بشیر احمد میرتازہ ترینکالم

شہید بشیر بلور۔۔۔دہشت گردوں کا چیلنج

bashir ahmad mir22دسمبر 2012ء ہماری تاریخ کے ان بے شمار سانحات میں سے ایک المناک سانحہ کو لیکر طلوع ہوا۔ملک کے بزرگ سیاسی رہنما ،صوبہ خیبرپختونخوا کے سینئر وزیر اور اے این پی کے اہم رہنما بشیر احمد بلور’’ لا دین ‘‘دہشتگردوں کے بہمانہ سازششوں کا شکار ہوکر شہادت کے اعلی مرتبہ پر پہنچ گے۔ وہ دلیر ،با ہمت،جرات مند،دیندار،عوام دوست اور اسلام دشمنوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے والے جری اوصاف کے حامل شخصیت تھے۔ بشیر احمد بلور یکم اگست 1934ء میں پیدا ہوئے۔انہوں نے قانون کی ڈگری حاصل کی،پشاور ہائی کورٹ بار کے ممبر رہے،1970ء سے سیاست کے خار زار میں اے این پی کے پلیٹ فارم سے پہلا قدم رکھا جس پر تا دم شہادت ثابت قدم رہے۔1990 کے انتخابات میں پی ایف ون سے صوبائی انتخاب میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی ،وہ مسلسل پانچ مرتبہ انتخابات میں کامیاب ہوئے۔ان کی ساری زندگی عوام کی فلاح بہبود اور جمہوری جد و جہد کا مرقع رہی۔2009ء سوات امن معاہدہ کی خلاف ورزی کے بعد انہوں نے دہشتگردوں کو کسی رعایت کا مستحق نہیں قرار دیا۔بشیر احمد بلور پختہ ایمان رکھنے والے انمول ہیرا تھے جنہوں نے دہشتگردوں کے سامنے ہاتھ جوڑنے کے بجائے اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے ڈٹ کر مجاہدانہ کردار ادا کیا۔اس جان لیوا حملہ سے قبل دو مرتبہ ان پر دہشتگردوں نے حملے کئے مگر ان کے عزم کو دہشتگرد متزلزل نہ کر سکے۔آخر کار تیسرے حملے میں انہیں شہادت کا عظیم مرتبہ نصیب ہوا۔
دہشت گرد کیا چاہتے ہیں؟ مساجد کی بحرمتی ،مدارس کے معصوم طلباء کو قتل ،اللہ والوں کے مزارات کی بے ادبی ،ملک کی حفاظت کرنے والے دلیر افواج کے جوانوں کو ہدف ،امام بارگاوں پر حملے،ملک کی اہم شخصیات کو مارنے اور عام شہریوں کی جانیں لینے والے کہاں کے مسلمان ہیں ؟ان بد بختوں نے 2001ء سے اب تک صرف خیبر پختونخوا میں 1031سکول تباہ کر کے ایک لاکھ پچاس ہزار سے زائد بچوں کو جہالت کی تاریکی میں گمنام کر دیا۔36ہزاربے گناہ شہری خود کش اور بم دھماکوں کا شکار ہوئے،3085پاک افواج کے نوجوان شہید ہوئے،دہشتگردوں کی ملک دشمنی کے نتیجہ میں تین چوتھائی زرعی رقبہ بنجر ہوا،2005ء سے قبل سالانہ 5لاکھ سے زائد سیاح صوبہ کے سیاحتی مراکز میں آتے تھے جو کم ہو کر صرف 2ہزار رہ گے۔اس طرح صوبے کی معاشی ترقی رک گئی اور بے روز گاری نے گھر گھر ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔کیا یہی طالبان کا اسلام ہے ؟ یہ تو صرف کے پی کے کا حال ہے جبکہ وطن عزیز اس وقت تک ایک ارب ڈالرسے زائد معاشی نقصانات اٹھا چکا ہوا ہے۔بلوچستان اور کراچی میں ٹارگٹ کلنگ،خود کش حملوں،بم دھماکوں سمیت روز بروز بے شمار سماجی جرائم میں خطرناک حد تک اضافہ ہونا بھی دہشتگردی کے برے اثرات ہیں۔آج جیسے ہم ملک میں موجود مسائل کا رونا رو رہے ہیں اور ان کا کلی ذمہ دار حکمرانوں کو ٹہراتے ہیں۔یہ آسان سا لفظی الزام تو قابل قبول تو ہو سکتا ہے مگر ذمینی صورت حال یکسر مختلف ہے۔سچی بات تو یہ ہے کہ اس وقت سب سے بڑا چیلنج دہشت گردی ہے جس کے خلاف پوری قوم یکسو ہے ۔یہ چند انسانیت دشمن گروہ بیس کروڑ شہریوں کو مرغوب ،معتوب اور محکوم نہیں بنا سکتے۔اسلام کے نام پر غنڈہ گردی کرنے والے ذرا بھر معافی کے لائق نہیں،جب یہ ملک کے آئین و قانون کی کھل کر خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں تو پھر ان کے بارے میں کسی مصلحت،مذاکرات یا صلح جوئی اختیار کرنا بحیثیت مسلمان اور پاکستانی ہمارے لئے ہر گز جائیز نہیں ،ان مادر پدر آذاد ،بے غیرت،بد معاش اور غنڈہ گرد گروہ کے سر غنوں تک جب تک گھیرا تنگ نہیں کیا جاتا تب تک امن کی راگنی بے سود ،بے معنی اور نا پائیدار رہے گی۔
بے گناہ انسانوں کے قاتلوں کو انجام تک پہنچانے کے لئے موثر حکمت عملی درکارہے۔سب سے پہلے سیاست دانوں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محض اقتدار کی رسہ کشی سے تفرقہ پیدا نہ کریں بلکہ انہیں اب ون پوائنٹ ایجنڈے پر متفق ہو کر مستقبل کی حکمت عملی وضع کرنا پڑے گی۔بشیر احمد بلور کا ہی خون نہیں ہوا یہ پوری قوم کو چیلنج کردیا گیا ہے۔رواں سال کے دوران جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد،جمعیت علماء الاسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ،ممتاز سینئر اینکر حامد میر سمیت کئی سیاسی و سماجی شخصیات کو دہشت گردوں نے نشانہ بنانے کی کوشش کی ،یہ سب حملے ان دہشت گرد منصوبہ سازوں کا ایک واضح پیغام ہے کہ جو بھی ان بد بختوں بارے فکری و عملی مہم جاری رکھے ہوئے ہے انہیں راستے سے ہٹا دینے کی کھلی دھمکی دی جا رہی ہے۔
ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم بے شمار بحرانوں جن میں نمایاں طور پر مہنگائی ،بے روز گاری ،افراط زر اور توانائی ہیں ان سے نبر د آزما ہیں اور اسکے باوجود دہشتگرد وں کے ڈر،خوف اور خطرات سے ذرا بھر نہیں گھبرائے۔یہ بھی ہماری خوش نصیبی ہے کہ وطن عزیز کی حفاظت کرنے والی دنیا کی دلیر اور جراتمند فوج ،جمہوری حکمرانی،آذاد عدلیہ اور میڈیا پوری ذمہ داری اور فرائض منصبی سے سرگرم ہے۔اب جہاں کہیں کجی،کمزوری اور لاپروائی موجود ہے وہ یہ ہے کہ ہماری انتظامیہ درست سمت پر نہیں ،جس کی وجہ سے حالات سے مایوس نوجوان بے شمار مسائل کا شکار ہو کر ان دہشت گردوں کا خام مال بن رہے ہیں۔جب کسی کے مال و جان کا تحفظ نہیں ہو رہا ہو تو اس نے آسانی کے ساتھ دہشتگردی کو اپنا انتقام بنانا پڑے گا۔اس بنیادی خامی اور لاپروائی کا مداوہ ضروری ہے۔ہماری پولیس کا یہ حال ہے کہ وہ کارکردگی بنانے کے لئے سرفراز شاہ کو شہر قائد میں زند گی کی بھیک مانگنے کے باوجود ڈائریکٹ ٹارگٹ کلنگ کر دیتی ہے، سیالکوٹ میں دو سال قبل دو حقیقی بھائیوں کو دن دھاڑے پولیس کی سرکردگی میں سر عام قتل کیا گیا ،کیا اب تک ان ملزمان کو بقول وزیر داخلہ اسی جگہ پھانسی پر لٹکایا گیا ؟ ہمارا ڈی سی ، اے سی،ایس پی ، اتنا پاور فل ہے کہ وہ کسی بھی شہری کو بے دخل کرنے کا اختیار استعمال کر سکتا ہے جسے کہیں بھی چیلنج کرنے کے لئے بھاری رقم کی ضرورت ہوتی ہے،پرائس کنٹرول کمیٹیاں بھی صدر یا وزیر اعظم نہیں بناتے بلکہ یہ انتظامیہ کی ملی بھگت سے بنائی جاتی ہیں جن کی وجہ سے اشیاء ضروریہ میں ہو شربا اضافہ معمول بنا ہوا ہے اور اس سے براہ راست عوام متاثر ہو رہی ہے۔کرپشن ہماری انتظامیہ کے رگ و پہ میں سرایت کر چکی ہے یہی مافیا مختلف سیاسی جماعتوں کے سائے میں عوام کو ہی نہیں لوٹ رہے ہیں بلکہ ہمارے جمہوری نظام کو سبوتاژ کر رہے ہیں ،یہ دہشت گردوں سے کم نہیں، حال تو یہ ہے کہ گنگا میں اشنان کرنے والے ہمارے سامنے ننگے ہیں مگر ابھی انہیں مہلت ملی ہوئی ہے
مختصراً ہماری انتظامی صورت حال درست کرنے کی ضرورت ہے،نیز دہشتگردی کی جنگ کو تیز کرنے کا فیصلہ کیا جائے تاکہ ان دہشت گردوں کو بد تر انجام سے ہمکنار کیا جائے۔آج پوری قوم اپنے سیاسی رہنما بشیر احمد بلور شہید کی جدائی پر محو حیرت ،غمزدہ اور پریشان حال ہے ۔درحقیقت بشیر احمد بلور نے بستر پر سسک سسک کر مرنے کے بجائے تاریخی شہادت کی تمنا کو اپنا مقدر بنایا اور ان کے قاتل ہمیشہ ہمیشہ کے لئے راندہ درگاہ ہوئے۔ان سطور میں ان کے بھائی وفاقی وزیر غلام احمد بلور، سینٹر الیاس بلور،عزیز احمد اورفرزندگان ہارون بلور ،عثمان بلورسمیت ان دیگر شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کرتے ہیں کہ ہم وطن عزیز کو سنوارنے کے لئے دہشتگردوں ،غاصبوں اور جملہ مافیا کے خلاف سینہ سپر ہو کر اپنی جانوں کے نذرانے دینے سے گریز نہیں کریں گے،تاکہ آنے والی نسل ہمیں بے غیرت،بے حمیت،بزدل،نالائق،نافرمان،بے ضمیر لفظوں سے نہ پکارے اور اللہ کے نزدیک بھی ہم سر خرو ہوں۔

یہ بھی پڑھیں  نمائندہ پاک نیوز لائیو اور روزنامہ ایمان کے لئے اعزازسندھ جرنلسٹ ویلفیئر کی جانب سے بہترین کارکردگی کے سرٹیفکیٹ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker