تازہ ترینفرحین ریاضکالم

شاہین پست پروازنہیں ہوتا، بلند پرواز ہوتا ہے

farheenہمارے نوجوانوں میں یہ رحجان سا چل نکلا ہے کہ انہیں سچی بات بہت کڑوی اور ناقابلِ برداشت معلوم ہوتی ہے سچ کو ہضم کرنا ان کے لیے مشکل ہوگیا ہے کیونکہ یہ صلاحیت ہمارے نوجوانوں میں معدوم ہوتی جا رہی ہے یہی وجہ ہے کہ ہم ترقی کی منزل سے بہت دور ہوتے جا رہے ہیں آج کل کے نوجوان ہونہار بھی ہے اور ذہین بھی مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ نوجوان حصولِ تعلیم کے معاملے میں بالکل سنجیدہ نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ! !! یہ حقیقت ایک کڑوی گولی سے کم نہیں ان باتوں کو ایک تنقید کے بجائے مثبت تجزیہ سمجھ کر قبول کریں اورایک ا صلاح کی کوشش کریں ورنہ شایدتشنگی جوں کی توں رہ جائے گی ، تعلیم کے معنی روشنی کے ہیں اور علم کے معنی جاننے کے ہیں یہی علم انسان کو تاریکی سے نکالتا ہے اور روشنی کی طرف لاتا ہے مگر افسوس کے آج کا نوجوان طبقہ صرف اندھیروں کی طرف گامزن ہے تعلیم کا مقصد انسان کو ترقی، کامیابی سے ہمکنار کرنا ہے لیکن آج کے اس ترقی کے اس جدید سائنسی دور میں تعلیم صرف اور صرف ڈگری حاصل کرنے کا ایک ذریعہ بن گئی ہے جسکی وجہ سے بے روزگاری کا سمندر ابل پڑا ہے نوجوان کی نسبت ہماری بچیاں حصولِ تعلیم میں زیادہ سنجیدہ نظر آرہی ہیں
لڑکیاں اس بات سے بھی خوف زدہ ہو تی ہیں کہ اگر وہ اچھے نمبروں سے تعلیم حاصل نہیں کریں گی تو والدین انہیں تعلیمی عمل سے روک دیں گے جب کہ ہمارے طلبہ اس خوف سے آزاد ہیں طلبہ اسی لیے یکسوئی کا مظاہرہ نہیں کرتے دورِ جدید کی خرافات تعلیمی عمل کو بہت نقصان پہنچارہی ہے ، آج کے نوجوان نسل کو صرف ٹی وی، انٹرنیٹ ، موبائل سے زیاد ہ رغبت ہے ، ان چیزوں کے غلط استعمال نے نوجوان نسل تو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ہے یہ ساری ٖخرافات تعلیمی عمل کو بہت نقصان پہنچارہی ہیں یہ ایک سنگین صورتحال ہے جن کی بہت سی وجوہات ہیں ہمارے طلبہ بھی بہت ذہیں و فطین ہیں مگر اپنے مستقبل کے لیے سنجیدہ نظر نہیں آتے ہیں نوجوان کسی بھی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان باصلاحیت نوجوانوں کا سمندر ہے، جو ہمارے ملک کا فخر ہیکسی بھی ملک کا سب سے بڑا سرمایہ اس کے طلبہ اور نوجوان ہوتے ہیں یہی سبب ہے کہ زندہ قومیں اپنے طلبہ اور نوجوانوں کو مستقبل کا معمار سمجھتی ہیں اور ان کیلئے قومی پیمانے پر تعلیمی سہولتوں کے ساتھ ساتھ صحت مندانہ مقابلوں اور تفریحی لمحات کا اہتمام کرتی ہیں۔ انفرادی طور پر ہر ملک کے نوجوان اپنے ملک کا نام روشن کرتے ہیں۔
افراد اور اقوام کی زندگی میں تعلیم و تربیت کو وہ بنیادی اہمیت حاصل ہے کہ افراد کی ساری زندگی کی عمارت اسی بنیاد پر تعمیر ہوتی ہے اور اقوام اپنے تعلیمی فلسفہ کے ذریعہ ہی اپنے نصب العین ، مقاصدِ حیات، تہذیب و تمدن اور اخلاق و معاشرت کا اظہار کرتی ہیں۔ جو لوگ مادی مقاصد کے لئے علم حاصل کرتے ہیں وہ کرگس بن کر رہ جاتے ہیں۔ ان کی ساری ہمتیں بازاری چیزوں کے حصول کے لئے ہوتی ہیں۔ وہ انہی پر جھپٹتے رہتے ہیں۔جبکہ شاہین پست پروازنہیں ہوتا، بلند پرواز ہوتا ہے ،اس کی نگاہ میں بڑی تیزی ہوتی ہے۔ علامہ اقبال کے نزدیک یہ چیزیں ترقی اورارتقا کی علامت ہیں۔ وہ کہتے ہیں:
؂ محبت مجھے ان جوانوں سے ہے ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند:
بے راہ روی، اور تعلیم سے بیگانگی نوجوانوں کو اپنی قومی تاریخ و روایات سے بیگانہ کرکے طرز معاشرت رفتار و گرفتا ر اور طرزِ حیات کا دلدادہ بنا دیتی ہے۔جھوٹے معیار ، جھوٹے نظریات اور جھوٹی اقدار کی چمک دمک ان کی نگاہوں کو خیر ہ کر دیتی ہے اس طرح وہ اپنی فطری حریت ، دلیری ، شجاعت اور بلند پروازی کو چھوڑ کر ایک احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مغرب کی بھونڈی تقلید کی کوشش میں وہ مغرب کی خرابیوں کو اپنا لیتے ہیں اور خوبیوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔علامہ اقبال کی ساری امیدیں جوانوں سے وابستہ نظر آتی ہیں۔ ان کا شاہین کا تصور بڑا واضح ہے۔ انھوں نے اپنے بیٹے جاوید کے نام جو نظمیں لکھی ہیں درحقیقت ان میں جوان نسل کے لئے ایک اجتماعی پیغام ہے۔ وہ جوانوں کے لئے دعا کرتے ہیں:مجموعی طور پر دیکھا جائے توعلامہ اقبال نوجوان نسل کوجمودکے دور سے نکل کرآگے بڑھنے کے لئے انگیخت کرتے ہیں۔ علامہ اقبال نے اپنے زمانے کے جمود کا غم کرتے ہوئے نوجوان نسل کو تبدیلی اورارتقا میں اپنا کردار ادا کرنے کی طرف راغب کیا ہے قومی زندگی کے اسی اہم پہلو پر گہرا غور و خوص کیا ہے۔ اور اپنے افکار کے ذریعہ ایسی راہ متعین کرنے کی کوشش کی ہے جو ایک زندہ اور جاندار قوم کی تخلیق کا باعث بن سکے۔مگر اب صورت حال افسوس ناک ہے۔ ہر چہرہ اپنی بے بسی کا عملی نمونہ پیش کر رہا ہے عملی صلاحیت سے مستفید ہونے والا نوجوان طبقہ بھی روزگار نہ ملنے کے سبب مالی مشکلات سے دو چار ہے۔ اور ان نوجوانوں نے مشکلات سے نمٹنے کے لیے اپنی سوچ کا دھارا تبدیل کر لیا تاکہ پیٹ کی آگ کو بجھایا جا سکے۔ نوجوان نسل نے منشیات اور اسمگنگ کا دھندا اختیار کیا اور ذلت و رسوائی کا راستہ اپنا کر من کی آگ کو بجھانا چاہا۔ ان نوجوان کی تعلیم و تربیت میں جب تک تمام لوگ مل کر کام نہیں کریں گے اس وقت تک یہ ذمہ داری ادھوری رہے گی اور کیونکہ نوجوان ہمارے مستقبل کے معمار ہیں اس لئے ہمیں ان کی اچھی دیکھ بھال کرنی چاہیے اچھے ادارے میں مستقبل کے معماروں کی کردار سازی ، نظم و ضبط سکھانا اور ان کی دانش کو بڑھانا ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہیے۔
آج کل ہر نوجوان کا سرورق اس قدر درد ناک ہے۔ کتاب کھولنے سے پہلے ہی دل ڈولنے لگتا ہے۔ پاکستان کی نوجوان نسل تین حصوں میں تقسیم ہے۔
کچھ کے ہاتھوں میں۔۔۔۔ گٹار کچھ کے ہاتھوں میں۔۔۔۔ ہتھیار باقی ہتھیار اور گٹار کے دوراہے پر کھڑے ۔ ۔ ۔ ۔ بیر وزگار
یہ جائزہ چند پڑھے لکھے جوانوں کا ہے اب اس طبقے کے برعکس ان نوجوانوں پر ایک طائرانہ نظر ڈالیے جو علم کے زیور سے نا آشنا ہے۔ جن کی رہنمائی کرنے والا کوئی نہیں۔ ان کے ہاتھوں میں قلم کے بجائے ہتھیار ہے۔ آخر اس طبقے نے بھی تو گزر بسر کرنی ہے۔ نوجوانوں کا یہ گروہ لوٹ مار۔ ڈاکہ زنی اور دیگر گھناؤنے جرائم ملوث ہو جاتا ہے۔ بعض نوجوان حالات سے تنگ آکر خود کشی کا راستہ اپنا لیتے ہیں۔ آخر اس کی ذمہ داری والدین پر ہے یا حکمرانوں پر۔ لیکن میرے اس نظریے سے شاید چند ایک کو اختلاف ہو میں ارباب اختیار کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتی ہوں۔ اس لیے کہ والدین یہ نہیں چاہتے کہ ان کی اولاد زیور تعلیم سے آراستہ نہ ہو لیکن انکے پاس مالی وسائل نہ ہونے کے باعث ان کی اولاد بیراہ ر وی کا شکار ہو جاتی ہے۔ نوجوانوں کو تعلیم اور روز گارکے مو اقع فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔اور پاکستان کی نوجوان نسل جس نے مستقبل قریب میں ملک کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے اس پر توجہ دیں تاکہ نوجوانانِ پاکستان کا مستقبل محفوظ رہ سکے۔

یہ بھی پڑھیں  پاکستان میں میری جان کو خطرہ ہے، معروف گلوکار سلمان احمد

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker