تازہ ترینکالممحمد جاوید اقبال

شائد کہ اُتر جائے تیرے دل میں میری بات

javidمیری تحریر میں لِپٹے ہوئے تابوت نہ کھول
لفظ جی اُٹھے تو، تُو خوف سے مر جائے گا
حالات و واقعات ، اور ملکی صورتحال پر صرفِ نظر کرتا ہوں تو دل بہت دُکھی ہوتا ہے، لکھنے کی کوشش کرتا ہوں تو قلم ساتھ نہیں دیتا، سوچتا ہوں تو دماغ معاؤف ہوتا ہے، کہ ہم کدھر جا رہے ہیں، اور کیا چاہ رہے ہیں۔ انسان جیسے جیسے ترقی کر رہا ہے ویسے ویسے انسانی اقدار و تمدن سے دور بھی ہوتا جا رہا ہے، پھر بھی اسے موجودہ دور پر اپنی ٹیکنالوجی اور ترقی پر بڑا نا ز ہے اور ہمارے دانشوروں کو یہ احساس ہمیشہ خوش فہمی میں مبتلا کئے رہتا ہے کہ وہ اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں جو بجا طور پر سائنس و ٹیکنالوجی کی صدی ہے لیکن یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ اکیسویں صدی کے بائیسویں صدی بھی آتی ہے، جب ہم اکیسویں صدی میں ہی تمام انسانی حدود کو پار کرنے لگے ہیں تو آگے کیا ہوگا؟ ترقی کا یہ مطلب کہاں کہ انسان انسان ہی کا نہ رہے۔دینِ الٰہی سے بے نیاز انسان حقیقتاً اب بھی بے راہ روی کا شکار ہے، جدیدیت اور ترقی کے نام پر اس سے سرزد ہونے والے افعال قدیم جاہلیت سے اس کے مضبو ط رشتے ہونے کی واضح دلیل ہیں۔ چنانچہ زمانۂ جاہلیت میں جس طرح لڑکیوں کی پیدائش کو باعث شرم سمجھا جاتا تھا، آج بھی کم و بیش صورتحال وہی ہے۔ اسی طرح حضرت لوط ؑ کے دور میں ان کی قوم جس بے حیائی اور بے شرمی (لواطت) میں مبتلا تھی اللہ نے اس پر عذاب نازل کرکے نیست و نابود کر دیا ۔ آج ہم پھر اسی بے شرمی اور خلاف فطرت عمل پر عمل پیرا ہونے اور انسان سے حیوان بننے کے لئے ہر وہ جواز پیش کرنے میں پیش پیش نظر آ رہے ہیں جس سے حیوان اور شیطان سبھی شرمسار ہیں۔
قوموں کے عروج و زوال کا قانون ایک مستقل ، بے لاگ اور اٹل قانون ہے۔ قومیں اس قانون کے تحت ہی تشکیل ، تعمیر شناخت، ترقی و استحاکم، عروج و کمال، انحطاط و زوال کے مراحل سے گزرتی ہوئی بالآخر تباہی و خاتمے سے دو چار ہوتی ہیں۔ انسان کے عروج و زوال کا انحصار مادی اور اخلاقی دونوں ہی قوتوں پر ہے۔ اگر بغور اور سچے دل سے دیکھا اور سمجھا جائے تو فیصلہ کن کردار اخلاقی قوت ہی ادا کرتی ہے۔قوموں کی زندگی میں اخلاق کی اس قدر اہمیت ہے کہ انسان کی نفسانی خواہشات اور فطرت صالح میں اگر کوئی قوت توازن پیدا کرتی ہے تو وہ عقل و بصیرت ہے ۔ اس کے نتیجے میں انسان میں اعلیٰ اخلاقی اوصاف پروان چڑھتے ہیں جو ایک انسان کو حیوان سے ممتاز کرتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر نفسانی خواہشات انسان پر غلبہ حاصل کر لیں تو اس کی عقل ماری جاتی ہے، اس کے اندر سے اعلیٰ اخلاقی اوصاف و اقدار مٹ جاتی ہیں اور وہ جانوروں کی سطح سے بھی گر کر گھٹیا حرکات کا ارتکاب کرنے لگتا ہے،جسے قرآن نے اسفل السافلین سے تعبیر کیا ہے یعنی سب نیچوں سے نیچ۔
معروف مؤرخ اور فلسفہ تاریخ کے بانی علامہ ابن خلدون زوال ملک کے اسباب پر یوں بحث کرتے ہیں: ’’ جب حق تعالیٰ کسی قوم سے ملک چھیننا چاہتا ہے تو اس قوم میں اخلاق ذمیمہ اور ذیل عادتیں پیدا کر دیتا ہے اس لئے وہ لوگ سیاسی خوبیوں سے محروم ہو جاتے ہیں اور جب یہ حرماں نصیبی بڑھ جاتی ہے تو حق تعالیٰ شانہ‘ ان کے قبضے سے ملک نکال لیتا ہے اور کسی دوسری قوم کو دے دیتا ہے تاکہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ ملک سے محرومی اور حکومت کا نکلنا خود ان کے اپنے کرتوتوں کا ثمرہ ہے۔ حق تعالیٰ نے انہیں ملک و عزت کی جو نعمت عطا فرمائی تھی ، وہ ان کی بد اعمالیوں کی وجہ سے ان سے سلب کر لی گئی ہیں۔‘‘ (مقدمہ ابن خلدون، جلد اوّل)
مندرجہ بالا حوالوں کے علاوہ اگر آپ قوموں کے عروج و زوال اور بناؤ و بگاڑ کی تاریخ پر نظر رکھتے ہیں تو یہ اندازہ کر لینا کوئی مشکل نہیں کہ دنیا میں انہیں قوموں کو عروج حاصل رہا ہے جن کی بنیادیں اعلیٰ اخلاق و صفات پر تھیں اور ہمارا ملک تو صوفیوں، سنتوں کا ملک ہے۔ یہاں کیسے یہ گیر انسانی فل دَر آیا؟ دراصل اس کے پیچھے مغربی ملکوں کو وہ ہاتھ ہو سکتا ہے جسے جہاں بھی انسانی اقدار پر مبنی زندگی نظر آتی ہے اسے وہ حیوانی زندگی میں بدل دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا۔ وہ اپنے حصول کے لئے ہر جگہ اپنے زر خرید ایجنٹ چھوڑ رکھے ہیں جو طرح طرح کی لالچ اور دلفریب خواب دکھا کر سب سے پہلے مقتدر لوگوں پر اپنا ہاتھ رکھتا ہے اور اپنا کام کر جاتا ہے جیسا کہ آپ اپنے ہی ملک میں دیکھ رہے ہیں ۔
خود اپنے ہی ملک میں فسطائی قوتوں کے جارحانہ عمل سے جو صورتحال بنتی جا رہی ہے وہ کسی بھیانک طوفان کا ہی پیش خیمہ ہیں۔ ہم نے پہلے ہی اپنی بات کہہ دی تھی کہ اب اکیسویں صدی ہے، عوام باشعور ہوگئے ہیں، حکمران چاہے جو بھی ہوں انہیں عوام کے لئے اب Deliverکرنا پڑے گا جب ہی کامیابی ہوگی وگرنہ ایسی صورتحال روز افزوں دیکھنے کو ملے گا جو ملک کے طول و عرض میں دیکھا بھی جا رہا ہے۔اگر عوام کے خواب کو شرمندۂ تعبیر نہیں کیا تو سب ہی اپنا بوریا بستر گول سمجھیں۔
حقیقت تلخ ضرور ہے لیکن اس کے اظہار میں ہمیں کوئی عار نہیں کہ ہمارے ملک کی سیاسی فکر اور عوامی فکر دونوں میں اس حوالے سے یکسانیت پائی جاتی ہے۔ یعنی اکثر سیاسی جماعتیں اور رائے دہندگان دونوں ہی ذات، فرقہ، برادری اور طبقہ کا چشمہ لگا کر انتخابی معاملوں کو دیکھنے میں یقین رکھتے ہیں۔ جب صورتحال اس قدر ناگفتہ بہ نظر آئے کہ ایک نہایت ایماندار شخص کو صرف اس وجہ سے حاشیہ پر ڈھکیلنا عام ہو کہ وہ جس ذات کی نمائندگی کر رہا ہو، اس کے رائے دہندگان کی آبادی کم ہو اور دوسری ذات کا غلبہ ہو تو ایسے میں تبدیلی کا خواب دیکھنا اور سیاست کی وادی کو صاف و شفاف بنانے کی امید پالنا کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔گذشتہ پینسٹھ سالوں سے جس طرح رفتہ رفتہ جمہوریت کا روپ عجیب و غریب انداز میں تبدیل ہوتا رہا ہے اس نے حساس دل رکھنے والوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ ہر سال آزادی کا جشن منایا جاتا ہے ، ضرور منایا بھی جانا چاہیئے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کبھی جمہوریت کا جشن بھی منایا جائے گا؟ کیا اس کے لئے کوئی موقع ابھی تک نہیں آیا ہے؟ آ ج ہر پاکستانی کے دل میں اس نوعیت کے سینکڑوں سوالات کا اٹھنا ایک لازمی سی بات بن گئی ہے۔جمہوریت کا جشن تو تبھی منایا جا سکے گا جب ملک میں آئیی اصولوں کو اہمیت دی جانے لگے گی۔ بھوکوں کا پیٹ بھرنے لگے گا، ادنیٰ و اعلیٰ کی تفریق باقی نہیں رہ جائے گی،عورتوں کو بیوہ اور معصوم بچوں کو یتیم نہیں بنایا جائے گا، خوف و ہراس کی فضا قائم نہیں ہوگی، اپنی اپنی صلاحیتوں کی بنیاد پر ملازمت کے مساوی مواقع ملنے لگیں گے، عوام کو جمہوریت کا آلہ کار بنا کر نہیں چھوڑا جائے گا۔
مغربی ممالک جہاں جدید تیکنالوجی اپنے نقطۂ عروج پر پہنچ چکی ہے، وہیں وہ اپنی بد اعمالیوں میں بھی بدی کا محور بن چکے ہیں اور جب ان کے اعمال کی غلاظتیں ان کی تباہی کا سبب بننے لگتی ہیں تو یہ دوسرے ملکوں کے سروں پر اندیل دیتے ہیں جیسا کہ آپ آج اپنے ملک میں دیکھ رہے ہیں، گھناؤنے جرائم کے فعل کو پوری قوم پر مسلط کرنے میں آگے آگے نظر آ رہے ہیں۔ ملک کو جس تباہی کی طرف لے جایا جا رہا ہے وہ قوم لوط ؑ کے انجام سے مختلف نہیں، اس لئے ہم حکومت، عدلیہ اور عوام سے گزارش کرنے میں حق بجانب ہیں کہ گھناؤنی سازشیں، گھناؤنے جرائم جیسی بیماریوں سے قوم و ملک کو بچائیں ورنہ عین ممکن ہے جلد ہی کوئی خدائی عذاب نازل ہو جائے اور ہم دین و دنیا دونوں سے ہی محروم ہو جائیں۔ اللہ ہم سب کو غیر فطری عمل سے بچائے اور ہمیں نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

note

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button