پاکستانتازہ ترین

ملک میں قتل وغارت اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے: شہباز شریف

shahbazلاہور(نامہ نگار) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے کہا ہے کہ حضور پاک ﷺ کی ولادت باسعادت کا دن دنیا کے کونے کونے میں منایا جا رہاہے۔ عید میلادالنبیؐ کے مبارک موقع پر ہمیں سنجیدگی اور دلجمعی کے ساتھ اپنا احتساب کرنے کی ضرورت ہے۔ حضور پاک ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایثار و قربانی اور انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنانا ہوگا۔پاکستان میں رہنے والے مسلمانوں کو متحد کرنے کیلئے ہم سب نے آج اپنا کردار ادا نہ کیا اور صحیح فیصلے نہ کئے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔علمائے حق پاکستان کو مشکلات سے نکالنے اور فرقہ واریت کے فتنے کو ختم کرنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔وزیراعلیٰ محمد شہباز شریف گزشتہ روز الحمرا ہال میں صوبائی محکمہ اوقاف و مذہبی امور کے زیراہتمام ’’عدل اجتماعی کا تصور اور اہمیت، تعلیمات نبویؐ کی روشنی میں‘‘ کے موضوع پر منعقدہ صوبائی سیرت کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس میں سینئر مشیر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ، سیکرٹری اوقاف، چیئرمین علماء بورڈ پیر امین الحسنات، مولانا راغب نعیمی، سابق رکن برطانوی پارلیمنٹ چوہدری محمد سرور اور تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام و مشائخ عظام نے شرکت کی۔سیرت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ شہباز شریف نے کہا کہ آج ہم اس عظیم ہستی کی یاد میں یہاں جمع ہوئے ہیں جن کی وجہ سے یہ کائنات معرض وجود میں آئی۔ اس عظیم ہستی کی عزت و ناموس کیلئے مسلمان ہر وقت جان قربان کرنے کیلئے تیار ہے۔ نبی پاک ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر ہم دنیا و آخرت میں کامیاب و کامران ہوسکتے ہیں۔ نبی پاک ﷺ نے ایثار، قربانی، حسن سلوک، برداشت، رواداری، اتحاد، محبت، اخوت اور بھائی چارے کا ابدی پیغام دیا ہے۔ بدقسمتی سے مسلمان یہ پیغام بھلا چکے ہیں۔ آپؐ نے میثاق مدینہ کیا تو فرمایا تمام مذاہب کے لوگ قانون پر عملدرآمد کرنے کی صورت میںیہاں امن سے رہ سکتے ہیں۔ لیکن وہ پاکستان جسے ہم سب نے مل کر اسلامی فلاحی مملکت بنانا تھا وہاں آج قتل و غارت اور لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے۔پورا ملک بدامنی کی آگ کی لپیٹ میں ہے، بدقسمتی سے مرنے والا اور مارنے والا دونوں کلمہ گو ہیں۔ چند روز قبل کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے بے گناہ افراد کو ایسے مارا گیا کہ کوئی دشمن بھی ایسے نہیں کرتا۔ کیا وہ ایک خدا، ایک رسول، ایک دین اور ایک کتاب کو ماننے والے نہیں تھے؟ سندھ، کراچی، کوئٹہ اور خیبرپختونخوا میں لگی آگ نے ملک کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسلام کا نام لے کر وطن عزیز میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ پاکستان خود اپنی لگائی آگ میں سلگ رہا ہے۔ہماری اپنی کمزوریوں کی وجہ سے اغیار مسلمانوں کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ نااتفاقی کی وجہ سے ہم آج کمزور ترین سطح پرآ چکے ہیں۔ اغیار آج ہمیں نفرت اور حقارت سے دیکھتے ہیں۔ اپنی عزت و وقار کو داؤ پر لگا کر ہم نے اغیار کے سامنے اپنا سر خم کردیا ہے۔ ہر ایک نے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائی ہوئی ہے۔ وہ مسائل جس پر پوری قوم کا اتفاق ہے، ان پر بھی ہم اکٹھے نہیں ہوسکے۔ کیا ان حالات میں ہمیں رحمت اللعالمینؐ کے پیروکار یا پاکستانی کہلانے کا حق ہے؟ خارجی اور اندرونی عوامل ملک کا شیرازہ بکھیرنے کی سازشیں کر رہے ہیں۔ ملک کو بچانے کیلئے علمائے کرام اور مشائخ عظام پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اگر ان حالات میں علمائے کرام نے ملک کو بچانے کیلئے اپنا قائدانہ کردار ادا نہ کیا تو تاریخ ہمیں اور آپ کو کبھی معاف نہیں کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے علمائے حق سے اپیل کی کہ وہ امت مسلمہ کا پارہ پارہ اتحاد جوڑنے اور اس فتنے کے خاتمے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔ اگر آج ہم نے فروعی اختلافات ختم نہ کئے تو تاریخ کے اوراق میں ہمارا نام تک نہ ہوگا اور اس ملک کا خدا ہی حافظ ہوگا۔ یہ ملک اس لئے اسلام کے نام پر معرض وجود میں نہیں آیا تھا کہ یہاں مذہب کے نام خون کی ہولی کھیلی جائے اور ایک دوسرے کو ناحق قتل کیا جائے۔ کیا ہمارا یہی نصیب تھا کہ ہم ہر جگہ کشکول گدائی لے کر پھریں؟ مخلوق خدا کی اکثریت کو یہاں زندگی کی بنیادی سہولیات میسر نہیں جبکہ مٹھی بھر اشرافیہ کی چوکھٹ پر ہر نعمت سلام کرتی ہے۔ مساجد،امام بارگاہوں اور خانقاہوں میں بم دھماکے اور خودکش حملے ہو رہے ہیں۔ جس نبیؐ کو ہم مانتے ہیں انہو ں نے تو ایثار اور محبت کا پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچایا لیکن آج ہم ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ رہے ہیں۔ گلیوں میں بے گناہ افراد کا خون بہایا جا رہاہے۔ انہوں نے علمائے کرام سے اپیل کی کہ موجودہ نازک حالات میں وہ امت مسلمہ کے مابین اتحاد و اتفاق کیلئے اٹھیں اور پاکستان کو قرآن پاک کی ہدایات کی روشنی میں دلدل سے نکالنے کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور مجھے یقین ہے کہ اتحاد اور اتفاق کیلئے ان کا یہ سنہری کام رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ میثاق مدینہ نبی پاک ؐ نے دیا لیکن اس کا چربہ آج مغرب نے اپنی اجتماعی زندگی میں اپنا رکھا ہے۔ مغرب میں تو ہر بچے کو دودھ ملتا ہے، کوئی بھی شخص رات کو بے فکر ہو کر پھر سکتا ہے۔ ہر آدمی کو وہاں تعلیم اور علاج کی مفت سہولیات دستیاب ہیں اور روزگار میسر ہے جبکہ یہاں تعلیم اور علاج کی سہولتیں صرف پیسے والے کیلئے ہیں۔ پاکستان میں غریب بغیر دوائی ا ور علاج کے سسک سسک کر جان دے دیتا ہے۔ یہ وہ چبھتے ہوئے سوال ہیں جن کا ہم سب کو مل کر جواب دینا ہے۔ اگر ہم صحیح معنوں میں نبی پاک ﷺ کے اسوۂ حسنہ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو جائیں تو ہمارے مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم تفرقے اور مذہبی اختلافات میں بٹے رہے تو ہمارا حشر وہ ہوگا کہ دنیا دیکھے گی۔ ابھی بھی وقت ہے کہ ملک کو بچایا جائے۔ انہو ں نے کہا کہ ہمارا دین، رسول اور کتاب ایک ہے تو ہم فرقہ بندیوں میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟ کیا یہی اسلامی تعلیمات ہیں اور کیا پاکستان بنانے کا یہی مقصد تھا؟ انہوں نے کہا کہ امانت، دیانت اور ریاضت کے بغیر ملک کو قائدؒ اور اقبالؒ کا پاکستان نہیں بنایا جاسکتا۔ صوبائی سیرت کانفرنس کے دوران وزیر اوقاف و مذہبی امور حاجی احسان الدین قریشی نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عید میلادالنبیؐ تمام مسلمانوں کو دعوت دیتی ہے کہ اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا خود احتسابی کے ساتھ جائزہ لیں۔ تقریب میں سیرت النبیؐ اور مجموعہ ہائے نعت کی کتب پر انعامات بھی دیئے گئے

یہ بھی پڑھیں  تحریک انصاف نے خفیہ سروے کی رپورٹ کے برعکس ٹکٹیں دیں

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker