پاکستانتازہ ترین

امریکا کیلئے جاسوسی ،ڈاکٹر شکیل آفریدی کو30سال قید کی سزا

پشاور(نمائندہ خصوصی) ڈاکٹر شکیل آفریدی کو امریکا کے لئے جاسوسی کے الزام میں تیس سال قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ڈاکٹر شکیل آفریدی نے اسامہ بن لادن کا پتہ چلانے میں امریکا کی مدد کی تھی۔ذرائع کے مطابق پولیٹیکل انتظامیہ کی جانب سے سنائی گئی سزا میں تین لاکھ بیس ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں  بھائی پھیرو:چار اوباشوں کی گن پوائینٹ پر خاتون خانہ سے گن پوائینٹ زیادتی کی کوشش

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

  1. ایک متوشش پاکستانی کی حیثیت سے مجھے یہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمیں ڈاکٹر شکیل آفریدی کو ایک ہیرو کی حیثیت دینا چاہئیے تھی، بحثیت ایک ڈاکٹر کے وہ دکھی انسانیت کی خدمت ،اپنے دن کے چین اور رات کے آرام کو بھول کر کرتا رہا اور اسکا قبائلی علاقہ میں رہنا قبائلیوں کے حق میں بہتر ہوگا کیونکہ اس علاقہ میں کوئی ڈاکٹر رہنا پسند نہ کرتا ہے۔
    ڈاکٹر آفریدی پاکستانی شہریوں کی ایک مثبت مثال ہےکیونکہ اس نے انسانیت کے دشمن اوراور ہزاروں انسانوں کے قاتل، القائدہ کے بانی لیڈر کو پکڑنے میں اپنے ملک اور بین الاقوامی برادری کی مدد کی۔
    آفریدی کو دوران تفتیش تشدد، کا نشانہ بنا کر آفریدی کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ ہر پاکستانی کا یہ بنیادی حق ہے کہ اس کو وکیل کرنے اور اپنے دفاع میں شہادت پیش کرنے کی اجازت ہو، عدالتی دستاویزات تک رسائی ہو تاکہ وہ اپنا کیس تیار کر سکے اور اپنی اپیل دائر کر سکے۔ نیز اپنے اہل خانہ سے ملاقات کر سکے۔ مگرآخر کیوں ڈاکٹر آفریدی کو اس کے ان حقوق سے محروم رکھا گیا ہے؟

  2. ڈاکٹر آفریدی ایک مثالی پاکستانی ہیں کیونکہ انہوں نے ہزاروں انسانوں کے قاتل اور اسلام کا نام بدنام کرنے والے اور اسلام کی روح کو مجروح کرنے والے ، اسامہ بن لادن کو پکڑوانے میں بین الاقوامی برادری کی مدد کی اور اپنی شہری ذمہ داریوں کا احساس کیا۔
    انسانی حقوق کسی بھی مہذب معاشرہ میں اعلی انسانی اقدار کا پیمانہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹرآفریدی کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی گئی ہے کیونکہ دوران تفتیش تشدد کا استعمال ہوا ، ہر شہری کا یہ بنیادی حق ہے کہ اس کو وکیل کرنے اور اپنے دفاع میں شہادت پیش کرنے، عدالتی دستاویزات تک رسائی کی اجازت ہو ہو تاکہ وہ اپنا دفاع کر سکے اور اپیل دائر کر سکے، دوران قید اپنے اہل خانہ سے ملاقات کر سکے۔ یہ تمام انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں۔ یاد رہے ۲۱ صدی میں انسانیت کی تذلیل ہمارے قومی تشخص پر ایک سیاہ دہبہ تصور ہوگی۔
    …………………………………….
    تازہ بلاگ : اسامہ کی بیواؤں کے سینے میں اب بھی اہم راز پوشیدہ ہیں

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker