پاکستانتازہ ترین

وزیرخزانہ کو چیلنج کرتا ہوں کہ بجٹ اعداد پورا نہیں کرسکیں گے،شاہ محمود قریشی

ملتان﴿بیوروچیف﴾ سابق وزیر خارجہ اور پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی وائس چیئرمین مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کا پیش کردہ پانچویں بجٹ مایوس کن اور عوام دشمن ہے میں وزیر خزانہ کو چیلنج کرتا ہوں کہ انہوں نے جو بجٹ میں اعداد پیش کئے ہیں وہ پورا نہیں کر سکیں گے۔ وہ سندھ میں معاشی ماہرین کو مطمئن کر دیں تو ہم بھی مطمئن ہوجائیں گے‘ یہ بات انہوں نے ہفتہ اور اتوار درمیانی شب ملتان پریس کلب میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوںنے کہا کہ بجٹ سے قبل وزیر خزانہ نے خود کہا ہے کہ ہم گزشتہ بجٹ کے اہداف حاصل نہ کرسکنے میں ناکام رہے ہیں اور ہماری معیشت کا برا حال ہے۔ اور ہماری اکنامک ٹیم کی کارکردگی بھی تسلی بخش نہیں رہی ۔ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ حکومت کے ا تحادی ایم کیو ایم کے پارلیمانی لیڈر فاروق ستار نے ایک بجٹ پیش کیا تھا اور ان کو بھی گلہ ہے کہ ان کے بجٹ پر حکومت نے کان نہیںدھرے اور فاروق ستار نے کہا ہے کہ ہماری معیشت کا برا حال ہے کیونکہ اس بجٹ سے کوئی مطمئن دکھائی نہیں دیتا انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ قوم کے ساتھ فراڈ ہے حکمرانوں نے الیکشن جیتنے کے لئے لولی پاپ قوم کو دیا ہے لیکن حکمران بھول گئے ہیں کہ ماضی میں ق لیگ نے بھی ایک الیکشن بجٹ دیا تھا اور اس کے بعد ان کو تاریخی شکست ہوئی تھی اور اب بھی لگتا ایسا ہی ہے کہ تاریخ ایک مرتبہ پھر اپنے آپ کو دہرائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ کا جلسہ حکمران نگران حکومت پر ڈال دیں گے اور یہ حکومت آئی ایم ایف کے پاس جانے کے قابل نہیں ہے کیونکہ آئی ایم ایف نے پہلے ہی ان کے تین ارب روپے روک لئے تھے اور اب بھی آئی ایم ایف سخت شرائط دے گی۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں نے اس حکومت کی معیشت کو ڈیفالٹر ہونے سے بچایا ہے اور لگتا ایسا ہے کہ یہ حکومت مالی سال کے دوران ایک اور بجٹ پیش کرے گی۔ اور انہیں آئی ایم ایف سے بات کرنا پڑے گی۔ حکومت سے پاکستان کی بزنس کمیونٹی اور عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے تاجر بیرون ملک سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ بنگلہ دیش‘ ملائشیا اور عرب امارات جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت نوٹ چھاپنے اور قرض لینے میں اضافہ کیا ہے بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں کمی کرنے کے بجائے ان میں اضافہ کیا ہے ان کی کارکردگی ناقص رہی ہے گڈگورننس نہیں رہی ۔ اور کہا کہ جب میں وزیر خارجہ تھا اس وقت بھی وزیرخزانہ سے کہا تھا کہ قوم سے مذاق نہ کیا جائے ۔ بجلی نہ ہونے کی وجہ ٹیوب ویل نہیں چل رہے ڈیزل مہنگا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو بھی پیسہ نہیں دے پائیں گے۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جب نواز لیگ کا پنجاب میں بجٹ آئے گا تو اس پر بھی بات کی جائے گی۔ اور جب میں وزیر خارجہ تھا تو میں نے ٹاپ لیڈر شپ کو بتا دیا تھا کہ ہماری ملکی معیشت اور کرپشن کے بارے میں امریکہ اور یورپی وزرائ خارجہ کو تشویش ہے ۔

یہ بھی پڑھیں  شکاگو میں صدر زرداری کے ساتھ اچھوتوں والا سلوک ہوا، قریشی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker