تازہ ترینشیر محمد اعوانکالم

شرم تم کو مگر نہیں ٓتی

sher muhammad awanمیں نے گاؤں کے اک بزرگ سے پوچھا کہ مرچیں کب لگتی ہیں ۔تو جواب ملا "جب سچ بولیں ” میں انکے جواب پر ششدر رہ گیا ۔میں نے تو مرچ کی کاشت کا موسم پوچھا تھا لیکن انہوں نے زمانے کی تلخ حقیقت بتا دی تھی۔بحرحال اس سے انکا ربھی نہیں کیا جا سکتا کہ سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے۔اور جب سچ کسی امیر، وزیر ، سیاست دان یا حکومت کے بارے میں ہو تو پھر اسکی کڑواہٹ شاید بڑھ جاتی ہے۔ویسے لوگ بھی سیاستدانوں کو کچھ زیادہ ہی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔حالانکہ وہ بھی انسان ہیں۔بھلے عوام کی ڈوبتی سانسوں کے ذمہ دار یہی ہیں پر انسانیت کا تقاضہ یہ نہیں کہ انہیں بار بار تنقید کا نشانہ بنایا جاے۔تنقید کرنے والے الفاظ کے نشتر چبھونے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ وزیر اعظم صاحب کی ہی مثال لے لیں۔ انہوں نے فرمایا کہ جو کام ہم نے کیے ہیں پچھلے پینسٹھ سالوں میں کسی نے نہیں کیے۔ابھی بات انکے منہ سے نکلی ہی تھی کہ تنقید شروع ہو گئی۔کسی نے انکے فرمان کا مفہوم نہیں سمجھا نہ کسی نے اس چونکا دینے والے بیان کی تفصیر لکھنا گوارہ کی۔یہ تو اچھی بات نہیں نا!!!
انہوں نے بجا فرمایا۔جو کام انہوں نے کیے وہ کسی مائی کے لعل سوری حکومت کے لعل نے نہیں کیے۔جسے اس بات پر اعتراض ہے وہ ذرا گزشتہ حکومتوں سے موازنہ کر لے۔ اس حکومت سے پہلے کسی بھی دور میں آپکو اتنی چور بازاری نظر نہیں آئے گی۔ساٹھ سالوں میں سڑکوں پر اتنی لاشیں نہیں بچھی تھی جتنی انکے صرف پانچ سالوں میں بچھائی گئی۔ عدلیہ کی آزادی بھی اسی حکومت کا حصہ ہے وہ الگ بات ہے کہ عدلیہ کا اتنا مذاق اڑایا گیا ہے کہ لگتا ہے عدلیہ آزاد ہے لیکن صرف کتابوں کی تحریر میں یا دیوار پر لکھے نعرے میں ۔پچھلے ساٹھ سالوں میں جتنا قرض پاکستان نے لیا تھا اس سے زیادہ ان پانچ سالوں میں لے کر اس حکومت نے ثابت کر دیا کہ جب بے شرمی سے ہاتھ پھیلائے جائے تو کشکول خالی نہیں رہتے۔بھیک مانگنے اور بھیک لینے کا کوئی موقع ضائع نہ کرنا بھی اس حکومت کا وہ کارنامہ ہے جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔
انڈسٹری کا پہیہ جام ہو چکا ہے۔سڑکوں پر لاشوں کا مینہ بازار اتنی باقاعدگی سے سجتا ہے کہ اب تو درجن لاشیں نہ ہوں تو لوگ پریشان ہو جاتے ہیں کہ خدا خیر کرے کہں حکومت بیدار تو نہیں ہو گئی۔دھماکوں کی گونج ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔پانچ سالوں میں ہر گلی کوچے میں احتجاج اور دھرنے بھی اس حکومت کے کارناموں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔پٹرول اورگیس کی قیمتیں حکومتی عہدیداروں کے وعدوں کی طرح آئے دن بڑھتی ہی رہی۔چلو عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہوا لیکن اس کاروبار سے جڑے چند ہزار لوگ جو منہ میں سونے کا چمچ لے کے پیدا ہوئے ہیں انہوں نے تو خوب استفادہ کیا۔او ر انکے لیے تو یہ بڑا کارنامہ ہے۔ آٹا،چینی،صاف پانی کی قلت،لوڈشیڈنگ،کمر توڑمنہگائی،ٹارگٹ کلنگ،بم دھماکے،ڈرون اٹیک،افراط زر،کرپشن ،اداروں کی زبوں حالی ،عوام کی بڑھتی ہوئی مایوسی ا ور ڈگمگاتی معیشت ،یہ وہ مسائل ہیں جو کسی ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں اگرچہ اس دور حکومت میں یہ مسائل کئی گنا بڑھے لیکن ان سے چھٹکارا پانے کے لیے جتنے وعدے اس حکومت نے کیے اسکی نظیر نہیں ملتی۔ اگرچہ حکومت اپنے عہد وپیماں کی لاج نہیں رکھ سکی لیکن اس عہد شکنی پر کوئی ملامت یا غم شکستگی نہیں کیونکہ وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو ۔
آپ ہی اپنی اداؤں پر ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہو گی
اگرچہ حکومتی کارناموں کی فہرست بہت طویل ہے جن کی بنیاد پر راجہ صاحب نے دعوی کیا کہ جو کارنامے انہوں سر انجام دیے وہ کسی اور نے نہیں دیے ۔لیکن نوک قلم شرمندہ ہو رہی تھی اس لیے اتنے پر اکتفا کیا۔افسوس اس بات کا ہے کہ عوام سمجھتی ہی نہیں۔عوام سے گزارش ہے کہ ہوش کے ناخن لے ورنہ بہت دیر ہو جائے گی ۔وطن عزیز کو ایک بار پھر سے نعروں،جھوٹے وعدوں اور احمقانہ دعووں کی بھینٹ نہ چڑھائیے گا ورنہ پھر شاعر کی بات سچ ثابت ہو گی کہ

میرے وطن کی خزاں مطمن رہے کہ یہاں
خدا کے فضل سے اندیشہء بہار نہیں

note

یہ بھی پڑھیے :

One Comment

Back to top button