تازہ ترینکالممحمد مظہر رشید

شجر کاری مہم

وطن عزیز پاکستان جس خطے میں واقع ہے وہاں مون سون کا موسم ماہ جون سے شروع ہو تا ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت ہر سال شجر کاری مہم شروع کرتی ہے ویسے توحکومت سال میں دو بارماہ فروری اور جون میں شجر کاری مہم بڑے زوروشور سے شروع کرنے کا اعلان کرتی ہے حکومتی نمائندے،اعلی سرکاری افسران اپنے گھر یا دفتر کے لانز میں ایک پودے کا اور اضافہ کر کے اپنے فرض سے سبکدوش ہوجاتے ہیں بڑی بڑی تصاویر بنوالی جاتی ہیں تاکہ سند رہے کہ ملک میں جاری شجر کاری مہم بڑے زوروں پر جاری ہے لیکن لگائے گئے پودے یا درخت کاغذوں میں نظر آتے ہیں،ماہرین معاشیات کہتے ہیں کہ کسی ملک کے کل رقبے کے ۲۵ فیصدحصے پر جنگلات کا ہونا ضروری ہے جنگلات نا صرف ہمیں موسموں کی شدت سے محفوظ رکھتے ہیں بلکہ آلودگی بڑھنے سے بھی روکنے میں ہمارے مدد گار ثابت ہوتے ہیں پچھلے چند سالوں سے وطن عزیز میں بارشیں کم ہوئی ہیں جسکی وجہ سے زرعی شعبہ بہت زیادہ متاثر ہوا ہے خاص طور پر وہ علاقے جہاں بارشوں کے پانی سے فصلوں کو سیراب کیا جاتا ہے بارشوں کی کمی کی سب سے بڑی وجہ ہمارے ہاں موجود درختوں کا بے دریغ قتل اور نئے درختوں میں اضافہ نہ ہونا ہے وطن عزیز ایک زرعی ملک ہے اوراس کی تقریباََ ۵۶ فیصد آبادی براہ راست زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے لیکن دیگر شعبوں کی طرح یہ شعبہ بھی پسماندہ ہے ،ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کے کل رقبے کا ۵فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے جس میں آئے روز کمی واقع ہورہی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ سڑکوں کو کشادہ کرنے کے لیے درختوں کا بے دریغ قتل ہے ہر روز نئی نئی ہاوئسنگ سکیموں کا اعلان کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے درختوں کو کاٹ کرنئے مکانات تو بنا دیے جاتے ہیں لیکن نئے درخت نہیں لگائے جاتے جسکی وجہ سے آکسیجن میں کمی اور آلودگی میں اضافہ ہے سب سے زیادہ خطرناک صورتحال آلودگی میں اضافے سے سانس ، آنکھوں کی بیماریوں میں شدت کا آجانا ہے اگر شجر کاری مہم کو کاغذوں کی حد تک کامیاب قراردیا جائے تو بے جا نہ ہوگا حکومتوں نے اگر یوں ہی ہر شجر کاری مہم کے اختتام پر بڑے بڑے بیانات جاری رکھے تو ایک وقت ایسا آئے گا کہ آلودگی اور موسموں کی شدت کی وجہ سے زندہ رہنا مشکل ہو جائے گا کسی بھی ملک کی ترقی میں نوجوان نسل اہم کردار ادا کرتی ہے ملک کو سر سبز اور آلودگی سے پاک کرنے میں محکمہ تعلیم کا ادارہ بہت اہم کردارادا کرسکتا ہے میری محکمہ تعلیم کے ارباب اقتدار سے گزارش ہے کہ وہ ایک ایسی پالیسی بنائیں جس کے تحت ہر طالب علم شجر کاری میں اپنا حصہ بھر پور طریقے سے ادا کر سکے میر ی تجویز ہے کہ میٹرک کے ٹوٹل نمبروں میں دس نمبر کا اضافہ کیا جائے جو اس طالب علم کو دیے جائیں جو کم از کم ایک درخت لگانے کا تحریری و تصویری ثبوت فراہم کر سکے جس میں لکھا ہو کہ فلاں مقام یا علاقے میں لگایا گیا درخت کتنی عمرکا ہے کس طالب علم نے لگایا اور اس کی کتنی دیکھ بھا ل کی گئی ہے مزید یہ کہ درخت کی عمر کم از کم دو سال سے کم نہ ہواس تحریری وتصویری ثبوت کی ضرورت اس لیے محسوس ہوتی ہے کہ اس پالیسی کو کامیاب بنانا ہے ورنہ دیگر منصوبوں اور پالیسیوں کی طرح یہ بھی کرپش کی نظر ہوجائے گی درخت کی عمر دوسال رکھنے کی تجویز اس لیے دی گئی ہے کہ ہر طالب علم جماعت نہم کے آغاز میں ہی درخت لگائے اور اس کی دیکھ بھال کرے سڑکوں کو درختوں کے کنارے لگانے سے ایک تو آلودگی میں کمی ہوگی دوسرا سفر خوشگوار ہونے کے ساتھ ساتھ سڑکوں کو تیز بارشوں میں بہہ جانے سے روکا جا سکتا ہے اس کے علاوہ موسموں کی شدت میں جو اضافہ ہو رہا ہے درختوں میں اضافے سے ان کو بھی کم کیا جاسکتا ہے شہر اوکاڑہ میں خاص طور پر سڑکوں کے کنارے درخت نہ ہونے کے برابر ہیں جو کبھی ہوتے تھے وہ بھی سڑکوں کو کشادہ کرتے ہوئے کاٹ دیے گئے کسی وقت میں ٹھنڈی سڑک کہلانے والی سڑک اب گرمیوں کے موسم میں آگ بن جاتی ہے جس سے پیدل سفر کرنے والوں کو شدید تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے محکمہ جنگلات کے ارباب اقتدار سے گزارش ہے کہ سڑکوں کے کنارے شجر کاری مہم عملی طور پر شروع کروائیں

یہ بھی پڑھیں  دوستی اپنی جگہ لیکن فیصلے میرٹ پر ہی ہوتے ہیں، محمد حفیظ

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker