انور عباس انورتازہ ترینکالم

عتیقہ اوڈھو کی دو بوتل شراب سے ایل ڈی اے پلازہ تک

anwar abasنیتوں کے بھید تو خدا ئے ذوالجلال ہی جانتا ہے۔ویسے بھی شریعت محمدیہ کسی کی نیت پر شک کرنے کو اچھا نہیں قرار دیتی۔لیکن انسان جو دیکھتا ہے ۔اور محسوس کرتا ہے اسے بیان کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔گیارہ مئی سے دو روز قبل لاہور کی بلند ترین عمارتوں میں سے ایک پر شکوہ عمارت’’ ایل ڈی اے پلازہ ‘‘ میں اچانک بھڑک اٹھنے والی آگ نے 28سے زائد قیمتی انسانی جانوں کو نگل لیا تھا۔اس آگ نے ایل ڈی اے پلازہ کی تین منزلوں سات آٹھ اور نو میں تباہی مچائی۔لوہے کی الماریوں مینں سے ایل ڈی اے کے قیمتی ریکارڈ کو باہر نکال کر خاکستر کر دیا۔
مجھے اس سے کویہ غرض نہیں ہے کہ اس ’’سیانی آگ‘‘ کے بے رحم شعلوں کی نظر ہونے والا ریکارڈ کس سے متعلقہ تھا یا ہے۔ اس آگ کی لپیٹ میں آنے والا ریکارڈ میٹرو بس پراجیکٹ کا تھا یا ملک ریاض حسین کی ہاؤسنگ سکیموں سے متعلق تھا۔ اپنے قومی سیاستدانوں کے رویئے پر مجھے حیرت ہوتی ہے۔مجھے یہ جان کر انتہائی دکھ اور قرب محسوس ہوا کہ ہمارے ان قومی سیاستدانوں نے الیکشن کے شور میں اور انتخابات میں اپنی ’’عظیم فتح‘‘ کے نشے میں مخمور مسلم لیگ نواز کی قیادت نے اس آتشزدگی کی نظر ہونے والے اٹھائیس زندگیوں کی ذرا پرواہ نہیں کی۔عوام کے دکھ درد اور غم میں ہلکان ہونے والے میاں نواز شریف سے لیکر تبدیلی لانے کے خوائشمند عمران خاں تک اور جماعت اسلامی سے لیکر جماعت اہل سنت ولجماعت کی لیڈر شپ کو اتنی بھی تو فیق نہیں ہوئی کہ ان غمزدہ خاندانوں کے گھر جا کر ان سے ہمدردی کے دو لفظ کہہ دیتے۔گو اس آگ میں شہید ہونے والوں کے خاندانوں کے ووٹوں کی بھی کوئی قدر و قیمت نہیں تھی۔اگر ہمارے قومی سیاستدانوں کی نظر میں ان کی کوئی اہمیت ہوتی تو یہ ضرور ان کے دروازے پر اظہار ہمدردی کی ’’ دستک ‘‘ دیتے۔اگر میاں نواز شریف اور شہباز شریف خود نہیں جا سکتے تھے تو کم از کم اپنے ہونہار حمزہ شہباز اور مریم نواز کو تو بھیج سکتے تھے ۔اگر ایسا بھی ممکن نہ تھا تو اپنی پارٹی کے تیسرے درجے کے راہنماؤں کو بھیج کر غمزدہ خاندانوں کے زخموں پر مرہم رکھا جا سکتا تھا۔
رہی سہی کسر انسانی حقوق کے ’’کھڑپینچ‘‘ پنجاب کے نگران وزیر اعلی نجم سیٹھی نے پوری کردی کہ انہوں نے بھی غمزدہ خاندانوں کے گھروں میں جانا پسند نہیں کیا۔
ہماری عدلیہ کی نظر میں سب سے زیادہ برے انسان ’’ ملک ریاض حسین آف بحریہ ٹاؤن‘‘ نے خدا ترسی کرتے ہوئے اس آگ کی نظر ہونے والے شہیدوں کے خاندانوں کو پانچ پانچ لاکھ کے چیک دے دئیے گے ہیں۔گو ادا کئے گے ان پانچ پانچ لاکھ روپے سے شہید ہونے والے واپس تو نہیں لائے جا سکتے ۔مگر لواحقین کے مصائب کو کم کرنے میں مدد مل سکے گی۔
سانحہ ایل ڈی اے پلازہ کے حوالے سے اس پہلو کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ آج تک اس آتشزدگی کے اسباب کا کھوج لگانے کے لیے کسی قسم کی کوئی کمیٹی یا کمیشن تشکیل دینے کی خبر سننے اور پڑھنے کو نہیں ملی۔اس سے بڑھ کر ہمارے حکمرانوں کی بے حسی کا ثبوت کیا ہوگا کہ اتنے بڑے سانحہ کے اسباب معلوم کرنے کے لیے کسی قسم کی انکوائری کرنے کی چنداں ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔اور نہ ہمارے ہماری حد سے زیادہ آزاد اور خود مختار عدلیہ نے از خود نوٹس لیکر حقائق جاننے کی کوشش کی ۔حالانکہ ہماری عدلیہ چھوٹی چھوٹی باتوں اور واقعات پر از خود نوٹس لینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتی ۔عتیقہ اوڈھو سے دوبتل شراب پکڑی جائے تو فورا از خود نوٹس لے لیا جاتا ہے ۔مگر یہاں اٹھائیس جانیں لکمہ اجل بن گئیں لیکن کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔ اس سے تو ظاہر ہوتا ہے
پنجاب کی سابق حکومت (خادم اعلی کی حکومت) کو سابق چیف جسٹس ریاض کیانی نے غیر قانونی اور کثیر المنزلہ عمارتوں کی تعمیر سے روک دیا تھا۔اور ساتھ ہی تمام ایسی عمارتوں کو گرانے کابھی حکم دیا گیا تھا ۔مگر خادم اعلی نے تاجروں کے دباؤ پر ہتھیار ڈالتے ہوئے آپریشن ختم کردیا تھا۔
ایل ڈی اے کی عمارت سمیت لاہور میں تعمیر شدہ بڑی بڑی عمارتوں میں حفاظتی انتظامات ’’زیرو‘‘ ہیں۔آگ بھجانے والے فائر فایٹروں کے اپنے تحفظ کے لیے بھی غیر معیار سامان پرچیز کیا جاتا ہے۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ریسکیو اہلکاروں کے پاس بڑی بڑی سیڑھیوں کا فقدان ہے۔جس کے باعث انسانی جانوں کو بچانے میں ناکnote

یہ بھی پڑھیں  اوکاڑہ : پاکستان فلاح پارٹی کوئٹہ میں دہشتگردی کی شدید الفاظ مذمت کرتی ہے.رانا ساجد علی

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker