احمد رضا میاںتازہ ترینکالم

شریکاں نوں اگ لگ دی۔۔۔

کرموں اب کرموں نہیں رہا اب وہ کرم دین بن چکا ہے۔تبھی تو اُس کے سارے شریکے برادری کے لوگ اُس کی عزت کرنے کی بجائے اُسے کہیں بھی نہیں لکھتے۔ جوتی کی نوک پر بھی نہیں۔۔۔اُن کے لیئے تو کرم دین پہلے بھی کرموں تھا اور مرنے کے بعد بھی کرموں ہی رہے گا۔فیقا تو کرموں سے دیگر رشتہ داروں کی نسبت کچھ زیادہ ہی خار کھاتا ہے حالانکہ وہ اُس کا لنگوٹیا یار ہے۔لیکن اب تو ایسا لگتا ہے کہ ان کا آپس میں پچھلی سات پیڑھیوں میں بھی کوئی تعلق نہیں بنتا۔ دونوں کا بچپن اکٹھے کھیلتے ،شراتیں کرتے،گنوں کی بھری ہوئی ٹرالی سے گنے کھینچتے، باغ سے چوری امرود توڑتے اور پکڑے جانے پر اکٹھے مار کھاتے گذرا ہے۔فیقا صرف کرموں کا لنگوٹیا ہی نہیں بلکہ اُس کا چاچے کا پتر بھی ہے اور دونوں کا گھر بھی آمنے سامنے ہے۔ دونوں جوان ہوئے تو لگتا تھا کہ دونوں مریں گے بھی ایک ساتھ۔۔۔ دونوں کی شادیاں بھی تقریباً ایک ساتھ ہوئیں۔ شادی کے بعد کچھ عرصہ تو سب ٹھیک چلتا رہا اور برادری والے اُن کی دوستی اور یارانے کی مثالیں دیتے رہے۔ فیقے کی بیوی کھاؤ اُڑاؤ تھی جبکہ کرموں کی بیوی گھر سنوارنے والی ا ور سگھڑ ثابت ہوئی۔ وہ فیقے کی بیوی کو بھی گھر چلانے کے گر بتاتی رہی لیکن اُس پر اس کی باتوں کا کوئی اثر نہ ہوا۔۔۔ کرموں کی بیوی نے کمیٹیوں کے پیسوں اور اپنا زیور بیچ کر کرموں کو دبئی بھجوا دیا ۔ کرموں کی دس بارہ سال کی دن رات کی محنت نے اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی حالت بدل کے رکھ دی ۔ اب وہ ایک شاندار گھر اور ایک کامیاب کاروبار کا مالک ہے جبکہ فیقا اب بھی اُسی فیکٹری میں مزدور ہے جہاں کرموں بھی اُس کے ساتھ ہوتا تھا۔۔۔ فیقے کے بچے بھی اپنے ماں باپ پر گئے ہیں۔ آپس میں لڑائی جھگڑا مار کٹائی کے علاوہ گلی محلے کے بچوں سے پنگا بھی اُن کے مشاغل میں شامل ہے۔ ماں باپ کی شہ پر کرموں یعنی کرم دین کے گھر کی بیل بجا کر بھاگ جانا اور پتھر مار کر کسی نہ کسی کھڑکی کا شیشہ توڑ دینا اُن کا روز کا معمول ہے اور جب کبھی کرم دین کی بیوی اُن کی شکایت لے کر فیقے کے گھر جاتی ہے تو بجائے اپنے بچوں کو سمجھانے کے وہ اُلٹا کرم دین کی بیوی پرہی گلے شکوں کی بچھاڑ کر دیتی۔ہاں ہاں اب تو آپ لوگوں کو ہمارے بچے بھی زہر لگنے لگے ۔ دولت کیا آگئی تم لوگ تو ہمارے دشمن ہی ہو گئے ۔ کرم دین کی بیوی دل پر پتھر رکھ کر واپس آ جاتی اور یہ افواہ جنگل کی آگ کی طرح پورے شریکے میں پھیل جاتی کہ آج کرموں کی بیوی فیقے کی بیوی سے لڑنے اُس کے گھر پہنچی ہے اور دھمکیا ں دے کر گئی ہے۔ توبہ توبہ دولت نے تو خدا ہی بھلا دیا ہے ان لوگوں اتنی اکڑ۔۔۔!!!
اب تو کرم دین نے نئی گاڑی بھی لے لی ہے جس سے فیقے سمیت پورے شریکے کی آگ مزید بھڑک اُٹھی ہے۔گلی میں کھڑی کرم دین کی گاڑی فیقے اور اُس کی بیوی کو کاٹنے کو دوڑتی ہے ۔ اُن کا تو بس نہیں چلتا کہ وہ گاڑی کو آگ ہی لگا دیں۔۔۔ لیکن یہ کام اُن کے بچوں نے کر دکھایا ہے۔ شروع شروع میں تو اُنہوں نے صرف گاڑی پر سکریچ ہی ڈالے تھے جس کو کرم دین نے بدمزگی پیدا ہونے کے ڈر سے در گذر کر دیا تھا لیکن آج۔۔۔!!!
آج کرم دین اپنی گاڑی کی پچھلی سکرین پر بڑے شوق اور محبت کے ساتھ لکھوا کر لایا تھا’’ یہ سب میری ماں کی دعا ہے‘‘ اُس نے کاڑی باہر گلی میں کھڑی کر دی تھی اور خوشی خوشی اپنی بیوی کو بتانے کے لیئے گھر میں داخل ہی ہوا تھا کہ گلی میں کچھ ٹوٹنے کی آواز آئی ا ور شور سا مچ گیا باہر جا کر دیکھا تو کرم دین کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی اور وہ حیران تھا کہ یہ سب اُس کے ساتھ کیا ہو گیا ہے۔کسی بچے نے شرارت سے اُس کی گاڑی کی پچھلی سکرین پر پتھر دے مارا تھا جس سے وہ ریزہ ریزہ ہو چکی تھی۔ اور باہر جمع ہوئے بچے شور مچا رہے تھے کہ فیقے کے بڑے بیٹے نے پتھر مارا ہے۔کرم دین کی قوت برداشت اب جواب دے چکی تھی اُس نے فیقے کو للکارافیقا تو شائد پہلے ہی جھگڑے کے لیئے تیار بیٹھا تھا لیکن محلے کے لوگوں نے بچ بچا وکروا دیا ۔ بعد میں محلے کی امن کمیٹی بیٹھی جس نے تفتیش کے بعد فیقے کو قصور وار ٹھہرا دیا اور فیصلہ یہ ہوا کہ یا تو فیقا کرم دین کا نقصان پورا کرے یا پھر ہمیشہ کے لیئے خود کو اور اپنے بیوی بچوں کو ان حرکتوں سے باز رکھے اور کرم دین کے خلاف کوئی بھی غلط قدم نہ اُٹھائے۔۔۔ پہلے تو فیقا اپنی برادری کے چند شر پسند عناصر کی شہ پر کافی اُچھلا کودا لیکن آخر کا ر اُسے محلے کی کمیٹی کے آگے ہتھیار ڈالنا پڑے۔ اُس نے کرم دین سے معافی تو مانگ لی تھی لیکن حسد کی آگ اُس کے سینے میں ختم نہیں ہوئی اور اس بات کو کرم دین بھی اچھی طرح جان چکا تھا۔۔۔کرم دین نے گاڑی کی نئی سکرین ڈلوا لی ہے اور اُس پر لکھوا یا ہے۔’’ شریکاں نوں اگ لگ دی‘‘ وہ اس لیئے کہ کرم دین اب چاہتا ہے کہ اُس کے شریک اُس کی دولت اور شان و شوکت پر مزید جلیں بلکہ اپنی ہی آگ میں جل جل کر کوئلہ ہو جائیں۔

یہ بھی پڑھیں  سعودی وزیر دفاع شہزادہ محمدبن سلمان کا پاکستان کا دورہ کریں گئے

یہ بھی پڑھیے :

Back to top button

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker