا میں جنگیں برپا کر دی گئیں،وہاں پر ہنستی کھیلتی زندگیوں سے زندگی کے رنگ چھین لئے گئے،بچوں سے ان کا بچپن تو جوانوں سے ان کی جوانی چھین لی،
گھروں کے گھر تباہ کر دئیے ،بستیاں اجاڑ دیں ،علاج کے لئے ہسپتال رہے نا ہی علم کی شمع جلانے والے قلعے باقی رہے ،مسجدیں رہیں نا ہی مدارس ،ہر چیز انسانی حقوق کے علمبرداروں نے تہس نہس کر دیا
مگر کسی کے کان پر جوں تک نا رینگی ،کسی کے دل میں اس بات کا احساس تک نا ہوا کہعراق میں صدام حسین کے علاوہ بچے بھی بستے ہیں ،وہاں بوڑہی اور جوان عورتیں بھی رہتی ہیں اسلامی و عرب ممالک کے سربرہان نے یہ تک نا سوچا کہ اگر سارا کفر اور باطل مسلمانوں کے خلاف اکٹھا ہو سکتا ہے تو ہم مسلمان کیوں اکٹھے نہیں ہو سکتے ۔
یہ سب اس لئے نا ہو سکا کہ طوطے سے جان نکلنے کا خطرہ تھا ،عربوں میں وہ غیرت نہیں رہی نا ہی باقی مسلم اقوام کے سربراہا ن میں ۔
ہر ایک نے اپنی جان بچانے کی سعی کی او ر صرف افسوس پر ہی اکتفاء کیا ہر ایک کا بیان تھا کہ (ہم ان امریکی حملوں پر مذمت کرتے ہیں ہر ایک جا کر امریکی سفارت خانوں میں مذمتی قراردادیں پیش کرتا تصویریں بنواتا اور چل سوچل بنتا)
اس دور میں محمد بن قاسم نا ہی سہی صلاح الدین ایوبی نا سہی ،کاش کو ئی شاہ فیصل کا جانشین ہی پیدا ہو جاتا جس میں کوئی جرئات مندانہ فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہوتی ،جو اپنے مسلمان بھائیوں کے درد کو اپنا درد سمجھتا ،جو آج غزاکے مظلوم مسلمانوں کے لئے ڈھال بن جاتا اور اسرائیل کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتا ،
مگر افسوس کہ ایسا نا ہو سکا مظلوموں کو درندوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ،اور وہ ان کی تکہ بوٹی کرتے ہوئے ہر عمر کے اور ہر جنس کے فلسطینی مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں ،
شاہ فیصل جیسا جرئات مند انسان جس نے 1973میں ہونے والی عرب اسرائیل جنگ میں گوروں کو لوہے کے چنے چبانے پر مجبور کر دیا تھا
اس جنگ میں امریکہ نے پس پردہ اسرائیل کی مدد کی اور ان کو عربوں کے ساتھ لڑایا یہان بھی اسرائیل نے مظلوم مسلمانون کا خون بہانے کی کوشش کی اور ان کو ڈرانا کے درپے ہوا ،مگر اس وقت وہ اس بات سے ہر گز واقف نا تھا کہ مسلمانون کے بادشاہ زندہ دل او ر بہادر ہیں اور وہ ہر قسم کے کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اس طرح اسرائیل نے عربوں پر حملہ کر دیا تاریخ لکھنے والوں کا یہ خیال ہے کہ اگر اس جنگ میں امریکہ اسرائیل کی مدد نا کرتا تو آج فلسطین کا مسئلہ حل ہو چکا ہوتا مگر امریکہ منافق جیسے آج منافق ہے ایسے ہی یہ ماضی میں بھی منافق رہا ہے ،
اس جنگ میں شاہ فیصل نے امریکہ کا پہیہ جام کر دیا تھا ،اس نے امریکہ کو تیل کی سپلائی بندکر دی جس کی وجہ سے امریکہ کو اپنی چلتی ہو ئی معیشت کے لئے خطرے کیبادل نمودار ہوتے ہوئے محسوس ہوئے ،اس بناء پر امریکہ کو عربوں کے سامنے جھکنا پڑ گیا ،اس موقع پر شاہ کا کہنا تھا کہ اگر ہمارے آباؤ اجداد دودھ اور کھجور کھا کر اپنی زنگیاں بسر کر سکتے ہیں تو ہمارے لئے کیا دشواری ہے ایسا کرنے میں اور ہمیں بھی اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ ہم بھی ان کے نقش قدم پر چلیں اور دودھ اور کھجور پر گزارا کریں ۔
گوروں نے شاہ کے اس فیصلے کو بدلنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر ناکام رہے ۔
اس وقت کاامریکی وزیر خارجہ کسنجر جدہ پہنچ گیا اور تیل کیسپلائی بحال کرنے کی درخواست کی مگر ایک حق گو کے لئے ایسا کرنا ناممکن تھا ،شاہ نے اس کی کسی بھی بات کو ماننے سے انکار کر دیا اور سپلائی کی معطلی کے فیصلے پر قائم رہا ،
کسنجر نے جاتے ہوئے شاہ فیصل سے کہا کہ میرا جہاز ایندھن نا ہونے کی وجہ سے آپ کے ہوائی اڈے پر ناکارہ کھڑا ہے کیا آپ اس مین ایندھن بھرنے کا حکم دے سکتے ہیں جس کی میں ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہوں۔
کسنجر خود لکھتا ہے کہ میری اس بات سے شاہ کے چہرے پر کسیقسم کے کوئی آثار نمودار نا ہوئے اوراپنا جذبات سے عاری چہرہ اٹھایا اور میری طرف دیکھا اور کہا مین ایک عمر رسیدہ انسان ہوں میری یہ خواہش ہے کہ مین مرنے سے پہلے مسجد اقصاء میں نماز کی دو رکعتیں پڑھ لوں ،
تم میری خواہش کو پورا کر سکتے ہو کیا تم میری مدد کر سکے ہو ؟

یہ بھی پڑھیں  مریخ پرزندگی کی تلاش میں پیشرفت،امریکی روبوٹ گاڑی سیارے پر اتر گئی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker