تازہ ترینسیّد ظفر علی شاہ ساغرؔکالم

شام پر ممکنہ حملہ ،کیا ایک نئے جنگ کا آغاز ہوگا

zafar ali shah logoشام میں کیا ہورہاہے،کیا اپنی بقاء کی جنگ لڑتا شام اس وقت ایک مشکل دور سے گزر رہاہے یا اس نے دیگر ممالک کو مشکلات سے دوچار کردیاہے ،کیا شام اپنی بقاء کی جنگ لڑنے میں کامیابی سے ہمکنار ہوجائے گا یا دم توڑتا نظر آئے گا مستقبل قریب میں دیگر تہذیبوں کے سامنے،یہ کئی اہم سوال ہیں جن کے جواب فی الوقت ملنا آساں نہیں بہرحال1946 کوفرانس کے تسلط سے آزادی پانے اور دنیا کے نقشے پرایک آزاد ملک کی حیثیت سے ابھرنے والا ملک شام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ مختصر طورپر شام کے نام سے مشہوراور دو کروڑ کے لگ بھگ آبادی کا حامل الجمہوریہ العربیہ السوریہ مشرق وسطیٰ کا بڑااہم ملک ہے جس کی تاریخی حیثیت و اہمیت کو کسی صورت رد اور نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔شام نہ صرف دنیا کے قدیم ترین ممالک میں سے ایک ہے بلکہ انسانی زندگی اور تہذیبوں پر تحقیق کرنے والے تمام محققین اس نکتے پر متفق ہیں کہ زمین کے جس حصے پر پہلی انسانی زندگی کا آغاز ہواتھا اس میں شام بھی شامل تھا۔جغرافیائی احاطے کے لحاظ سے اس کے مغرب میں لبنان،جنوب مغرب میں اسرائیل،جنوب میں اردن،مشرق میں عراق اور شمال میں ترکی واقع ہیں۔بتایاجاتا ہے کہ شام کی آبادی میں اکثریت عربوں کی ہے وہاں اسیریائی،کرد،ترک اور دروز بھی رہتے ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم بتائی جاتی ہے۔اگر تاریخی لحاظ سے ماضی قدیم کے دریچوں میں جھانکاجائے تو دنیا کے قدیم ترین تہذیبوں کے لئے مشہورشام زیادہ تر دیگر مختلف تہذیبوں کے زیرتسلط رہاہے اور اگر اسے خونی سرزمین کہا جائے تو زیادہ غلط نہیں ہوگا کیونکہ ہردور میں یہاں خونی تصادم ہوتے نظر آئے ہیں جن میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ لقمہ اجل بنے ہیں اور اگر ہم ماضی میں سرزمین شام پر رونماء ہونے والے واقعات ،بغاوت اور انقلابات کا ذکر کرنے بیٹھ جائے تو وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ ہاتھ نہیں آئے گااس سے بہتر ہے کہ ہم شام کاتفصیلی تاریخی احاطہ کرنے کی بجائے رواں حالات پر نظر رکھیں کیونکہ شام پر ممکنہ امریکی حملے اور ایک نئی خونی تصادم کے نتیجے میں جو حالات جنم لیں گے ان کا اثر امریکہ اور اس کے کچھ حواریوں پر پڑے یانہ پڑے لیکن شام کے ارد گرد واقع مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک اس بحرانی کیفیت کے باعث مشکلات سے دوچار ضرور ہوں گے اور شائد اس کے اثرات مدتوں قائم بھی رہے۔امریکہ شام پر حملہ کرے گا کہ نہیں یہ موضوع ایک عرصے سے زیر بحث ہے اور اگر بیسویں صدی کے اوآخر میں کویت پر عراقی حملے کو بنیاد بناکر عراق کو پھانسنے یا پھر اکسویں صدی کے آغازز پر افغانستان اور عراق پر امریکی حملوں کے تناظر میں دیکھا جائے کہ امریکہ نے اپنی تھانیداری قائم کرنے کی غرض سے خون کی ندیاں بہانے سے بھی دریغ نہیں کیا تو اس میں زیادہ سوچنے اور حیران ہونے کی ضرورت نہیں رہتی کہ امریکہ شام پر حملہ ضرور کرے گا اور اس کے لئے اس نے پوری تیاری بھی کرلی ہے۔بظاہر تو موجودہ امریکی صدر بارک اوبامہ کا کہنا یہ ہے کہ شامی فوج کی جانب سے کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے جواب میں وہ شام کے خلاف محدود کارروائی کرنے کے منصوبے پر غور کررہے ہیں اور جو ممالک کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ٹھرتے ہیں ان کا احتساب کیا جاناچاہیے۔شام کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی شام پر حملہ کرنے پر غورکرنے میں مصروف ہیں تو دوسری جانب اسرائیل گیس ماسک ڈھونڈ رہاہے جبکہ حقیقت یہ بھی ہے کہ تیل کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ ہورہاہے اور اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ اگر شام پر ممکنہ امریکی حملے سے مشرق وسطیٰ میں جنگ چھڑ گئی تو تیل مزید مہنگا ہوگا اوردینا بھر میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ناقابل یقین اور ناقابل برداشت حد تک بڑھ جائیں گی جو کہ ایک نئے بحران کو جنم لے گا دیگر ممالک کی طرح بھارت بھی تیل کی درآمد پر بہت انحصارکرتاہے شامی تنازعہ شروع ہونے کے بعد بھارتی حکومت نے اپنے شہریوں کو شام کی حدود سے نکل جانے کا کہا تھاجس کے بعد اب وہاں مقیم بھارتی شہریوں کی بہت کم تعداد رہ گئی ہے جبکہ شامی تنازعہ نہ صرف شام کی حدود تک محدود نظرآتاہے بلکہ اس کے پڑوسی ممالک بھی اس سے متاثر ہوتے دکھائی دیں گے یہی وجہ ہے کہ شام کے پڑوس میں واقع ممالک نے بھی ایک نئے بحران سے نمٹنے کی تیاریاں شروع کردی ہیں اس وقت تک موصولہ اطلاعات کے مطابق شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات کرنے والے معائنہ کاروں کی ایک ٹیم دمشق سے لبنان پہنچ گئی ہے مذکورہ ٹیم نے چارروز تک معائنہ کیا ہے ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے سفارت کاروں کو بتایا ہے کہ معائنہ کاروں کی حتمی رپورٹ آنے میں دو ہفتے لگ جائیں گے لیکن تشویش نا ک امر یہ ہے کہ شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کا استعمال ہوا ہے کہ نہیں معائنہ کاروں کی رپورٹ آنے سے قبل ہی شام پر حملے کا پلان بنایا گیا ہے جو اس بات کی کھلی غمازی کرتا ہے کہ حملے کا فیصلہ تو پہلے سے ہوچکاتھا اور یہ کسی بھی طرح حتمی تھا۔اگرچہ اس بات سے اختلاف نہیں کہ شام میں کیمیاوی حملہ نہ ہواہوگا لیکن اس بات کا تعین کون اور کیسے کرے گا کہ اگر شام میں کیمیاوی ہتھیاروں کا حملہ کیا گیا ہے تو ایسا کرنے والے کون تھے کیونکہ شام پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ممکنہ حملے کے لئے فقط یہ جواز ڈھونڈنا کہ شام نے کیمیاوی ہتھیار استعمال کئے ہیں کوئی ٹھ

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button